آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آسکرز: اداکار ول سمتھ نے تھپڑ مارنے پر کامیڈین کرس راک سے معافی مانگ لی، آسکرز اکیڈمی کا تحقیقات کا اعلان
بہترین کارکردگی کا آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے اداکار ول سمتھ نے اس تقریب کے دوران سٹیج پر جا کر تھپڑ مارنے پر کامیڈین کرس راک سے معافی مانگ لی ہے۔
وِل سمتھ نے اپنے بارے میں یہ بھی کہا کہ ان کا رویہ ناقابل قبول تھا جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔
اپنے ایک بیان میں ول سمتھ نے کہا کہ ’کرس میں سرعام آپ سے معافی کا خواستگار ہوں۔ مجھ سے چُوک ہوگئی اور میں غلطی پر تھا۔‘
خیال رہے کہ اداکار ول سمتھ نے معروف کامیڈین کرس راک کو سٹیج پر اس وقت تھپڑ جڑا جب کرس نے ان کی اہلیہ جیڈا پنکیٹ سمتھ کا مذاق اڑایا تھا۔
یوں فلمی دنیا کے سب سے معتبر اعزاز سمجھے جانے والے آسکرز ایوارڈز کی تقریب جہاں اپنے رنگارنگ پروگرامز اور انعامات کے لیے یادگار رہی وہیں اس بار معروف اداکار ول سمتھ کے تھپڑ کی گونج سب سے زیادہ حیران کن تھی۔
کامیڈین کرس راک نے پنکیٹ سمتھ کے منڈے ہوئے سر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'جیڈا، ہم جی آئی جین 2 کا زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔‘
اس کے بعد سمتھ چلتے ہوئے سٹیج پر گئے اور راک کو تھپڑ مارتے نظر آئے جبکہ واپس اپنی سیٹ پر آتے ہوئے انھوں نے چيخ کر کہا 'میری بیوی کا نام اپنے۔۔۔ منھ سے نہ نکالنا۔'
بہر حال پھر سمتھ نے بعد میں پرنم آنکھوں کے ساتھ بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کرتے وقت اپنی تقریر میں اپنی اس حرکت پر معافی مانگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسکرز فلم اکیڈمی نے ول سمتھ کے اس فعل کی مذمت کی اور اس معاملے پر باقاعدہ نظرثانی کا اعلان کیا۔
اکیڈمی نے کہا کہ وہ اپنے قواعد کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کرے گی اور پھر یہ دیکھے گی کہ قواعد کے مطابق اس کی کیا سزا بنتی ہے۔ اکیڈمی کے مطابق ول سمتھ کو سٹینڈرڈ آف کنڈکٹ کیلیورنیا کے قانون کے تحت اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ول سمتھ نے اپنے بیان میں مزید کیا کہا؟
انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے اپنے بیان میں ول سمتھ نے کہا کہ تشدد کسی بھی شکل میں زہریلا اور تباہ کن ہے۔
ول سمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ گذشتہ رات اکیڈمی ایوارڈ کی تقریب میں میرا رویہ ناقابل قبول تھا جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے متعلق مذاق تو عام بات ہے مگر جیڈا کی طبی حالت پر مذاق میری برداشت سے باہر تھا اور ایسے میں پھر میں نے جذبات میں ردعمل دیا۔
ول سمتھ نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ غلطی پر تھے کرس راک سے براہ راست معافی مانگ لی۔ انھوں نے اکیڈمی اور ولیمز کے خاندان سے بھی مانگی ہے۔
اپنے بیان میں وِل سمتھ نے لکھا کہ ’مجھے بہت افسوس ہے کہ میرے رویے نے ہم سب کے لیے ایک خوبصورت سفر کو داغدار کر دیا۔‘
سمتھ نے فلم 'کنگ رچرڈ' میں ٹینس لیجنڈ وینس اور سرینا ولیمز کے والد کا کردار ادا کرنے پر اپنے کریئر کا پہلا آسکر جیتنے کے بعد کہا 'میں اکیڈمی سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے تمام ساتھی نامزد افراد سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔‘
'فن زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ میں پاگل باپ کی طرح ہوں، جیسا کہ رچرڈ ولیمز کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ لیکن محبت میں (بعض اوقات) آپ پاگل حرکت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔'
واضح رہے کہ جیڈا پنکیٹ سمتھ اس سے قبل اپنے بالوں کے گرنے کی اپنی حالت ایلوپیشیا کے بارے میں بات کر چکی ہیں۔
اس واقعے کے فوراً بعد کرس راک ششدر نظر آئے اور انھوں نے سامعین سے کہا 'یہ ٹیلی ویژن کی تاریخ کی سب سے بڑی رات ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
اس کے بعد انھوں نے بہترین دستاویزی فلم کا انعام دیا کیونکہ وہ اس انعام کو دینے کے لیے بھی سٹیج پر موجود تھے۔
ان کا لطیفہ سنہ 1997 میں آنے والی فلم 'جی آئی جین' کے حوالہ سے تھا، جس میں اداکارہ ڈیمی مور نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور ان کے بال منڈے ہوئے تھے۔
سٹیج کے پیچھے جھٹکا
آسکر میں انٹرٹینمنٹ رپورٹر اسٹیون میکنٹوش کا تجزیہ
یہاں لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں راک کے ساتھ سمتھ کے سلوک پر صحافیوں کی جانب سے حیران کن ردعمل سامنے آیا ہے۔
سٹیج کے پیچھے پس پردہ رپورٹرز روایتی طور پر پریس کانفرنس میں حصہ لے رہے تھے، جہاں فاتحین ایوارڈز حاصل کرنے کے بعد کی جانے والی اپنی تقریروں کے بعد سوالات کے جوابات دینے آتے ہیں۔
لیکن اچانک ہماری توجہ ہمارے سروں پر لگی سکرینوں کی طرف مبذول ہو گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ تقریب میں کوئی سنجیدہ چیز ہوئی ہے۔
پہلے پہل تو یہ کوئی لطیفہ یا کسی قسم کا سیٹ اپ لگا۔ یہاں تک کہ جب راک نے سمتھ کی اہلیہ کے بارے میں اپنی لائن پیش کی، جس میں انھوں جیڈ کی جی آئی جین سے مشابہت کی بات کہی تو سمتھ ہنستے ہوئے نظر آئے۔ لیکن جیڈا ناراض نظر آئيں، تاہم اس وقت یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ معمول کا حصہ ہے۔
شبہات اس وقت پیدا ہونے لگے جب سمتھ اپنی سیٹ سے اٹھے اور سٹیج پر جاکر راک کو تھپڑ جڑ دیا۔
یقیناً، یہ دونوں لوگ فلم اور ٹیلی ویژن کے تجربہ کار اداکار ہیں، اور یہ جانتے ہوں گے کہ سٹیج پر جھوٹ موٹ کا تھپڑ کیسے مارنا ہے۔ لیکن پھر سب سوچنے لگے تھے، یہ اتنا جعلی نہیں تھا۔
اس وقت تک سمتھ اپنی سیٹ پر واپس جا بیٹھے تھے اور راک سے چیخ کر کہہ رہے تھے کہ 'میری بیوی کا نام اپنے منھ سے نہ نکالنا'۔ اب یہ واضح تھا کہ یہ کوئی خاکہ نہیں تھا۔ سمتھ جیسا پیشہ ور ٹی وی نشریات کے دوران سٹیج پر ایف-بم گرانے سے بہتر جانتا ہے۔
گھروں سے انعامات کی تقریب دیکھنے والے ناظرین نے یہ نہیں سنا کیونکہ براڈکاسٹ نیٹ ورک اے بی سی نے لائیو فیڈ کو کاٹ دیا تھا تاکہ گھر پر موجود ناظرین کی دل آزاری نہ ہو۔
سوشل میڈیا پر رد عمل
سوشل میڈیا پر اس کے تعلق سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر 'آسکر' اور 'اکیڈمی ایوارڈز' ہیش ٹیگ کے ساتھ 'ول سمتھ' اور 'جیڈا' بھی ٹرینڈ کرنے لگے۔
خود کو جمالیات کا پیرو بتانے والے شان گیرٹ نے لکھا 'بالوں پر مذاق کرنا اور وہ بھی ایسی صورت حال میں جب جیڈا ایلوپیشیا کی شکار ہوں، بہت بدتمیزی ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب پورا کمرہ ان کے ساتھیوں سے بھرا ہو۔ آپ نہیں جانتے کہ اس کا ان پر کیسا اثر ہوا ہوگا۔'
مصنف سعید جونز نے ایک کولاج پیش کیا ہے جس میں بہت سے معروف افراد کے ردعمل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا: 'ول، کرس اور جیڈا کے درمیان کیا ہوا ہم سب نے ابھی دیکھا۔'
جبکہ اداکارہ اور ایکٹوسٹ صوفیہ بش نے لکھا: تشدد ٹھیک نہیں۔ مار پیٹ کبھی جواب نہیں ہو سکتا۔ یہ دوسری بار ہے کہ کرس نے آسکرز میں جیڈا کے بارے میں مذاق کیا اور آج تو وہ ان کی بیماری کے پیچھے پڑ گئے۔ کسی کے مرض کا مذاق اڑانا غلط ہے۔ دانستہ طور پر ایسا کرنا ظالمانہ ہے۔ دونوں کو کھلی ہوا میں سانس لینے کی ضرورت ہے۔'
مصنف میٹ بلاسائی نے لکھا کہ مجھے وہ لمحہ دیکھنے کی ضرورت ہے جب ول سمتھ اس لطیفے پر ہنس رہے تھے لیکن جب انھوں نے جیڈا کو دیکھا کہ وہ بے چین ہو گئیں ہیں تو انھیں محسوس ہوا کہ ان کو کچھ کرنا چاہیے۔'
ایلن نامی صارف نے لکھا کہ 'آسکر جیتنے کے لیے ول سمتھ کو تین دہائیاں لگ گئیں (انھیں کنگ رچرڈ کے کردار کے لیے بہترین اداکار کا انعام دیا گیا) لیکن یہ ان کے لیے اس لیے بھی یادگار بن گیا، جب انھوں اپنی اہلیہ جیڈا کے متعلق کیے گئے 'گنجے مذاق' پر کرس راک کو طمانچہ جڑ دیا۔'
ایلوپیشیا کے بارے میں بات
پنکیٹ سمتھ نے پہلی بار سنہ 2018 میں اپنے فیس بک چیٹ شو ریڈ ٹیبل ٹاک کی ایک قسط میں بالوں کے جھڑنے کی جدوجہد کے بارے میں بات کی تھی۔
انھوں نے اس میں کہا تھا کہ 'مجھے بالوں کے گرنے کے مسائل کا سامنا ہے۔ اور جب پہلی بار اس کا علم ہوا تو یہ خوفناک تھا۔'
'گرلز ٹرپ' کی سٹار نے کہا کہ شاور کے دوران 'مٹھی بھر بال' ہاتھ میں آنے کے بعد انھیں شک ہوا کہ انھیں ایلوپیشیا ہو گيا ہے۔
'مجھے احساس ہوا کہ خدایا میرا سر گنجا ہوجائے گا؟' یہ میری زندگی کے ان اوقات میں سے ایک تھا جب میں حقیقی طور پر خوف سے کانپ رہی تھی۔'
انھوں نے واضح کیا کہ اس کے بعد سے انھوں نے بال چھوٹے کر دیے اور انھیں کٹواتی رہتی ہیں۔