مصنوعی ذہانت کا تجزیہ: بالی وڈ میں گورے رنگ اور بیٹوں کے لیے پایا جانے والا جنون جو اب کم ہو رہا ہے

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
  • وقت اشاعت

کیا انڈیا کی فلم انڈسٹری جسے بالی وڈ بھی کہا جاتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ترقی پسند ہو گئی ہے؟

مصنوعی ذہانت کے ذریعے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اس سوال کا جواب ہاں بھی ہے، اور نہیں بھی۔۔ اس تحقیق میں پچھلے ستر سال میں بننے والی سینکڑوں فلموں کے مکالموں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

بالی وڈ کی کل مالیت دو اعشاریہ ایک بلین ڈالر ہے، یہاں ہر سال سینکڑوں فلمیں بنتی ہیں اور ان فلموں کے مداح دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ مداح فلمی ستاروں کی پذیرائی کرتے ہیں، ان کی صحت اور خوش حالی کے لیے دعائیں کرتے ہیں، یہاں تک ان کے نام پر مندر بناتے ہیں اور خون عطیہ بھی دیتے ہیں۔

بالی وڈ پر قدامت پسندی، خواتین کے بارے میں نفرت آمیز مواد، رنگ کی بنیاد پر تعصب اور صنفی امتیاز کو فروغ دینے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ لیکن ان موضوعات اور بالی وڈ میں پائے جانے والے تعصبات پر اب تک کوئی وسیع تحقیق نہیں کی گئی۔

اسی کمی کو پورا کرنے کے مقصد سے امریکہ کی کارنیگی میلون یونیورسٹی کے کنال کھاڑلیکر اور عاشق الرخدا بخش نے سنہ 1950 سے سنہ 2020 کے درمیان بنائی جانے والی ایک سو مقبول ترین فلموں کا انتخاب کیا ہے۔

دونوں ہی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بالی وڈ کے بڑے فین ہیں۔ اس کی بعد انھوں نے زبان کا جائزہ لینے والے خودکار پروگرامز میں ان فلموں کے مکالموں کے سب ٹائٹل یہ دیکھنے کے لیےڈال دیے کہ کیا وقت کے ساتھ ساتھ بالی وڈ کے رویوں اور تعصبات میں تبدیلی آئی ہے یا نہیں، اور اگر آئی ہے تو وہ کس طرح کی ہے۔

خدابخش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'فلمیں معاشرے میں موجود تعصبات کی عکاسی بھی کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کی زندگیوں کو بہت زیادہ متاثر بھی کرتی ہیں۔ ہماری اس تحقیق سے ہمیں انڈیا کے پچھلے ستر برس کے ارتقا کو فن کے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملا۔'

بالی وڈ دنیا کی دیگر فلم انڈسٹریز کے مقابلے میں کس مقام پر ہے اس کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے ہالی وڈ کی 700 اور آسکر فلم ایوارڈز میں غیر ملکی فلموں کی فہرست میں نامزد کی جانے والی اور ناقدین کا دل جیتنے والی 200 فلموں کا بھی انتخاب کیا ہے۔

نتائج بہت دلچسپ تھے - بالی وڈ متعصب ہے، مگر ہالی وڈ بھی ہے۔ اور دونوں ہی میں پچھلے 70 برس میں معاشرتی تعصب میں کمی آئی ہے۔

کنال کھاڑلیکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ستر سال میں ہم نے کافی طویل سفر طے کیا ہے لیکن منزل اب بھی کافی دور ہے۔'

محققین نے جن سوالوں کا جواب جاننے کی کوشش کی ہے ان میں سے ایک انڈیا میں بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے کے رجحان کے متعلق بھی تھا، اور دوسرا جہیز کے بارے میں۔ نتائج کے مطابق دونوں ہی میں زبردست کمی آئی ہے۔

مسٹر خدابخش کہتے ہیں: 'سنہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں فلموں میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے 74 فیصد لڑکے ہوتے تھے۔ سنہ2000 تک آتے آتے یہ گر کر 54 فیصد ہو گیا تھا۔ یہ کافی بڑی تبدیلی ہے لیکن صنفی برابری پھر بھی نہیں آئی ہے۔'

مسٹر خدابخش کے مطابق انڈیا میں 'بیٹوں کو ترجیح' دینے کے رجحان کی وجہ جہیز کی رسم ہے۔ ویسے تو جہیز کو سنہ 1961 میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا، لیکن آج بھی زیادہ تر شادیوں میں لڑکی والوں سے روپے پیسے، زیور اور تحائف کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں دلھنوں کو ناکافی جہیز کی وجہ سے مار دیا جاتا ہے۔

مسٹر خدابخش کہتے ہیں: 'جب ہم نے ڈیٹا بیس پر نظر ڈالی تو ہمیں پتہ چلا کہ پرانی فلموں میں جہیز لفظ کا استعمال پیسے، قرض، زیور، فیس، اور لون جیسے الفاظ کے ساتھ کیا جاتا تھا، یعنی اس رسم کو ایک طرح سے قبولیت حاصل تھی۔ تاہم جدید فلموں میں ہمت اور انکار جیسے الفاظ سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ یہ رجحان بدل رہا ہے۔ ساتھ ہی طلاق اور مصیبت جیسے الفاظ بھی نظر آتے ہیں۔'

اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ تعصب اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے۔ جیسے کہ گوری رنگت کو ترجیح دینا۔

کنال کھاڑلیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تحقیق کاروں نے 'خالی جگہ پر کرو' والی مشق کے ذریعے یہ سوال کیا کہ: 'ایک خوب صورت عورت کی جلد _______ ہونی چاہیے' تو جواب ہر بار 'گوری' آیا۔ ہالی وڈ فلموں کے سب ٹائٹلز میں بھی یہی نتائج سامنے آئے، حالانکہ وہاں یہ فرق اتنا واضح نہیں تھا۔

کنال کھاڑلیکر کے کہا: 'اس تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ بالی وڈ میں خوب صورتی اور گوراپن تقریبا مترادف ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

تحقیق سے ذات کی بنا پر تفریق اور تعصب کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ ڈاکٹروں کے ناموں کا جائزہ لیں تو 'اونچی ذات کے ہندوؤں کے حق میں ایک واضح تعصب' نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ جہاں ایک طرف ملک کی اقلیتی برادریوں کی عکاسی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں مسلمانوں کو جو کہ انڈیا کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، آبادی میں انھیں ان کے تناسب کے حساب سے نہیں دکھایا جاتا ہے۔

شبھرا گپتا ایک فلم نقاد ہیں اور 'فِفٹی فلمز دیٹ چینجڈ بالی وڈ' نامی کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'زیادہ تر فلم ساز اونچی ذات، اعلی طبقے اور اکثریتی مذہب کو ذہن میں رکھ کر فلمیں بناتے ہیں کیونکہ خود ان کا تعلق انہی برادریوں سے ہے۔'

شبھرا گپتا کا کالم انڈین اخبار 'دی انڈین ایکسپریس' میں شائع ہوتا ہے اور اس میں وہ اکثر 'قدامت پسند، عورت مخالف اور پدرشاہی کے نظریے کو فروغ دینے والی' فلموں پر سخت تنقید کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بالی وڈ کی فلموں میں بڑے ہیرو کا تقریبا ہمیشہ ہی ہندو نام ہوتا ہے اور مسلمانوں کو روایتی زاویے سے ہی پیش کیا جاتا ہے۔ انڈیا میں ناظرین ناچ گانے سے بھرپور مسالے دار فلمیں دیکھنے سینیما جاتے ہیں، تو فلم ساز بھی آزمائے ہوئے پلاٹ ہی استعمال کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہر کچھ عرصے بعد ایک ایسی فلم سامنے آتی ہے جو آپ کو حیران کر دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی 10 ایسی فلمیں بھی ہوتی ہیں جو وہی گھسے پٹے پلاٹ دہراتی ہیں۔

شبھرا گپتا کہتی ہیں: 'یہ انڈسٹری خطرے مول لینے والی نہیں۔ فلم ساز کہتے ہیں کہ وہ ناظرین کو وہی دے رہے ہیں جو وہ چاہتےہیں، اور وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ناظرین ناراض ہو گئے تو ان کا کیا ہوگا۔'

لیکن، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر کورونا وائرس کی وبا کے دوران او ٹی ٹی پلیٹفارمز پر دکھائے جانے والے مواد کی مقبولیت دیکھی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ 'حقیقی تبدیلی ممکن ہے'۔

وہ کہتی ہیں: 'ہمیں ایک عالمی وبا کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ سمجھنے کے لیے کہ ناظرین گھسے پٹے خاکوں سے آگے دیکھنے کو تیار ہیں۔ اور جب ناظرین یہ کہیں گے کہ طاقت ہمارے پاس ہے، ہم بہتر مواد کا مطالبہ کرتے ہیں، اس صورت میں فلم سازوں کو بہتر فلمیں بنانی ہوں گی۔ بالی وڈ کو بدلنا ہوگا۔'