مرزاپور کے گڈو بھائی ’علی فضل‘: ’کردار کی تیاری میں ماموؤں سے متاثر ہوا‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/PrimeVideoIn
- مصنف, ثمرہ فاطمہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
حال ہی میں معروف انڈین ویب سیریز مرزاپور کے دوسرے سیزن کا ٹریلر جاری کیا گیا ہے اور شائقین میں زبردست پذیرائی حاصل کرنے والی یہ سیریز اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایمازون پرائم پر ریلیز ہو رہی ہے۔
جہاں اس سیریز کا کئی لوگ شدت سے انتظار کر رہے ہیں تو وہیں اس کی ریلیز کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔
لیکن اس بات سے قطع نظر، یہ بات تو طے ہے کہ اس سیریز نے دیکھنے والوں پر ایسا تاثر چھوڑا ہے کہ آج کل انٹرٹینمنٹ کے شائقین اسی کی بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مرزا پور میں ایک کردار گڈو پنڈت کا بھی ہے جسے دیکھنے والوں کی جانب سے کافی سراہا گیا۔ یہ کردار نبھایا ہے علی فضل نے جنھوں نے بالی وڈ کی تاریخ ساز فلموں میں سے ایک ’تھری ایڈیٹس‘ سے اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی۔
بی بی سی اردو نے علی فضل کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے اس سیریز میں انتخاب سے لے کر اس کے دوسرے سیزن تک کا تجربہ کیسا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مرزا پور کے دوسرے سیزن کے بارے میں علی فضل کہتے ہیں کہ یہ بدلے سے متعلق ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایک واضح جذبہ تو لوگوں میں یہی پیدا ہوتا ہے کہ بدلہ تو ہو گا کیونکہ عوام کو کہانی کے اختتام کی عادت سی پڑ گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر کیا اس سیزن کی کہانی متوقع سی ہو گی؟ اس پر وہ کہتے ہیں کہ جس طرح مرزا پور کے پہلے سیزن میں تشدد بھی تھا، سچائیاں بھی تھیں، تلخ حقیقتیں بھی تھیں اور پھر ایک کافی غیر متوقع اختتام بھی تھا تو اس مرتبہ بھی ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی جس پر لوگوں کو حیرانی بھی ہو گی۔
وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ دو برسوں سے شائقین نے مرزاپور کو خبروں میں رکھا ہوا ہے اور اس حوالے سے مختلف تشریحات کی جاتی رہی ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ کسی نہ کسی کو اندازہ ہوگیا ہو کہ سیریز میں کیا ہونے والا ہے لیکن چونکہ کاسٹ اتنی بڑی ہے، اس لیے بالکل ٹھیک اندازہ لگانا بہت مشکل ہوگا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
علی فضل کہتے ہیں کہ اپنے کردار کو بھی وہ ایک نئے انداز سے پیش کر رہے ہیں اور اس کے بارے میں وہ کہہ نہیں سکتے کہ وہ عوام میں مقبول ہو گا یا نہیں ’مگر ایک رسک لیا ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘
بالی وڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اداکاروں کو عموماً ایک ہی قسم کے کرداروں کی پیشکش کی جاتی ہے جسے ٹائپ کاسٹنگ بھی کہتے ہیں، مثلاً کسی اداکار کو بس کسی مخصوص قسم کے کرداروں تک ہی محدود کر دینا، مگر علی فضل کے ابتدائی کردار مرزا پور میں ان کے کردار سے کافی مختلف رہے ہیں جس میں انھیں باڈی بلڈر، غنڈہ گردی سے متاثر شخص دکھایا گیا ہے، تو سوال یہ ہے کہ انھیں یہ کردار کیسے ملا؟
اس سوال پر وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے تو مرزا پور بنانے والی انٹرٹینمنٹ کمپنی کو داد دینی پڑے گی۔
'ایک دو لوگ تھے جن کے بارے میں میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن انھوں نے میرا نام آگے بھیجا۔ ہماری امیج کے حساب سے رول ملتے ہیں، آپ نے گذشتہ جمعے کو جو کیا ہے اسی کے حساب سے آپ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر میں کوئی پروڈیوسر ہوتا تو میں بھی ایسا ہی سوچتا۔ لیکن اس میں مجھے کھیلنے کی گنجائش ملی، جس میں مجھے لگا کہ میں کچھ ایسا میز پر لا سکتا ہوں جو تھوڑا الگ ہو، میرے ذہن میں بھی گڈو کا ایک تاثر تھا، وہ بڑا اچھا لگا کہ کسی نے سوچا کہ میں اس کردار میں فٹ ہوں گا۔'

،تصویر کا ذریعہAmazon Prime
علی فضل کا تعلق بھی لکھنؤ سے ہے جبکہ مرزاپور کی کہانی میں بھی لکھنؤ، جون پور، اعظم گڑھ اور مرزا پور وغیرہ کے علاقے دکھائے گئے ہیں تو کیا ایسا کوئی کردار تھا جنھوں نے انھیں متاثر کیا؟
’حقیقت میں میرے ماموں ایسے تھے۔ بچپن میں میرے دونوں مامؤں کے نام گڈو اور ببلو تھے جبکہ ماں کو پموں کہتے تھے‘۔
وہ کہتے ہیں کہ ویسے تو گڈو کافی پرتشدد کردار ہے مگر کردار کی کچھ باریکیاں انھوں نے اپنے ماموؤں سے اٹھائیں جن کے نام گڈو اور ببلو تھے۔ تو عجیب سا اتفاق تھا، اور ان کے ادب و آداب ان میں بھی آئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ظاہر ہے کہ زبان بہت الگ تھی اور انداز بدل جاتے ہیں اور بنارس، اعظم گڑھ وغیرہ میں ایک ہی لفظ کو کہنے کا انداز بدل جاتا ہے 'تو ایسی چیزیں تھیں جن پر توجہ دی گئی۔'
مرزا پور کو تیار کرنے میں ایک ہی سیزن میں تین مختلف ہدایت کاروں کا ہاتھ ہے تو کیس اس سے انھیں اپنے کردار ادا کرنے میں دشواری تو نہیں ہوتی، اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’ابھی تک انڈیا میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ ہر قسط میں نیا ڈائریکٹر ہو لیکن ہالی وڈ میں ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن مجموعی سمجھ ہر کسی کو ہوتی ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ مرزاپور ون میں کرن، انشمن اور گرمیت ساتھ تھے جس میں کرن ڈراما مناظر اور گرمیت ایکشن مناظر پر کام کرتے تھے‘۔
وہ بتاتے ہیں ’پھر کچھ ہی ہفتوں میں کرن کو جانا پڑا اور گرمیت نے ان کی جگہ لی، تو اس لیے پہلا سیزن پورا گرمیت نے ہی ڈائریکٹ کیا تو اس میں زیادہ مسئلہ نہیں تھا۔ سیزن ٹو میہیر اور گرمیت دونوں نے ڈائریکٹ کیا ہے‘۔
لیکن علی فضل عرف گڈو بھیا کا کہنا ہے کہ خاص کمال تو مرزاپور کے لکھاری پُنیت کرشنا کا ہے۔ ’انھیں کے دماغ سے یہ پیدا ہوا ہے اور انھیں نے اس کے ساتھ انصاف کیا ہے‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
اداکاروں کے لیے کتنا ضروری ہے کہ وہ سماجی اور سیاسی اعتبار سے اہم موضوعات پر آواز اٹھائیں، یہ جانتے ہوئے کہ اگر نفرت کی سیاست پر بات کریں تو اکثر اداکاروں کو ہدف بنایا جاتا ہے، اس پر علی فضل کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک مختصر فلم بنائی ہے جس کا عنوان ہے ’تصویر‘۔
وہ کہتے ہیں ’اس میں جس طرح ہمارے پورے نظام، ہمارے معاشرے، ہماری سوچ کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جس میں ہم آرٹسٹ، صحافی، یا کچھ بھی ہو سکتے ہیں‘۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اپنے آپ کو دیکھنا ہوگا کہ میں علی فضل کے ساتھ انٹرویو کیوں دیکھوں، کیا میں اسے مرزاپور کے پروموشن کے طور پر دیکھ رہا ہوں یا مجھے اس سے نیا عنوان چاہیے؟‘
’میرا خیال ہے کہ ہمیں خود متعلقہ موضوعات کا انتخاب کرنا چاہیے اور اس طرح کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے‘۔
اس برس کے آغاز میں علی فضل اور اداکارہ ریچا چڈا نے شادی کا اعلان کیا تھا لیکن وبا کے سبب انھیں بھی کئی دوسرے جوڑوں کی طرح اسے ملتوی کرنا پڑا۔
علی نے کہا کہ وہ دونوں اب اس برس کے گزر جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کی شادی تب ہوگی جب حالات بہتر ہوں گے۔























