آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قدیم دور کی کہانیوں میں نظرانداز کیے گئے کرداروں کو دوبارہ پیش کرنے کی کوشش
- مصنف, ایوا اونٹیویروس
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
نتالی ہینز مصنفین کے ایک ایسے نئے گروپ میں شامل ہیں جو قدیم ادب میں بھلا دی جانے والی خواتین کا تعلق اس زمانے سے دوبارہ جوڑ نے کا کام کر رہی ہیں۔
پیٹ بارکر اور میڈلین ملر جیسے مصنفین کے ساتھ مل کر قدیم زمانے میں لڑی جانے والی لڑائیوں میں اہم کارنامے سر انجام دینے والی خواتین ہیروز کی داستانوں کے نئے انداز کے ساتھ بتا رہی ہیں۔
وہ جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہونے والی پناہ گزینوں، ایسی عورتوں جنھیں عام چیزوں کی طرح سمجھا جاتا تھا اور وہ جو وبا سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں، کی تاریخ میں چھپی ان کی آوازیں تلاش کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ کوئی افسانہ دوبارہ سناتے ہیں تو آپ اسے نئی طرح سے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
اپنی کتاب اے تھاؤزنڈ شپس (A Thousand Ships) میں، وہ ایسی خواتین کرداروں کو سامنے لائی ہیں جنھیں ’جان بوجھ کر تاریخ سے مٹا دیا گیا یا نظر انداز کیا گیا۔‘
ایک ایسی دنیا جہاں ماحولیاتی آفات، بیماری، جنسی تشدد اور جنگ ہے، اس سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہینز کا کہنا ہے کہ یہ کہانیاں اب بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی کہ 3000 سال پہلے تھیں۔
تاریخ میں پیچھے جانے کی ضرورت کیوں؟
خواتین کی انسانی سمگلنگ، ریپ اور جنگی جرائم کوئی نئی بات نہیں ہے، اور میری خواہش ہے کہ اس پر بات کی جائے۔
ان کی کتاب پڑھتے ہوئے، کچھ جادوئی سا احساس ہوتا ہے۔ جب ایک بڑی کہانی میں خواتین کے کرداروں کو سامنے لایا جاتا ہے اور وہ ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہیں تو آپ خود با خود ان کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرانی کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں کیونکہ انھیں بار بار سنایا گیا ہے ’لیکن ایک چیز جو صدیوں سے کافی مستقل رہی ہے وہ ہے مردوں پر توجہ مرکوز کرنا: مرد مصنفین مرد کرداروں کے بارے میں ہی لکھتے ہیں۔‘
ہینز کا کہنا ہے کہ ’قدیم افسانوں میں اکثر اوقات کئی حیرت انگیز طور پر پیچیدہ مگر دلچسپ خواتین کردار ہوتے ہیں جن پر توجہ نہیں دی جاتی اور ’مسیح مذہب کے 2000 سال کے بعد یا تو ان کا نام مٹ جاتا ہے یا وہ سکلا جیسی عفریت، میڈوسا جیسی ولن یا ہیلن جیسی ایک بُری بیوی کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔‘
ان کرداروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے یا خواتین پر مظالم سے بھرے صفحات لکھنے کے بجائے، ہینز ہمیں خواتین کی نظر سے وہ واقعات بتاتی ہیں۔
ان کی کتاب پڑھتے ہوئے آپ کو جلد ہی احساس ہو جائے گا کہ ٹروئے کی ملکہ ہیکوبا کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے لیے آپ کا تعلق شاہی خاندان سے ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ وہی ہیکوبا ہے جو ٹروجن کوئین سے یونانی غلام بن جاتی ہے اور ایک ایک کر کے اپنے تمام بچوں کو قتل ہوتے دیکھتی ہے۔
ہیکٹر کی بیوی اینڈروماچ کی مایوسی کو محسوس کرنے کے لیے آپ کا یتیم، جوان بیوی یا ماں ہونا ٰضروری نہیں ہے۔ یہ وہی اینڈروماچ ہے جس نے اپنے شوہر سے التجا کی تھی کہ اپنا خیال رکھے تاکہ ان کا شہر کسی اور کے قبضے میں نہ جائے اور ان کا بچہ آسٹیانیکس مارا نہ جائِے۔
شاید سب سے دردناک کہانی کسینڈرا کی ہے۔ کسینڈرا سے مراد کوئی ایسا شخص ہے جس کی سچ ثابت ہونے والی پیشگوئیوں پر کوئی یقین نہیں کرتا۔ مگر انھیں تنہا اور متاثرہ نوجوان دکھایا جاتا ہے جو ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے اور اپنے صدمے سے لڑ رہی ہے۔
ہینز کا کہنا ہے کہ ’ان کی کہانی آج بھی اہم ہے کیونکہ انسانی فطرت نہیں بدلی۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بربریت اور جنگ لوگوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔‘
کلاسیکل دنیا میں تنوع کی تلاش
ہینز کا کہنا ہے کہ سائنس نے ’ہماری آنکھیں کھول دی ہیں کہ قدیم دنیا ایسی نہیں تھی جیسا ہم سوچتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’آثار قدیمہ کے مرد ماہرین اکثر کسی ڈھانچے کے ساتھ ہتھیار دیکھ کر تصور کر لیا کرتے تھے کہ یہ مرد ہوگا۔ تاہم نئی ڈی این اے ٹیسٹنگ سے ثابت ہوا کہ اجتماعی قبروں میں ایک تہائی جنگجو خواتین تھیں۔‘
ان کے مطابق خواتین سائنسدان اور ادبی شحصیات ہونے سے خواتین کی تاریخ پر تحقیق کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ ’غیر سفیدفام سکالرز زیادہ ہونے سے قدیم دنیا کے زیادہ حصے زیرِ غور آسکیں گے۔‘
باقیات کی دوبارہ ٹیسٹنگ نے اس تصور کو غلط ثابت کیا ہے کہ قدیم یورپ میں اکثریت سفید فام لوگوں کی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’صرف رومن برطانیہ میں آبادی کا پانچواں حصہ طویل فاصلے سے آئے پناہ گزینوں پر مشتمل تھا جن کا تعلق یورپ سے نہیں بلکہ امریکہ اور مشرق وسطیٰ سے تھا۔‘
ٹروئے کا سیاہ فام ہیرو اور ان کا دوست ایمازون
خیال ہے کہ 90 فیصد قدیم ادب ہمیشہ کے لیے کھو گیا ہے۔ ایسے میں ہینز کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی کتاب کی تحقیق کے لیے عام ذرائع سے بھی آگے جانا پڑا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جس طرح ماضی میں تاریخ ریکارڈ کی گئی اس کی وجہ سے ہم اسے مختلف انداز میں دیکھنے پر مجبور ہیں۔ یہی تعین کرتا ہے کہ ہم کون سی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ تاریخ اور طاقت کے دائرے میں آپ کو ان آوازوں کو سننا چاہیے جنھیں خاموش کر دیا گیا تھا۔‘
وہ دنیا بھر میں نیوزی لینڈ سے امریکہ تک کئی میوزیمز اور تھیٹرز گئیں تاکہ مختلف پینٹنگز، مجسمے اور دیواروں پر بنی تصاویر دیکھ سکیں۔ ’جاپان میں انھیں یونانی قصوں کو سٹیج پر نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔‘
’یہ کہانیاں اس قدر بنیادی نوعیت کی ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ انھیں جاننے کا موقع نہیں مل سکا۔‘
لوگوں کی رائے کے برعکس ان کہانیوں میں تنوع ہے جن کی شروعات ہی جدید ترکی اور مشرق وسطیٰ سے ہوتی ہے۔ ان کے مرکزی کرداروں کا تعلق مرکزی ایشا، شمالی افریقہ اور ایتھوپیا جیسی جگہوں سے ہوتا ہے۔
ہمیں ایتھیوپس سے پنتھیسیلیا کی کہانی کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ جو ایمازون کی عظیم جنگجو تھیں جبکہ ممنون ایتھوپیا کے عظیم ہیرو تھے۔
تاہم ہینز کا سوال ہے کہ کیا آپ نے کبھی اس سیاہ فام ہیرو کے بارے میں سنا ہے جس نے ٹرئے کی لرائی لڑی۔
’ان تمام کرداروں سے انھیں کچھ نمائندگی مل سکے گی۔ پرانی کہانیوں میں انھیں زندہ رکھنا ضروری ہے۔‘
پرانی کہانیوں کے لیے نئی آوازیں
یہ حیرانی کا باعث نہیں کہ مصنفین اکثر ان کرداروں کو نظر انداز کر دیتے تھے جو خواتین تھیں اور ان کا ذکر کم ہی ملتا ہے۔
مورخ ایمیلی ولسن کا کہنا ہے کہ ’قدیم ادب کی دنیا میں خواتین کو نظر انداز کیا گیا۔ لیکن خواتین سکالر اور مترجم انھیں اجاگر کر رہی ہیں۔‘
یونان کے قدیم شاعر ہومر کی کہانی ادیسہ (اوڈیسی) پر ان کا ترجمہ (اب وہ دوسری کہانی ایلیڈ یا الیاد پر کام کر رہی ہیں) کو اس کی تازگی، زبان اور انسانی جذبات کے اظہار کے لیے سراہا گیا ہے۔
میڈلین ملر کے ناول سرسی کو بھی سراہا گیا ہے اور اسے کمرشل سطح پر کامیابی ملی ہے۔ یہ ایک یونانی دیوی کی کہانی ہے جس کا کچھ ذکر ادیسہ میں ملتا ہے۔
ان کے ایک دوسرے ناول ’دی سانگ آف آخیل‘ میں ایک عظیم ہیرو اور ان کے پرانے دوست پترو کلوس کے درمیان محبت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
انعام یافتہ مصنف پیٹ بارکر کے ناول ’دی سائلنس آف دی گرلز‘ کی بھی کافی تعریف کی گئی ہے اور اسے ’فمنسٹ ایلیڈ‘ قرار دیا گیا ہے۔
ہینز کی کتاب میں ہیلن آف ٹروئے کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ہیلن کے یونانی شوہر ناراض ہوئے جب وہ ٹروئے چلی گئیں اور انھوں نے ’ایک ہزار بحری جہازوں‘ کے ساتھ انھیں واپس لانے کا قدم اٹھایا۔ پھر انھوں نے ٹروجن وار میں کئی سال گزار دیے۔
ہیلن کی خوبصورتی کے بارے میں بہت کچھ کہا جاچکا ہے۔
تاہم ہینز کی کتاب کے صفحوں پر ان دیگر خواتین کا حوالہ ہے جن کی زندگی اس سب میں متاثر ہو رہی ہے۔