عراق: شادی کی تقریب میں آتشزدگی، 100 افراد ہلاک، ’ایسا لگ رہا تھا جیسے جہنم کے دروازے کھل گئے ہوں‘

آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, ماٹیا بوبالو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

’ایک دروازہ بند تھا، اس لیے ہم نے اسے زبردستی کھول دیا۔ ہال سے بڑے بڑے شعلے نکل رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے جہنم کے دروازے کھل گئے ہوں۔‘

یہ کہنا تھا انیس سالہ غالی نسیم کا جو گذشتہ منگل کی شام کو الہیثم بنکوئٹ ہال میں پھنسے اپنے پانچ دوستوں کی مدد کے لیے پہنچے تھے۔

شمالی عراق کے علاقے قراقوش میں ایک شادی کی تقریب میں آتشزدگی کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آگ لگنے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔

'درجہ حرارت ناقابل برداشت تھا۔ میں شدید گرمی کو بیان نہیں کر سکتا۔

شہری دفاع کے حکام نے بی بی سی نیوز عربی کو بتایا کہ یہ جوڑا زندہ بچ گیا تاہم ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تطا کہ وہ دونوں بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

غالی نسیم نے ان مناظر کو ’حقیقی المیہ‘ قرار دیا۔ ’میں آگ سے بھاگنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا تھا میں فائر فائٹرز کے پہنچنے کے بعد اپنے دوستوں کو تلاش کرنے کے لیے اندر گیا۔ میں نے باتھ روم میں 26 لاشیں دیکھی تھیں۔ ایک 12 سالہ لڑکی مکمل طور پر جل گئی تھی اور اسے ایک کونے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔‘

عراقی شہری دفاع کے ذرائع ابلاغ کے ترجمان گودات عبدالرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ آگ عیسائی اکثریتی قصبے کے ہال کے اندر آتش بازی کی وجہ سے لگی۔

انھوں نے مزید کہا مناسب ہنگامی راستوں کی کمی نے حالات کو بدتر بنا دیا، کیونکہ زیادہ تر مہمانوں نے ہال کے مرکزی داخلی دروازے کا استعمال کرتے ہوئے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر بھگدڑ مچی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بہت سے لوگ اب بھی خاندان کے افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔ آگ لگنے کے وقت غزوان نامی شخص اپنی 33 سالہ بیوی، چار سالہ بیٹے اور 13 سالہ بیٹی سے الگ ہو گیا تھا۔ غزوان کی بہن ایسان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ایک اور بیٹی، جس کی عمر 10 سال ہے، ہال سے باہر آئی اور اس کے جسم کا تقریبا 98 فیصد حصہ جھلس گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کا بھائی اپنے اہل خانہ کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

شادی کی تقریب میں آتشزدگی کا یہ واقعہ منگل کی شام ضلع الحمدانیہ میں پیش آیا۔ عراقی نیوز ایجنسی نینا نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں درجنوں فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ مقامی صحافیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر میں خاکستر شادی ہال بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

خدشہ ہے کہ شادی ہال کی عمارت میں لگے پینلز نے آگ کو مزید بھڑکنے میں مدد دی جس کے بعد چھت کے کچھ حصے نیچے گر گئے۔

نینا نیوز ایجنسی کے مطابق عراقی سول ڈیفنس کے ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ ’آگ لگنے سے ہال کے کچھ حصے گر گئے جس کی وجہ انتہائی آتش گیر، کم قیمت اور غیر معیاری تعمیراتی مواد کا استعمال تھا جو آگ لگنے کے چند منٹوں میں ہی گر جاتا ہے۔‘

آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہReuters

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے نمائندے کی جانب سے جائے حادثہ پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں فائر فائٹرز کو بدھ کی صبح زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں عمارت کے ملبے پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10:45 پر جب عمارت میں آگ لگی تو اس وقت سینکڑوں لوگ جشن منا رہے تھے۔

اس حادثے میں زندہ بچ جانے والی 34 سالہ عماد یوحنا نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم نے ہال سے نکلتے ہوئے آگ کو پھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ کچھ لوگ اس مں باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور کچھ وہاں پھنس گئے۔ حتیٰ کہ جو باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے ان کی بھی حالت غیر تھی۔

سرکاری بیانات کے مطابق، عراقی حکام کی جانب سے ایمبولینسز اور طبی عملے کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا تھا۔

آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عراق کے وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرا اعظم نے حکام کو ’اس بدقسمت واقعے کے متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنے کے لیے تمام کوششوں کو بروئے کار لانے‘ کی ہدایت کی ہے۔

علاقے کے گورنر نے آئی این اے کو بتایا کہ زخمیوں کو نینویٰ کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد حتمی نہیں ہے اور اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

علاقے کے دارالحکومت موصل کے مشرق میں واقع قصبے ہمدانیہ کے مرکزی ہسپتال میں درجنوں افراد زخمیوں کی مدد کے لیے خون کا عطیہ دینے پہنچے تھے۔