پرامن گاؤں جس کا سکون مکینوں کو ’نفرت بھرے فحش خطوط‘ ملنے کے بعد چھِن گیا

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

اگرچہ یہ موبائل فون پر میسجز اور کالز کا دور ہے مگر ہم میں سے اکثر لوگوں کو آج بھی ہاتھ سے لکھے خطوط کا انتظار رہتا ہے۔

مگر ان خطوط میں اگر کوئی آپ سے نازیبا زبان میں مخاطب ہو یا آپ کو خطرناک مواد بھیجے یا خدانخواستہ ان میں وائرس نکل آئے تو یقیناً پریشانی ہو گی۔

برطانیہ کے مشرقی یارکشائر میں مقامی افراد کو ایسے خطوط مل رہے ہیں جو ان کے مطابق ’بیہودہ‘ ہیں اور انھوں نے گذشتہ دو برسوں سے ان کی زندگی کو دہشت زدہ کر رکھا ہے۔

ایک پراسرار لکھاری کی جانب سے اس گاؤں میں بھیجے گئے خطوط میں سے کچھ بی بی سی نے دیکھے ہیں جن میں ذاتیات کو نشانہ بنا کر ’فحش‘ باتیں کی گئی ہیں۔

ہمبرسائیڈ پولیس نے کچھ واقعات کی تحقیقات کی ہیں۔

یہ کہانی 1920 کے موسم بہار میں سسیکس کے سمندر کے کنارے واقع ایک چھوٹے سے قصبے لٹل ہیمپٹن کو بدنام کرنے والے شرمناک خطوط کی یاد دلاتی ہے جو ہاؤس آف کامنز کی بحث کی وجہ بنا اور اس کامیڈی ڈرامہ ویکڈ لٹل لیٹرز بنا۔

شپٹن تھورپ گاؤں میں ایک خاتون صوفی (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ انھیں پہلا خط دسمبر 2022 میں ملا تھا اور انھوں نے اس کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔

اس وقت وہ وارڈ کونسلر بننے کی کوشش کر رہی تھیں اوروہ یہ خط کھولنے کے بعد ’حیران‘ رہ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت بُرا تھا، میں نے اسے پھاڑ دیا، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ کہاں سے آیا ہے یا مجھے یہ کیوں ملا ہے۔‘

اس خط کو تلف کر دینے کے باوجود وہ تکلیف دہ الزامات صوفی کے ذہن میں رہ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں مجھ پر بدکردار عورت ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔‘

اس میں کہا گیا تھا کہ’ سیاست میں کہیں بھی پہنچنے کا واحد راستہ یہ ہوگا کہ میں مردوں کے سامنے ناقابل بیان کام کروں۔‘

اس گاؤں میں جہاں صرف 500 لوگ رہتے ہیں

لکھاری نے خط کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ صوفی کو ’باقی گایوں کے ساتھ چراگاہ پر بھیج دیا جانا چاہیے۔‘

صوفی اس خط کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یہ بہت قبیح تھا۔‘ ہمبرسائیڈ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسے خط کی اطلاع دی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی وقت تفتیش شروع کر دی گئی جس کے دوران سی سی ٹی وی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاہم مبینہ خط کا مواد دستیاب نہیں تھا اور اس کے بعد مزید تفتیش کا موقع نہیں ملا۔

پولیس کے مطابق انھوں نے صوفی کومحفوظ رہنے کے لیے مشورے دیے۔ اس کے بعد سے انھیں تین اور خطوط موصول ہوئے ہیں اور ان سب کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔

اس گاؤں میں جہاں صرف 500 لوگ رہتے ہیں صوفی کے پارٹنر سیم کو بھی خط موصول ہوئے جن میں لکھنے والے نے خود کو ان کا دوست کہتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے خیر خواہ رہیں۔

ایک خط جو بی بی سی نے دیکھا ہے اس میں سیم کو صوفی کی نجی زندگی کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ صوفی کو ’یہاں وہاں بھٹکنے‘ سے روکیں۔

خط پر یہ الفاظ درج تھے: ’ایک خیر خواہ اور پیارا دوست۔‘

’میں ڈر گیا تھا‘

سیم نے بتایا کہ وہ دونوں کو خطوط موصول ہونے کے بعد اپنی ساتھی کے تحفظ کے لیے پریشان ہیں۔ ’میں ڈر گیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے ’میں پریشان تھا کہ کوئی ان سے رابطہ کرے گا کیوں کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس خط کے بارے میں اور کسی کو علم ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ایک شخص کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی ہے جس نے اپنے گھر کے پتے پر ایک گمنام خط موصول ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کسی نے گاؤں کے ماحول میں زہر گھول دیا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ ’افسران نے خط کا جائزہ لیا لیکن مواد میں کوئی جارحانہ زبان نہیں پائی گئی اور یہ ثابت ہوا کہ کوئی مجرمانہ فعل انجام نہیں دیا گیا۔‘

پولیس نے ان پر زور دیا کہ اگر مزید واقعات پیش آتے ہیں تو وہ انھیں دوبارہ بلا لیں۔

بی بی سی کی جانب سے دیکھے گئے ایک اور خط میں ایک نامعلوم لکھاری نے ایک دیہاتی سے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ آپ کو کینسر ہو جائے گا۔‘

ایک اور رہائشی جیسن نے بتایا کہ اگرچہ انھیں کوئی خط موصول نہیں ہوا لیکن اس کے اثرات پورے گاؤں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک حیرت انگیز گاؤں ہے، جہاں حیرت انگیز لوگ ہیں لیکن کسی نے اس گاؤں کے ماحول میں زہرگھول دیا ہے۔‘

جیسن نے دعویٰ کیا کہ خطوط کی وجہ سے کچھ لوگ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگ یہاں ایک پرسکون، پرامن، کمیونٹی سے بھرپور زندگی گزارنے آتے ہیں اور اسے ایک یا دو شیطانی لوگ بری طرح نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’میری نظر میں یہ نفرت پر مبنی جرم ہے۔‘