آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مردوں میں عضوِ تناسل کے فلرز کا رجحان، ماہرین کی خطرات سے متعلق تنبیہ
- مصنف, جیمز گیلاگھر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
جیسن اپنے عضوِ تناسل کو اتنا بڑا نہیں کرنا چاہتے تھے کہ وہ ’کوک کین‘ جیسا دکھائی دینے لگے یعنی ایسی غیر معمولی یا حد سے زیادہ کاسمیٹک تبدیلی نہیں چاہتے تھے جو اسے غیر فطری، موٹا اور چھوٹے سلنڈر (جیسے سافٹ ڈرنک کے کین) جیسی شکل جیسا نظر آنے لگتا ہے۔
جیسن نے مانچسٹر میں بتایا کہ ’کچھ لوگ واقعی بہت زیادہ فلر لگوا لیتے ہیں۔‘
فلر کے علاج کے بعد ان کے عضوِ تناسل کی موٹائی میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ جیسن اور ان کی شریکِ حیات اس نتیجے سے خوش ہیں۔ جیسن کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق ’سب کچھ اب بھی معمول کے مطابق ہے، بس موٹائی میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے۔‘
یہ معلوم نہیں کہ کتنے مرد عضوِ تناسل میں فلر لگوا رہے ہیں۔ اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار بھی موجود نہیں، کیونکہ اس طریقۂ کار پر نگرانی محدود ہے اور کوئی بھی شخص یہ سروس فراہم کرنا شروع کر سکتا ہے۔
عضوِ تناسل کے فلرز کے بارے میں ایک عجیب افواہ سرمائی اولمپکس کے دوران بھی سامنے آئی تھی۔ جب یہ کہا گیا تھا کہ کچھ مرد ’سکی جمپرز‘ اپنے لباس کا حجم بڑھانے کے لیے فلرز استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ دور تک چھلانگ لگا سکیں۔
تاہم، بعض مردوں کو غلط طریقے سے فلر لگوانے کے بعد ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں بھی جانا پڑا۔ کچھ کیسز میں عضوِ تناسل سیاہ پڑ گیا اور جلد اترنے لگی۔ برطانیہ کے یورولوجیکل سرجنز کے ادارے نے بھی مردوں کو اس طریقۂ کار کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
مگر اب یہاں سوال یہ ہے کہ مرد عضوِ تناسل میں فلر کیوں لگوا رہے ہیں اور اس کے کیا خطرات ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیسن نے اپنے عضوِ تناسل میں فلر لگوانے کے فیصلے کے بارے میں ہم سے کھل کر بات کی، تاہم اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔
وہ اپنے عضوِ تناسل کی لمبائی سے مطمئن تھے، لیکن وہ ’تھوڑی زیادہ یکسانیت‘ اور موٹائی چاہتے تھے تاکہ اس کی شکل زیادہ متوازن نظر آئے۔
جیسن کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس میں تھوڑی کمی ہے تو پھر کیوں نہ اسے بہتر کیا جائے؟‘
انھوں نے تقریباً ایک سال تک مختلف طریقوں کے بارے میں سوچا اور سرجری کروانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ آخرکار انھوں نے ہائیلورونک ایسڈ نامی فلر کا انتخاب کیا، جو مستقل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر انھیں اپنے عضوِ تناسل کی شکل پسند نہ بھی آتی تو یہ فلر کچھ عرصے بعد خود ہی جسم میں جذب ہو جاتا۔‘
جیسن کے مطابق ان کا مقصد خود کو کسی طاقتور یا انتہائی مردانہ شخصیت کے طور پر ظاہر کرنا نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس سوچ کو نہیں مانتا کہ آپ کے عضوِ تناسل کا سائز جتنا بڑا ہوگا، آپ اتنے ہی پر اعتماد دکھائی دیں گے۔‘
ان کے خیال میں مردوں کی خوبصورتی کے بارے میں معاشرے کی سوچ بدل رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’صرف خواتین ہی کو اپنی ظاہری شکل بہتر بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، مرد بھی ایسا محسوس کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’یہ دراصل معاشرے میں آنے والی تبدیلی ہے۔ میرے خیال میں میڈیا جس طرح ہر چیز کو پیش کرتا ہے، اس کا ہماری روزمرہ زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کہیں بھی جائیں، ہر جگہ کوئی نہ کوئی انتہائی خوبصورت شخص تصویر میں نظر آتا ہے۔‘
عضوِ تناسل کا سائز بڑھانے والی مختلف کلینکس کی ویب سائٹس دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بعض کلینکس اسی سوچ کو اپنی تشہیر میں استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ سوال کرتے ہیں کہ ’کیا آپ اپنے عضوِ تناسل کے سائز کی وجہ سے شرمندہ ہیں؟‘
عضوِ تناسل کی موٹائی یا سائز بڑھانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ ان میں سرجری کے علاوہ بغیر سرجری کے طریقے بھی شامل ہیں، جبکہ مختلف اقسام کے مواد کو عضوِ تناسل میں انجیکشن کے ذریعے بھی داخل کیا جاتا ہے۔
ان میں سب سے عام طریقہ ہائیلورونک ایسڈ نامی جیل نما مادے کا انجیکشن ہے۔ یہی مادہ ہونٹوں کے فلرز میں بھی عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ہائیلورونک ایسڈ ایک ایسا قدرتی مادہ ہے جو انسانی جسم میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ اسے بعض اوقات ’نمی کو جذب کرنے والا مادہ‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ پانی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔
ڈاکٹر جاوید حسین ایک سال سے زائد عرصے سے گریٹر مانچسٹر کے علاقے پرسٹوچ میں اپنے کلینک میں عضوِ تناسل کے فلرز لگا رہے ہیں۔
حسین نے ڈاکٹر کی حیثیت سے تربیت حاصل کی تھی، جس کے بعد وہ کاسمیٹک علاج کی طرف آئے۔ تاہم عضوِ تناسل میں فلر لگانے کے لیے قانوناً کسی طبی تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس طریقۂ کار کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ وہ مختلف عمر کے مردوں کا علاج کر چکے ہیں۔ ان کے کچھ مریض 20 سال کی عمر کے ہیں، جبکہ ان کے سب سے زیادہ عمر والے مریض کی عمر 72 سال ہے۔‘
یہ عمل شروع کرنے سے پہلے مریض سے اس کی صحت، فلر لگوانے کی وجہ اور علاج سے اس کی توقعات کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ خطرات بھی بتائے جاتے ہیں۔
علاج کے روز عضوِ تناسل میں ہائیلورونک ایسڈ تین مقامات پر ٹیکے کی مدد سے داخل کیا جاتا ہے، ایک اوپر اور دو دونوں اطراف میں۔
فلر کو ایک باریک نلکی، جسے کینولا کہا جاتا ہے، کے ذریعے عضوِ تناسل کی جڑ سے داخل کیا جاتا ہے اور اسے عضو کی لمبائی کے ساتھ آگے لے جایا جاتا ہے۔
اس کے بعد فلر کو ہاتھ سے مساج کیا جاتا ہے تاکہ وہ یکساں نظر آئے۔ مریض کو گھر پر بھی یہی عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
اس علاج کی قیمت 3500 پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر حسین کے مطابق اس سے عضوِ تناسل کی موٹائی میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً چھ سے نو ماہ تک برقرار رہتا ہے۔
تاہم اس طریقۂ کار میں کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔ معمولی نقصانات میں درد، سوجن، نیل پڑنا اور فلر کا غیر یکساں ہونا شامل ہیں، جبکہ سنگین خطرات میں انفیکشن بھی شامل ہے۔ یہ خطرات فلر کے ذریعے کیے جانے والے تمام کاسمیٹک علاج میں موجود ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ عضوِ تناسل میں موجود اہم حصوں اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے، جو عضو میں تناؤ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
جب ڈاکٹر حسین سے پوچھا گیا کہ وہ ایسے علاج کیوں کرتے ہیں جس پر بعض سرجنز کو تشویش ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ ’مکمل طور پر سمجھتے ہیں‘ کہ کچھ ماہرین کیوں فکر مند ہیں۔
ان کے مطابق ’یہ تشویش درست ہے، لیکن ساتھ ہی اس طریقۂ کار کے بارے میں شواہد بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں اور ہمیں نتائج مل رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس علاج سے مردوں کو ’فائدہ پہنچتا ہے۔‘
ڈاکٹر حسین کا کہنا ہے کہ ’اگر علاج کے دوران کوئی مسئلہ پیدا ہو تو ان کے پاس فوری کارروائی کا منصوبہ موجود ہے، جس میں ایسی ادویات بھی شامل ہیں جو ضرورت پڑنے پر فلر کو تیزی سے ختم کر سکتی ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’خوش قسمتی سے ہمیں کبھی ایسا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔‘
تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
تاہم ڈاکٹر حسین نے ایک ایسے مریض کا ذکر کیا جو کسی دوسرے کلینک سے علاج کروانے کے بعد ان سے مشورہ لینے آیا تھا اور جس کا علاج ’بری طرح خراب ہو گیا تھا۔‘
ان کے مطابق ’اس شخص کو غلط قسم کا فلر لگایا گیا تھا۔ اس عمل کے دوران عضوِ تناسل کی خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا، جس کے باعث عضو کا درمیانی حصہ سیاہ پڑنے لگا اور جلد مردہ ہونے لگی۔‘
مریض کو فوری طور پر ایمرجنسی ہسپتال جانا پڑا۔
پروفیسر ویبھو موڈگل مانچسٹر میں نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے ماہرِ امراضِ مردانہ اور یورولوجیکل سرجن ہیں۔ ان کے پاس ایسے مرد بھی آتے رہے ہیں جن کا عضوِ تناسل بڑھانے کا علاج غلط طریقے سے کیا گیا ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب ایسا ہوتا ہے تو مریض کے لیے صورتحال بہت تکلیف دہ اور تباہ کن ہو سکتی ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایسے مردوں کا علاج کیا ہے جن کے عضوِ تناسل کی جلد کو شدید نقصان پہنچا اور وہ گلنے سڑنے لگی۔ ان کے مطابق ’جلد کا ایک حصہ مر جاتا ہے، بہت سیاہ ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اترنے لگتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں ’مرد یہ سوچ کر علاج کروانے جاتے ہیں کہ سب کچھ بہت اچھا ہو جائے گا، لیکن بعض اوقات علاج کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ مایوس ہو کر واپس آتے ہیں۔‘
ایلکس جنھوں نے اپنا اصل نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، عضوِ تناسل کی جسامت بڑھانے کے لیے ایک مختلف طریقہ اختیار کرنے کے لیے جرمنی گئے۔
انھوں نے ایسی سرجری کروائی جس میں عضوِ تناسل کو اس کی جڑ سے جوڑنے والی ہڈی سے جوڑنے والے لیگامنٹ کو کاٹا گیا تاکہ وہ زیادہ لمبا دکھائی دے۔ اس کے علاوہ ان کے جسم سے چربی کے خلیے نکال کر عضوِ تناسل میں داخل کیے گئے تاکہ اس کی موٹائی بڑھائی جا سکے۔
سرجری کے بعد جب انھیں ہوش آیا تو شدید تکلیف میں مبتلا تھے اور انھیں ایسی درد کا سامنا تھا کہ جسے اُن کے لیے برداشت کرنا ناممکن تھا اور حالت ایسی تھی کہ وہ کھڑے بھی نہیں ہو پا رہے تھے۔
ایلکس کہتے ہیں کہ ’میرے جسم پر بہت زیادہ نیل پڑ گئے تھے اور میری دونوں ٹانگوں کے اوپری حصے پیلے ہو گئے تھے۔ تقریباً ایک ماہ تک میں ٹھیک طرح چل نہیں سکتا تھا۔‘
بعد میں ایلکس کا علاج پروفیسر موڈگل کے کلینک میں ہوا اور بالآخر انھیں صحت یاب قرار دے دیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بہت سے لوگوں کو یہ سہولت نہیں ملتی۔ میں خوش قسمت تھا کہ میرا معاملہ زیادہ خراب نہیں ہوا۔‘
ایلکس کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ’شروع سے ہی ان کا عضوِ تناسل چھوٹا نہیں تھا،‘ لیکن معاشرے اور فحش مواد نے انھیں یہ یقین دلا دیا تھا کہ بڑا عضوِ تناسل ’مردانہ وجاہت اور بہتر‘ ہوتا ہے۔
سرکاری طور پر یہ اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ عضوِ تناسل کی جسامت بڑھانے کے کتنے طریقے کیے جا رہے ہیں، تاہم پروفیسر موڈگل کے مطابق انٹرنیٹ پر سرچ کے رجحانات، اشتہارات اور سوشل میڈیا سے ’واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘
اسی صورتحال کے باعث برٹش ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز نے ان طریقۂ کار کے خلاف نئی سفارشات جاری کی ہیں۔
پروفیسر موڈگل کہتے ہیں کہ ’ہماری حالیہ سفارشات کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ہم ان میں سے کسی بھی طریقۂ کار کی سفارش نہیں کر سکتے، کیونکہ اس حوالے سے شواہد بہت کمزور ہیں۔‘
ماہرین نے 36 تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا، جن میں مجموعی طور پر 3750 مرد شامل تھے، لیکن اس کے باوجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ تمام طریقۂ کار کتنے محفوظ اور کتنے قابلِ اعتماد ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ عضوِ تناسل پر فلرز کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ یہ تشویش بھی موجود ہے کہ ہونٹوں کے فلرز کی طرح عضوِ تناسل میں فلر لگانے کے لیے بھی کسی خاص طبی قابلیت کی ضرورت نہیں۔
پروفیسر موڈگل کے مطابق اس طریقۂ کار پر مکمل پابندی لگانا ’شاید بہت سخت قدم ہوگا‘، لیکن اگر یہ علاج جاری رہنا ہے تو اس شعبے میں سخت ضابطوں کی اشد ضرورت ہے۔
انھوں نے ایک قومی رجسٹری قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں عضوِ تناسل میں فلر لگانے کے تمام طریقۂ کار کا ریکارڈ رکھا جائے اور مریضوں کے طویل مدتی نتائج سے متعلق معلومات بھی جمع کی جائیں۔ ان کے مطابق اس سے مرد علاج کے فوائد اور خطرات کو سمجھتے ہوئے زیادہ بہتر فیصلہ کر سکیں گے۔
دوسری جانب مانچسٹر میں جیسن اپنے علاج کے نتائج سے خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’موجودہ فلر کا اثر ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ یہ علاج کروانے پر غور کریں گے۔‘