کے ٹو سر کرنے کی کوشش: ’میرے شوہر طوفان میں پھنسے، گائیڈ نے انھیں تنہا چھوڑ دیا تھا‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پاکستان میں دنیا کی دوسری سب سے بلند چوٹی ’کے ٹو‘ سر کرنے کی کوشش کے دوران رواں سال جولائی میں ہلاک ہونے والے افغان کوہ پیما علی اکبر سخی کی اہلیہ کریمہ سخی نے اس کا قصوروار ایک پاکستانی ٹوور کمپنی کو ٹھرایا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے شوہر کی ہلاکت اس پاکستانی ٹوور کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی تھی۔

کریمہ سخی اپنے خاوند کی ہلاکت کو قتل قرار دیتی ہیں لیکن ٹوور کمپنی ’قراقرم ایکسپیڈیشنز‘ نے کریمہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

کمپنی کے چیئرمین مرزا علی کہتے ہیں کہ ’ہم دنیا بھر میں کوہ پیمائی کے لیے بہترین سروسز فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

’ممکنہ طور پر کریمہ سخی اپنے خاوند کی ہلاکت پر دل برداشتہ ہیں جس وجہ سے وہ ایسا الزام عائد کر رہی ہیں۔ کوہ پیمائی خطرناک کھیل ہے جس میں چند لمحوں میں کچھ بھی ہوجاتا ہے۔‘

افغانستان میں کوہ پیمائی کے فروغ کے خواہش مند

علی اکبر سخی نے سوگواروں میں تین کم عمر بچے اور بیوہ چھوڑی ہیں۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے کی عمر سات سال اور سب سے چھوٹے کی عمر دو سال ہے۔

کریمہ سخی کے مطابق علی اکبر سخی کا تعلق افغانستان کے علاقے بدخشان سے تھا۔ وہ سافٹ ویئر انجینیئر تھے۔ سافٹ ویئر کے علاوہ مختلف کاروبار سے وابستہ تھے۔ انھوں نے سافٹ ویئر کی تعلیم کراچی سے حاصل کی تھی۔

کریمہ سخی کے مطابق علی اکبر فلاحی کاموں میں بہت زیادہ مصروف رہتے تھے۔ انھیں کوہ پیمائی کا شوق چند سال قبل ہوا تھا۔ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے ’ہائیک وینچر افغانستان‘ کی بنیاد رکھی تھی۔

ہائیک وینچر افغانستان کے مطابق علی اکبر سخی نے تنظیم کی بنیاد افغانستان میں کوہ پیمائی  کو فروغ دینے کے لیے رکھی تھی۔ وہ افغانستان میں کوہ پیمائی کی تربیت بھی فراہم کرتے تھے۔

علی اکبر سخی نے افغانستان ہندوکش اور دیگر پہاڑی سلسلوں پر کامیاب مہم جوئی کر رکھی تھی۔ جس میں بدخشان میں  سات ہزار میٹر بلند نوشک کا پہاڑ، بامیان میں 5100 میڑ بلند چوٹی شاہ فولادی، پنچ شیر میں 5809 میٹر کی بلند چوٹی میر سمیر شامل ہیں۔

’علی اکبر سخی میرے سامنے نیچے گرے‘

رواں سال جولائی کے دوران علی اکبر کی ہلاکت ہوئی جب وہ کے ٹو سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم نے اس واقعے کے بارے میں عینی شاہدین سے بات کی ہے۔

پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ اس حادثے کے روز وہ بھی اپنی ٹیم کے ساتھ کے ٹو سر کرنے کی مہم پر تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیمپ تھری سے تھوڑا پہلے تقریباً سات ہزار میٹر کے آس پاس ہم لوگ بلندی کی طرف جا رہے تھے۔ میرے آگے سرباز خان تھے، انھوں نے علی اکبر کے گرنے کا سارا منظر دیکھا جبکہ میں نے عقب سے دیکھا۔‘

’میں نے دیکھا کہ کوئی شخص چل رہا ہے اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے دو منٹ کے اندر نیچے گر گیا۔ جب وہ نیچے گرے تو سرباز خان نے انھیں دیکھا اور میں بھی پہنچ گئی تھی۔‘

نائلہ کیانی کا کہنا تھا کہ ’سرباز خان نے ایک دم اپنی کوشش کی کہ ان کو کوئی مدد فراہم کر سکیں۔ اس طرح میں بھی ان کے قریب پہنچ گئی مگر سرباز خان کا کہنا تھا کہ یہ ختم ہو چکے ہیں۔ اس طرح وہاں پر ایک ڈاکٹر بھی کوہ پیمائی کر رہے تھے۔ انھوں نے دیکھ کر کہا کہ شاید یہ ہائپوتھرمیا کا شکار ہوئے ہیں۔‘

نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ ’اس وقت ہمارے پیچھے کوہ پیماؤں کی ایک لمبی لائن تھی۔ ہم لوگ کھڑے ہوئے تو پوری لائن رُک گئی تھی۔ سب لوگ کی خطرناک مہم جوئی میں رکاوٹ پیدا ہورہی تھی۔ جس وجہ سے سرباز خان نے ہمیں کہا کہ ہم لوگ اپنا سفر جاری رکھیں جبکہ انھوں نے علی اکبر سخی کی لاش کو اٹھا کر عزت و احترام سے ایک سائیڈ پر رکھا۔‘

’اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ ان کی لاش کی اسلامی طریقے سے تدفیق ہوجائے۔‘

قراقرم ٹور پاکستان کے مرزا علی کے مطابق ممکنہ طور پر علی اکبر سخی ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے جبکہ کریمہ سخی کا دعویٰ ہے کہ ان کے شوہر کو کبھی بھی دل کی تکلیف نہیں تھی۔

’اس وقت شک ہوا، جب کہا گیا کہ علی کو ہارٹ اٹیک ہوا‘

کریمہ سخی کہتی ہیں کہ انھیں اس واقعے کی متضاد اطلاعات فراہم کی گئی تھیں۔

’میں اس وقت ہی شکوک کا شکار ہو گئی تھی جب مجھے کہا گیا کہ علی اکبر سخی ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے ہیں۔ علی اکبر سخی کبھی بھی دل کے مریض نہیں تھے اس کے علاوہ بھی کسی اور عارضہ سے متاثر نہیں تھے۔ وہ ایک صحت مند انسان تھے۔‘

کریمہ سخی کہتی ہیں کہ ’پہلے مجھے کہا گیا کہ کیا میں چاہتی ہوں کہ لاش کو نیچے لایا جائے جس پر میں نے کہا کہ ہاں لاش کو نیچے لایا جائے مگر تھوڑی دیر بعد کہا گیا کہ لاش نیچے نہیں لائی جا سکتی، جس سے ہمیں سخت دھچکہ لگا۔‘

مرزا علی کہتے ہیں کہ ’ہم نے علی اکبر سخی کے پرزور اور بار بار اصرار کے بعد انھیں اپنے بین الاقوامی مہم جوئی میں شامل کیا تھا۔

’آخری لمحہ پر بھی ہم نے علی اکبر سخی سے کہا تھا کہ وہ اس مہم جوئی کو چھوڑ دیں مگر ان کا اصرار تھا کہ  وہ یہ کریں گے۔‘

’آخری ویڈیو میں کہا کہ گائیڈ ناتجربہ کار تھا‘

کریمہ سخی کہتی ہیں کہ ان تک علی اکبر کا لیپ ٹاپ اور دیگر چیزیں کئی دن بعد خراب حالت میں پہنچیں۔

’لیپ ٹاپ کی سکرین ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ ان کا آئی فون اصل حالت میں پہنچا۔ علی اکبر سخی نے اپنے آخری لمحات کی کئی ویڈیو اور پیغامات ریکارڈ کروائے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں علی اکبر سخی کی آخری لمحات کی ایک ویڈیو ملی ہے۔ جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہم طوفان میں پھنس کر راستہ بھول چکے ہیں۔ میرا گائیڈ پہلی مرتبہ کے ٹو پر آیا ہے۔ اسے کچھ پتا نہیں کہ اب اس سے آگے کہاں جانا ہے۔‘

کریمہ سخی کا کہنا تھا کہ علی اکبر سخی نے ساری رات کھلے آسمان تلے گزاری تھی۔ کمپنی، گائیڈ نے انھیں کوئی مدد فراہم نہیں کی بلکہ نااہل اور ناتجربہ کار گائیڈ فراہم کر کے اس حادثے کی بنیاد رکھی تھی۔‘

’ایک انسان ساری رات شدید برفباری اور سردی میں موجود رہے تو وہ لوہے کا بنا ہوا نہیں ہوتا اس کے بعد بچنا شاید ممکن ہی نہیں۔‘

اس کے جواب میں مرزا علی کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں کہ علی اکبر سخی کا گائیڈ ناتجربہ کار تھا بلکہ کے ٹو پر کچھ اور واقعات پیش آئے تھے۔ علی اکبر سخی کی ٹیم میں دو مزید مہم جو اور ان کے گائیڈ اور پورٹر تھے۔ آغاز ہی میں دیکھا گیا کہ علی اکبر سخی کی رفتار باقی مہم جوؤں کے مقابلے میں کم تھی۔

’20 جولائی کو ٹیم نے کیمپ ٹو سے کیمپ تھری کا سفر شروع کیا تھا۔ اس موقع پر ان کی رفتار کم تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’علی اکبر سخی کی رفتار کم تھی جس وجہ سے وہ اور ان کا گائیڈ پیچھے رہ گئے تھے۔‘

’طوفان رات کو آیا تھا‘

نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ 20 اور 21 جولائی کی رات کو برف کا طوفان آیا تھا۔

’کے ٹو پر برف کے طوفان آتے رہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ یہ طوفان رات دس بجے ختم ہوگیا تھا۔ جس کے بعد موسم بہتر ہوا اور 21 جولائی کو موسم اچھا تھا۔‘

کریمہ سخی کہتی ہیں کہ ’مجھے بتایا گیا کہ 20 اور 21 جولائی کی رات کو آنے والے طوفان میں علی اکبر سخی کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان کی ویڈیو سے بھی واضح ہے کہ ان کے گائیڈ کو کچھ پتا نہیں تھا کیا کرنا ہے۔ ان کے گائیڈ نے بھی ان کو چھوڑ دیا تھا۔ وہ رات انھوں نے کھلے آسمان تلے گزاری تھی۔‘

جبکہ مرزا علی ایک اور رائے رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ علی اکبر  جب اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے تو ان کے گائیڈ ان کے ساتھ تھے۔ رفتار کم ہونے کی وجہ سے شام کا اندھیرا پھیل گیا تھا۔ تقریباً 7050 میڑ پر برف کا طوفان شروع ہوا۔ علی اکبر سخی اور ان کا گائیڈ اس طوفان میں پھنس گئے تھے۔ اس موقع پر علی اکبر سخی بلندی پر ہونے والے مسائل کا شکار ہونا شروع ہو گئے تھے۔

مرزا علی کہتے ہیں کہ ’جب طوفان بڑھا اور علی اکبر سخی کے حالات مزید خراب ہوئے تو اس وقت ان کے گائیڈ انتہائی برے حالات میں کیمپ تھری کی جانب بڑھے تاکہ مدد لا سکیں۔ جب وہ کیمپ تھری پہنچے تو صبح ہو رہی تھی۔ وہ مدد کے ساتھ واپس پہنچے اور انھوں نے علی اکبر سخی کو چاکلیٹ، پنیر، پانی وغیرہ فراہم کیا۔ اس موقع پر بھی علی اکبر نے ان لوگوں سے بھی کہا کہ انھیں دل کا عارضہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’علی اکبر سخی کو ان کے گائیڈ نے ایک اور گائیڈ کی مدد سے نیچے لانے کی کوشش کا آغاز کیا۔ سات ہزار میٹر کی بلندی پر علی اکبر سخی رسی پر اپنی گرفت قائم نہ رکھ سکے اور گر کے دوبارہ نہیں اٹھے۔‘

مرزا علی کہتے ہیں کہ اس وقت تک سرباز خان اور ان کے کچھ ساتھی بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے اپنی کوشش کی مگر علی اکبر سخی دم توڑ چکے تھے۔

کریمہ سخی کہتی ہیں کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ کیمپ تھری میں ایک سو پچاس میڑ دوری پر پھنسے ہوئے علی اکبر سخی کو مناسب امداد نہیں مل سکی۔ مجھے حقائق بتائے جائیں۔

’میرے بچے اپنے والد کی  تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر اس کو پکارتے ہیں۔ ‘

’علی اکبر سخی نے کے ٹو پر جانے سے کئی ہفتے قبل سخت ترین تربیت حاصل  کی تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان علی اکبر سخی کی آخری  ویڈیو کو لے کر تحقیقات کرے اور حقائق منظر عام پر لائے۔‘