ادتیہ ایل ون: انڈیا کے شمسی مشن کی پہلی تصاویر جس میں چاند اور زمین ایک ہی فریم میں

،تصویر کا ذریعہISRO
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز انڈیا
- وقت اشاعت
انڈیا میں خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو نے سورج کے مطالعے کے لیے اپنے مشن ’ادتیہ ایل ون‘ کے سفر کے دوران کی ابتدائی تصاویر شیئر کی ہیں۔
انڈیا نے اپنا مشن ادتیہ ایل ون دو ستمبر کو روانہ کیا تھا۔ یہ مشن سورج کی طرف پرواز کرتا ہوا زمین سے تقر یباً 15 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر پہنچے گا اور زمین اور سورج کی کشش کے درمیان ایک ایسےمقام پر رُکے گا جسے سائنسی اصطلاح میں ایل ون کہا جاتا ہے۔
اسرو کا کہنا ہے کہ اسے اپنی منزل تک پہنچنے میں چار مہینے لگیں گے۔
انڈیا کا یہ پہلا شمسی مشن چاند کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بننے کے چند ہی دن بعد سامنے آیا ہے۔
انڈیا کے خلائی تحقیقاتی ادارے نے جمعرات کی صبح آدتیہ ایل ون پر لگے کیمرے کے ذریعے لی گئی دو تصاویر شیئر کی ہیں جو چار ستمبر کو لی گئی تھیں۔
ان تصاویر میں ایک تصویر ایسی ہے جس میں زمین اور چاند کو ایک ہی فریم میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس میں زمین بڑی دکھائی دے رہی ہے جبکہ چاند کافی فاصلے پر ایک چھوٹا سے دھبے جیسا لگ رہا ہے۔
دوسری تصویر ایک ’سیلفی‘ ہے جو شمسی مشن پر لے جائے جانے والے سات سائنسی آلات میں سے دو کو دکھا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISRO
’لگرینج پوائنٹ‘ جہاں دوسورج اور زمین کی کشش ثقل زائل ہو جاتی ہے
ایل ون دراصل لگرینج پوائنٹ1 کا مخفف ہے اور اس سے مراد سورج اور زمین کے عین درمیان وہ جگہ ہے جہاں انڈیا کا خلائی جہاز محو پرواز ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق لگرینج پوائنٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاں دو بڑی چیزوں کی کشش ثقل کی قوتیں (جیسے سورج اور زمین) ایک دوسرے کو زائل کر دیتی ہیں اور اس صورت حال میں خلائی جہاز وہاں ٹھہر سکتا ہے۔
ایک بار جب ادتیہ ایل ون اپنی پارکنگ کے مقام پر پہنچ جائے گا تب ہی یہ زمین کی طرح سورج کے گرد چکر لگانے کے قابل ہو پائے گا۔
اس کا مطلب ہے کہ سیٹلائٹ کو چلانے کے لیے بہت کم ایندھن کی ضرورت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہISRO
مشن ادتیہ میں کون سے مطالعات زیر غور آ سکیں گے
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسرو نے یہ تو نہیں واضح کیا کہ اس مشن پر کتنی لاگت آئے گی تاہم انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس کی لاگت اندازہً 3.78 ارب روپے ہے۔
مدار میں جا کر یہ سات سائنسی آلات شمسی کورونا (سورج کی سب سے باہر کی تہہ)، فوٹو فیر (سورج کی سطح یا وہ حصہ جسے ہم زمین سے دیکھتے ہیں) اور کروموسفیئر (پلازما کی ایک پتلی تہہ جو فوٹو فیر اور کورونا کے درمیان ہوتی ہے) کا مشاہدہ اور مطالعہ کریں گے۔
یہ مطالعے سائنسدانوں کو ایسی شمسی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد کر یں گے جن میں شمسی ہوا اور آگ، زمین اور قریبی جگہ کے موسم پر ان کے اثرات شامل ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشن ادتیہ اس ستارے(سورج) کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں ہماری مدد کرے گا جس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے۔
اگر ادتیہ ایل ون کا مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو انڈیا ان ممالک کے منتخب گروپ میں شامل ہو جائے گا جو پہلے ہی سورج کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
امریکی خلائی ایجنسی ناسا 1960 کی دہائی سے سورج کا مطالعہ کر رہی ہے۔
جاپان نے اپنا پہلا مشن 1981 میں شمسی شعلوں کا مطالعہ کرنے کے لیے شروع کیا تھا اور یورپی خلائی ایجنسی 1990 کی دہائی سے سورج کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
فروری 2020 میں، ناسا اور ای ایس اے نے مشترکہ طور پر ایک شمسی مدار کا آغاز کیا جو قریب سے سورج کا مطالعہ کر کے ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے اور اس بارے میں سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ اس سے انھیں سورج کے متحرک رویے کی وجہ سمجھنے میں مدد ملے گی ۔
2021 میں ناسا کے نئے خلائی جہاز پارکر سولر پروب نے پہلی بار سورج کی بیرونی فضا کے قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کی ہے۔


























