زارا علینہ قتل : قاتل کوعمر بھر قید کی سزا

وقت اشاعت

مشرقی لندن کے علاقے الفورڈ میں نوجوان خاتون زارا علینہ کو قتل کرنے والے جارڈون میکسوینی کو عمر بھر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مسز جسٹس چیمہ کرب نے جارڈون میکسوینی کی سزا کا اعلان کرتے ہوئے حکم دیک کہ اس متشدد شخص کو کم از کم 38 برس جیل میں رہنا چاہیے۔

مجرم جارڈون میکسوینی نے اپنی سزا سننے کے لیے عدالت میں آنے سے انکار کیا۔

رواں برس جون میں 35 سالہ لا گریجویٹ زارا علینہ کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ رات کو پیدل گھر آ رہی تھی اور اپنے گھر کے دروازے سے صرف دس منٹ کے فاصلے پر تھی۔

جارڈون میکسوینی نے زارا علینہ کو قتل کرنے اور اس پر جنسی حملہ کرنے کے جرم کا اقرار کیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جارڈون مکسوینی جسے اس جرم کے ارتکاب سے پہلے الفورڈ کے ایک شراب خانے سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ شراب خانے میں کام کرنے والی خاتون کو مسلسل تنگ کر رہا تھا۔

شراب خانے سے باہر نکالے جانے کے بعد اس نے کئی عورتوں کا پیچھا کیا۔ اس نے رامفورڈ روڈ ایک اور خاتون کا پیچھا کیا لیکن وہ خوش قسمتی سے اس سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ 29 سالہ میکسوینی کی جرائم کی ایک تاریخ ہے اور وہ اس سے قبل ڈکیتی، لوگوں پر حملہ کرنے اور ضمانت کی شرائط کو خلاف ورزی کے جرائم پر 29 بار مجرم قرار دیا جا چکا تھا۔

مارچ 1993 میں پیدا ہونے والے جارڈن میکسوینی کا کوئی مستقل  پتہ نہیں ہے لیکن وہ مشرقی لندن کے علاقے ڈیگنہیم میں اور اس کے آس پاس رہتا رہا ہے۔

جارڈون میکسوینی قتل کے وقت جیل سے لائسنس پر آزاد تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کچھ شرائط کے تحت جیل سے رہا کیا گیا تھا اور پروبیشن کے ذریعہ اس کی نگرانی کی جارہی تھی۔

قتل سے دو روز قبل پروبیشن سروس نے ان کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا اور اگرچہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کارروائی کی جا رہی تھی لیکن میکسوینی کو اس وقت سرکاری طور پر واپس نہیں بلایا گیا تھا جب انہوں نے زارا علینہ کو قتل کیا تھا۔