آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مولانا فضل الرحمان کا متنازع بیان اور تنقید: ’عوام کو لشکر بنانے کا کوئی پیغام نہیں دیا جا رہا‘
پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی متنازع تقریر اور اس پر حکومت کے سخت ردعمل کے بعد یہ تنازع بظاہر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
اتوار کو اپنی جماعت کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ’پراپیگنڈا مہم چلانے والے معافی مانگیں۔‘
خیال رہے کہ 15 جولائی کو گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے فضل الرحمان کے متنازع بیان سے متعلق درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 اگست تک جواب طلب کیا تھا۔
رواں ماہ قصور میں پارٹی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات پر اظہار خیال کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ ’تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟‘
’ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔‘
انھوں نے کوئی نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے۔‘
پاکستان کے وفاقی وزرا نے ان کے بیان پر سخت ردعمل دیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہدا اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔‘
’آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔‘
’مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہدا، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے کہ جب گذشتہ ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندوں نے کئی حملے کیے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مولانا نے شاید بات کو غلط سمجھا یا اس کی غلط تشریح کی: رانا ثنا اللہ
ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ’مولانا نے شاید اصل بات کو غلط سمجھا یا اس کی غلط تشریح کی۔‘ ان کے مطابق ’مولانا نے جو الفاظ استعمال کیے، ممکن ہے وہ خود بھی انھیں نامناسب سمجھتے ہوں، لیکن بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔‘
نجی چینل جیو نیوز پر میزبان شہزاد اقبال سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ’لشکر بنانے‘ کا کوئی پیغام نہیں دیا جا رہا۔ ان کے مطابق ’خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں اگر لوگوں کو یہ کہا جائے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آمد تک اپنے دفاع کی بنیادی صلاحیت رکھیں، تو اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔‘
رانا ثنا اللہ نے کوئٹہ اور زیارت کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بعض مقامات پر مقامی لوگ پولیس کی مدد کرنا چاہتے تھے، لیکن انھیں روکا گیا۔‘
ان کا مؤقف تھا کہ ’شہریوں کا اپنے دفاع کا حق قانون میں تسلیم شدہ ہے، اگر کوئی آپ پر حملہ آور ہو تو قانون بعض حالات میں دفاع کی اجازت دیتا ہے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ ’یہ (لشکر کشی) نہ پورے پاکستان کے لیے کوئی خاص پیغام ہے اور نہ کسی سیاسی جماعت کے لیے۔ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاہم افراد، آبادیوں اور اداروں کو بھی اپنے تحفظ کا قانونی حق حاصل ہے۔ بینکوں، دکانوں اور دیگر اداروں کی جانب سے سکیورٹی گارڈ رکھنا اسی کی مثال ہے، اسے ’لشکر سازی‘ نہیں کہا جا سکتا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہی بات ان سے کی گئی اور وہ اتنی بُری لگی کہ انھوں نے یہ ساری تقریر دی؟‘
رانا ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ بات کہیں ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ہے۔ ’لیکن میرا یہ اندازہ ہے کہ مولانا کو کسی نے کوئی ایسی بات بتائی ہوگی جس سے انھوں نے یہ مطلب کیا کہ شاید اب لشکر کشی کا کہا جا رہا ہے یا اپنی حفاظت خود کرنے کا کہا جا رہا ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان کا معافی مانگنے سے انکار
اتوار کو وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان کی وضاحت کی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ اس پر قائم ہیں۔
انھوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں۔۔۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سکھائیں۔‘
انھوں نے کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’آپ نے وہاں سے کتنے شہدا کے جنازے وصول کیے تھے؟‘
انھوں نے بارہا کہا کہ ان کی طرف سے کوئی ’غلط بات‘ نہیں کی گئی بلکہ ’ادارے اور ان کا دائرہ کار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔۔۔ تو میں اب بھی کہتا ہوں کہ پالیسی ساز لوگوں کو جواب دینا چاہیے، سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔۔۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں لیکن آپ میرے بیان کی از خود تشریح کر کے میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمان جھک جائے گا، سرینڈر کر جائے گا۔‘
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ’ان کو 48 گھنٹے بعد پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ بدنیتی پر مبنی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
انھوں نے اعلان کیا ہے کہ ’میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا، ان سے خطاب کروں گا اور اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔‘
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’میرا مطالبہ ہے کہ جس فوج نے اور جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے اور میری جماعت کے خلاف پراپیگنڈا چلایا ہے اس کو معافی مانگنی ہو گی۔‘
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا خیال رہے کہ دراصل ان پر تنقید کی وجہ یہ ہے کہ ’میں نے کہا ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔ آپ جگہ جگہ قبیلوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا نہیں یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ ہیں۔۔۔ اب آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مشرقی پاکستان کی مثال دیتے ہوئے ’البدر‘ اور ’الشمس‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ’آج بھی عوامی لیگ اور جماعت اسلامی کی دشمنی برقرار ہے۔‘
انھوں نے اپنے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی حکومت کہتی ہے ہم پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں۔۔۔ آپ تو صوبائی حکومت کی طاقت استعمال کرنے کے حق میں نہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کو کس چیز پر اختلاف ہے؟
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قصور کے جلسہ عام میں کی گئی تقریر سے ایک جملہ نکال کر ایک سازش کے تحت ان کے خلاف ایک مہم شروع کی گئی جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان نے کل وکلا کنونشن میں سب کچھ واضح کر دیا ہے کہ وہ شہدا کا تقدس اور حرمت بتائیں گے اور ان کی جماعت اور ان کے کارکنوں میں بھی سینکڑوں لوگ شہید ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان کو معلوم ہے کہ شہدا کا کیا تقدس ہے اور ان کا کیا درجات ہوتے ہیں، انھیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) وفاقی حکومت کی بعض قانون سازی اور دیگر معاملات میں معاونت کرتی رہی ہے اور ان سے مشاورت بھی کی جاتی رہی ہے پھر اب کیوں یہ صورتحال بنی ہے؟ حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ’ایک تو قصور میں 13 جولائی کا جلسہ حکمرانوں کے لیے پریشان کن تھا، پنجاب میں یہ ایک تاریخی جلسہ تھا اور اس سے حکمرانوں کو پریشانی لاحق ہوئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان ان اداروں کے آئینی کردار پر بات کرتے ہیں کیونکہ سکیورٹی کی ذمہ داری بھی ان کے پاس ہے۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’معاشی معاملات کے لیے آیس آئی ایف سی قائم کی گئی ہے جس کے تحت کوئی انوسٹمنٹ نہیں آئی، سیاسی معاملات میں وہ مداخلت کرتے ہیں، اسی لیے ان کو یہ اچھا نہیں لگتا کہ مولانا یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں 25 سال سے دہشت گردی ہو رہی ہے لیکن اس پر قابو نہیں پایا جا سکا، بلوچستان میں پہلے بلوچ علاقوں میں حالات کشیدہ تھے مگر اب پشتون علاقوں میں چند دنوں میں 50 لاشیں اٹھائی گئی ہیں تو سکیورٹی کہاں ہے؟‘
حافظ حمداللہ نے کہا کہ ’فروری 2024 سے جمعیت علمائے اسلام (ف) اسلام سڑکوں پر ہے اور احتجاجی جلسے اور مہم جاری ہے، اب اگست میں ملک میں ورکرز کنونشن منعقد کیے جائیں گے اور ستمبر اکتوبر میں سیاسی مہم شروع کی جائے گی جس کا مرکز صوبہ پنجاب ہو گا اور اس تحریک میں آئین کی عمل داری اور خود مختاری پر بات ہو گی۔‘
مولانا کی تلخ تقریر پر اتنا شور کیوں؟
اس وقت حکومتی حلقے مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایکس پر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضل الرحمان کے لیے ’کرپشن کے سنگین الزامات اور مالی بدعنوانی کا جواب دینا ناممکن ہے، چنانچہ پاکستانی فوج کے شہدا پر کیچڑ اچھال کر وہ اپنا داغدار دامن نہیں بچا سکتے۔‘
انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ ’وطن مخالف تقاریر بند کریں اور اپنے کارناموں کا حساب کتاب دینے کے لیے تیار رہیں۔ انشا اللہ پکڑ ہو گی۔‘
مگر تجزیہ کار ماجد نظامی کی رائے میں مولانا فضل الرحمان کے حالیہ متنازع بیانات کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت جن اضلاع میں مذہبی و سیاسی قوت تھی وہاں شدت پسندی میں تیزی آنے سے اسے ’شدید مشکلات کا سامنا ہے‘ اور یہ معاملہ امن و امان سے جڑا ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چونکہ مولانا فضل الرحمان معتدل مذہبی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے انھیں اکثر ریاست اور مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان ایک توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔
وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ گذشتہ برسوں کے دوران خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں کالعدم ٹی ٹی پی نے سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کر دیے ہیں اور اس کا دائرہ کار ’پولیس اور عام افراد تک پھیل چکا ہے۔‘
ماضی میں مولانا کی جانب سے موجودہ حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ قلیل و طویل مدتی اتحاد بھی قائم کیے گئے مگر اب وفاقی وزرا کی طرف سے سخت الفاظ میں ان کے بیان کی مذمت کی جا رہی ہے۔ خاص کر شہدا کے بارے میں کی گئی گفتگو مولانا پر تنقید کا باعث بن رہی ہے۔
تاہم ماجد نظامی کا خیال ہے کہ اس متنازع تقریر کے اکثر حصے ملک کے ’تلخ حقائق‘ کے بارے میں ہیں، جیسے ٹانک میں پولیس کی طرف سے مسجد میں کیا گیا اعلان جو کہ حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ’ریاست کی طرف سے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ انھیں اس عمل سے دور رکھا گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کا دعویٰ ہے کہ ان سے لشکر بنا کر لڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کے حق میں وہ نہیں ہیں۔‘
ماجد نظامی کے مطابق مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت شدت پسندی سے متاثر ہو رہی ہے مگر وہ ریاستی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے۔
تاہم تجزیہ کار ماجد نظامی کی رائے میں جمعیت علمائے اسلام ف کے خلاف کی جانے والی وزرا کی پریس کانفرنسز کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ ’ان سے بیانیہ بنانے میں کوئی کامیابی نہیں ہو گی۔ اگر وزرا مہم نہ چلاتے تو مولانا دوسرا تفصیلی بیان بھی نہ دیتے۔‘
’ہائبرڈ نظام کے ہوتے ہوئے مولانا کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں لیکن مولانا کے پاس سٹریٹ پاور، تنظیمی صلاحیت اور مذہبی اثر و رسوخ ہے۔‘
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار علی اکبر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا سیاسی پہلو بھی ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بڑھ گئی ہے جسے کچھ سیاستدان ہائبرڈ نظام بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ دیگر سیاسی جماعتیں چونکہ اقتدار میں ہیں تو وہ کھل کر یہ باتیں نہیں کر سکتے جو مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ فارمولا ہر جگہ کامیاب نہیں ہوتا کہ کسی ایک سیاسی شخصیت کے خلاف محاذ کھولا جائے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم شروع کر دی جائے۔‘
مولانا اور وفاقی وزرا کے درمیان بیانات کے تبادلے پر علی اکبر نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ف ’جیسی منظم جماعت اور مولانا فضل الرحمان جیسی سیاسی شخصیت کو دباؤ میں لانے سے مسائل بڑھ سکتے ہیں، کم نہیں ہوں گے۔‘