نیوزی لینڈ کے جنگلوں میں چار برس سے لاپتا شخص اور اس کے بچے ڈکیتی کے سبب پولیس کو کیسے ملے؟

،تصویر کا ذریعہNew Zealand Police
- مصنف, الیکس فلپس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
11 ستمبر 2021 کو ٹام فلپس اور ان کے تین بچے پہلی بار لاپتا ہوئے تھے۔
ٹام فلپس کی گاڑی نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کے علاقے ماروکوپا کے ساحلِ سمندر پر ان کے والدین کے گھر کے نزدیک پارک ہوئی ملی تھی۔
پولیس نے ان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا لیکن تین ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد یہ خاندان اپنے گھر واپس آ گیا۔
ٹام فلپس نے دعویٰ کیا کہ وہ کیمپنگ کر رہے تھے۔
پھر اسی برس 12 دسمبر کو یہ خاندان ایک بار پھر لاپتا ہو گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے چند فریمز کے علاوہ ٹام فلپس اور ان کے تینوں بچوں کو اس کے بعد دوباری نہیں دیکھا گیا تھا۔
لیکن پھر رواں ہفتے پیر کی صبح پولیس کو ایک چوری کی واردات کی اطلاع ملی اور پولیس کی جوابی فائرنگ میں ٹام فلپس کی موت ہو گئی، جس سے چار سال کی اس تلاش کا خاتمہ ہوا۔
لیکن اس خاندان کی گمشدگی کے بارے میں بہت سے سوال اب بھی باقی ہیں جیسے کہ ٹام اپنے بچوں کو لے کر نیوزی لینڈ کے بیابان علاقے میں کیوں غائب ہو گئے اور کیا وہ کسی قسم کی مدد کی بدولت اتنے عرصے تک چھپنے میں کامیاب رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب فلپس سنہ2021 میں پہلی بار گھر واپس آئے تھے تو ان پر پولیس کے وسائل ضائع کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
مغربی ویٹومو خطے کے سخت حالات میں ان کی تلاش کی کوششوں میں حکام کے لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے تھے۔
دوسری بار جب وہ اپنے تین بچوں ایمبر (عمر پانچ برس)، ماورک (سات برس) اور جیڈا (آٹھ برس) کے ساتھ لاپتا ہوئے تو پولیس نے نئے سرے سے تلاش شروع نہیں کی بلکہ 12 جنوری 2022 کو جب وہ عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے تو پولیس نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
فلپس اسی برس 9 فروری کو کچھ سامان لینے اکیلے اپنے خاندانی گھر واپس آئے۔
اس کے بعد وہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک نظر نہیں آئے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ماضی میں پولیس یہ کہہ چکی ہے کہ فلپس کا اپنے بچوں کی ماں کے ساتھ ان کی کسٹڈی پر کوئی تنازع تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو لے گئے اگرچہ انھوں نے کبھی بھی اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی تھی کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔
فلپس ایک ایسے شخص کے طور پر جانے جاتے تھے، جو آبادی سے دور رہتے تھے اور اس ماحول میں بقا کی تربیت بھی رکھتے تھے۔
ماروکوپا کے مقامی افراد کے مطابق فلپس کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی نہیں تھے۔
پولیس کا خیال تھا کہ فلپس اور ان کے بچے ماروکوپا کے گھنے جنگل میں زندہ رہے لیکن ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ ایسا کسی مدد کے بغیر نہیں کر پائے ہوں گے۔
2023 میں اگست اور نومبر کے درمیان کاویہ کے آس پاس کے علاقوں میں متعدد مبینہ ڈکیتیوں کے واقعات سامنے آئے، جس میں ہارڈ ویئر اور کواڈ بائیک کے سٹورز بھی شامل تھے۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں فلپس اور ان کے ایک بچے کو چہرے پر ماسک پہنے ایک سٹور میں گھستے دیکھا گیا۔
پولیس کے مطابق فلپس کو پیر کے روز جب گولی لگی تو ان کی کواڈ بائیک سے متعدد آتشیں اسلحہ اور لوٹ مار کا دیگر سامان ملا۔
اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ فلپس کو کسی کی طرف سے ان وارداتوں میں مدد مل رہی تھی۔
پولیس کے مطابق جب ان پر ایک بینک میں چوری کا شبہ تھا تب بھی کسی نے ان کی مدد کی تھی۔
ماروکوپا کی کمیونٹی میں 100 سے بھی کم لوگ ہیں۔ اس بارے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا کوئی شخص فلپس کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے میں مدد فراہم کر رہا تھا یا نہیں۔
جون 2024 میں پولیس نے فلپس اور ان کے بچوں تک لے جانی والی معلومات فراہم کرنے پر 37 ہزار 200 پاؤنڈ کے انعام کا اعلان کیا لیکن یہ ڈیڈ لائن بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہو گئی۔
اس کے بعد انھیں اکتوبر میں دیکھا گیا۔
سؤر کا شکار کرنے والے ایک نوجوان گروپ نے ٹریکنگ کے دوران انھیں ماروکوپا کے آس پاس کے علاقے میں دیکھا اور ان کے ساتھ ہونے والی مختصر بات چیت کو اپنے فونز میں ریکارڈ کیا۔
اس فوٹیج میں فلپس کو ایک ناہموار علاقے میں اپنے بچوں کی رہنمائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان سب نے برساتی کوٹ پہن رکھے تھے اور بڑے بڑے بیگ پیک اٹھا رکھے تھے۔
نیوزی لینڈ میڈیا کے مطابق نوجوانوں نے اس خاندان کے ایک بچے سے مختصر سی بات کی اور پوچھا کہ کیا کسی کو پتہ ہے کہ وہ یہاں ہیں۔ فلپس کے بچے نے چلتے ہوئے بس یہ جواب دیا کہ ’صرف آپ کو پتا ہے۔‘
اس واقعے کے بعد پولیس اور فوج کے پیلی کاپٹرز نے تین روز تک سرچ آپریشن جاری رکھا لیکن انھیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
گذشتہ ماہ پولیس نے یہ کہا تھا کہ انھوں نے محسوس کیا کہ اس قدر شدید نوعیت کا سرچ آپریشن کرنا غلط تھا کیونکہ فلپس مسلح تھے اور خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہNew Zealand Herald
اس کے بعد انھیں اس برس اگست میں دیکھا گیا، جب ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں فلپس اور ان کے بچوں میں سے ایک پیوپیو کے ایک سٹور میں گھستے نظر آئے۔
پیر کے روز بھی وہ پیوپیو میں ہی تھے جب پولیس کو ایک دکان میں چوری کی کوشش کی اطلاع ملی۔
پولیس نے ماروکوپا کی جانب گامزن ایک کواڈ بائیک کا پیچھا کیا، جس پر دو افراد سوار تھے۔ پولیس کے مطابق جب انھوں نے کواڈ بائیک کو روکا تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پہلے آفیسر کو سر پر گولی لگی، جن کی حالت ابھی بھی تشویشناک ہے۔ دوسرے آفیسر نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں فلپس موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ جو بچہ فلپس کے ساتھ تھا، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اسی کی فراہم کرد معلومات کی بدولت وہ باقی دو بچوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
یہ بچے ماروکوپا اور ٹی کویٹی کے درمیان جھاڑیوں میں ایک دور دراز کیمپ سائٹ پر انتہائی کم درجہ حرارت میں رہائش پذیر تھے۔
ان بچوں کی گمشدگی نیوزی لینڈ میں سب سے زیادہ تشویش کا باعث رہی تھی لیکن حکام کے مطابق اب ان کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔




























