آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کا کیس: دو اداروں کا ٹکراؤ نہیں چاہتے، آئینی عدالت کو صرف آئین کی تشریح کا اختیار ہے، سپریم کورٹ
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
سابق وزیر اعظم عمران خان کو عدالتی حکم کے باوجود علاج کی غرض سے نجی ہسپتال منتقل نہ کرنے کے حکومتی اقدام کے خلاف توہین عدالت اور حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کے پاس صرف آئین کی تشریح کا اختیار ہے، باقی تمام معاملات سپریم کورٹ دیکھے گی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کی صبح اِن درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ تمام فوجداری مقدمات میں بنیادی انسانی حقوق کے معاملات آتے ہیں، تو کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ تمام مقدمات کسی دوسری عدالت (آئینی عدالت) میں بھیجے جائیں؟
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم اس تین رُکنی بیچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔
تاہم اس حکم پر عمل نہیں ہوا اور عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے میڈیکل چیک اپ کے لیے پمز لے جایا گیا تھا۔ اس پر تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست جمع کروائی گئی تھی جبکہ اسی کے ساتھ وفاقی حکومت نے نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ان درخواستوں پر سماعت 16 ستمبرکے لیے مقرر تھی تاہم گذشتہ روز پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اس کیس سے متعلق ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ان درخواستوں پر سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی تھی۔
گذشتہ روز وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کا ریکارڈ طلب کرنے کا حکم راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر دیا ہے، جس میں قیدیوں نے نجی ہسپتالوں میں علاج کی استدعا کی تھی۔
16 ستمبر کو جب سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کا آغاز ہوا تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی بھی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور سماعت میں مختصر وقفے کا اعلان کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم جب سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل کے بجائے ایڈیشنل اٹارٹی جنرل عدالت میں موجود تھے۔ اس پر عدالت نے دوبارہ وقفہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا حکم دیا۔
سماعت کے باقاعدہ آغاز کے بعد تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں آئین، قانون اور قرآن کریم سے اُوپر کوئی چیز نہیں ہے۔‘
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا قرآن اور سنت کی روشنی میں کیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی آئینی عدالت پابند نہیں ہو گی؟ انھوں نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کے آرڈر میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا اور اِن افسران کا آج عدالت میں پیش نہ ہونا، کیا عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہے؟
انھوں نے کہا کہ کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی ضرور ہے۔
اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ وہ اڈیالہ جیل حکام کی ایما پر کوئی بیان نہیں دے سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کل کے آئینی عدالت کے حکم سے جیل حکام کو کوئی مغالطہ ہوا ہو، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اب یہ کمیونیکیشن کا مسئلہ ہے یا بےاعتباری کا، لیکن کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔‘
جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا علاج سرکاری یا نجی ہسپتال میں ہو گا، یہ نکتہ فی الوقت ایک طرف رکھ دیں تو کیا سپریم کورٹ کے باقی حکم پر عمل ہو رہا ہے؟
انھوں نے استفسار کیا کہ عمران خان کی اُن کی بہنوں سے ہفتے میں دو بار ملاقاتیں کروائی گئیں اور کیا سابق وزیراعظم کی اُن کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی گئی؟
اٹارنی جنرل نے اس پر جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر آپریشنل (فعال) ہے اور اس میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہوئی تو وہ اس کو چیک کر لیں گے۔
بینچ میں موجود جسٹس نعیم اختر افغان نے آئینی عدالت کے طرف سے تین قیدیوں کی درخواستوں پر جاری کیے گئے حالیہ حکم نامے کے پیراگراف چھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پیراگراف میں سپریم کورٹ سے عمران خان کی درخواست سے متعلق عدالتی ریکارڈ منگوا کر اسے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کہا گیا ہے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقدمات مقرر کرنے کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے اور عدالت آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ وہ تعین کرے گی کہ بنیادی انسانی حقوق کے مقدمے کون سُن سکتا ہے، مگر بنیادی حقوق کا معاملہ تو ہر مقدمے میں سامنے آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شفاف ٹرائل کا حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ عدالتی دائرہ اختیار کے نکتے پر عدالت کی معاونت کریں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم نامے میں بات ریکارڈ منگوانے کی حد تک ہوتی تو یہ معاملہ الگ تھا۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے ارٹیکل 175 ای میں متعلقہ عدالتوں سے ریکارڈ منگوانے کی حد تک کا ہی ذکر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم دو اداروں کا ٹکراؤ نہیں چاہتے اور چاہتے ہیں کہ دونوں ادارے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی فوجداری اپیل میں کوئی آئینی تشریح درکار نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست میں بھی کسی آئین کی تشریح کی ضرورت نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا۔
بدھ کو ان درخواستوں کی سماعت کا حکم نامہ لکھواتے ہوئے بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ حکم نامے میں چونکہ اس مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 16 ستمبر مقرر کی گئی تھی تو عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کے بعد کچھ درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ہوئیں، جس میں عمران خان کی طرف علاج کے لیے ریلیف مانگ گیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ آئینی عدالت میں چلا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ آئننی عدالت نے ان درخواستوں پر کارروائی کو آگے بڑھانے سے پہلے سپریم کورٹ سے زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر کے انھیں آئینی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کہا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ اٹارنی جنرل اس معاملے میں سپریم کورٹ کی معاونت کریں کہ اسی نوعیت کے زیر التوا مقدمات کو آگے کیسے بڑھا جائے۔
جسٹس شاہد وحید نے حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ ایسا نہیں چاہتی کہ اعلیٰ ترین عدالتوں میں کوئی تضاد سامنے آئے۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی لکھوایا کہ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں جو کچھ ہوا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔
بعدازاں اٹارنی جنرل کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اِن درخواستوں کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
کیا عمران خان کا کیس اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو جائے گا؟
بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئینی عدالت کی طرف سے عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ طلب کرنے کے بعد سپریم کورٹ سابق وزیر اعظم کی شفا انٹرنیشنل میں منتقلی کا کیس مزید نہیں سن سکے گی۔
قانونی ماہر معیز جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی بھی ماتحت عدالت سے ریکارڈ طلب کر لے تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ سماعت ماتحت عدالت میں نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہ ان تین قیدیوں کی درخواستوں میں معاملہ جیل مینیوئل کا ہے کہ آیا انھیں علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے وہ ججز جنھوں نے عمران خان کو علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، وہ اگر چاہیں تو توہین عدالت سے متعلق عمران خان کی بہن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کر سکتے ہیں۔