عابد میر: ’بھائی سے انجان نمبر کے ذریعے بات ہوئی وہ شمالی علاقہ جات کہیں دوستوں کے پاس ہیں‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
- وقت اشاعت
آٹھ مارچ کی شام سے لاپتہ بلوچ صحافی و مصنف عابد میر کے اہلخانہ کا کہنا ہے انھیں لاپتہ صحافی کی ’انجان‘ نمبر سے کال موصول ہوئی ہے مگر جب تک وہ بخیریت گھر نہیں آجاتے ’ہم پریشان رہیں گے۔‘
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عابد میر کے بھائی خالد میر نے جمعہ کی صبح آگاہ کیا کہ اُن کی اپنے بھائی عابد میر سے ’ایک انجان نمبر پر بات ہو گئی ہے اور انھوں نے بتایا کہ وہ شمالی علاقہ جات میں کہیں ’دوستوں‘ کے پاس موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ’مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ اگلے دو، تین روز تک رابطہ نہیں کر سکیں گے۔ لیکن جب تک وہ خیریت سے گھر نہیں پہنچتے ہم لوگ پریشان رہیں گے۔‘
ترجمان اسلام آباد پولیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خالد میر کے بیان کی تائید کی اور کہا کہ عابد میر شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں اور جلد ہی گھر لوٹیں گے اور ان کی اپنے بھائی سے اس حوالے سے گفتگو ہو چکی ہے۔
مصنف اور صحافی عابد میر کی اسلام آباد سے گمشدگی کی خبریں آٹھ مارچ سے گردش کر رہی تھیں اور ان کو بازیاب کروائے جانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی تھی تاہم اس واقعے میں موڑ اس وقت آیا جب گذشتہ روز بلوچی ادب پر مہارت رکھنے والے ڈاکٹر شاہ محمد مّری کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا گیا کہ ’عابد میر دوستوں کے پاس ہیں اور خیریت سے ہیں۔‘
گذشتہ شب اسلام آباد پولیس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ عابد میر بخیریت گھر پہنچ چکے ہیں لیکن یہ بیان جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد خالد میر نے اس بیان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد پولیس غلط بیانی کر رہی ہے۔ ہمارا عابد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی وہ گھر پہنچے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اسلام آباد سے عابد میر کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جبکہ لوک سجاگ، جس ادارے سے عابد منسلک ہیں، نے بھی اپنے پیغامات میں شدید تشویس کا اظہار کیا ہے اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر عابد کی تحریر بھی شیئر کی۔
عابد میر کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور بلوچستان کے طویل عرصے سے شورش زدہ حالات پر ان کی تحریریں موضوعِ بحث رہتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حال ہی میں ان کے رشتہ دار اور آن لائن کے بیورو چیف ارشاد مستوئی کو دو اسلحہ بردار افراد نے بلوچستان میں گولیوں سے ہلاک کیا تھا۔ ان کے ساتھ دو اور لوگ بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
عابد میر کے قریبی دوست زاہد کاظمی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کا کچھ کتب کی اشاعت سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر عابد سے رابطہ رہتا تھا مگر ’بُدھ کو انھوں نے میرے واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغامات کو دیکھا تک نہیں۔‘ ان کے مطابق انھیں اب دیگر دوستوں کے ذریعے ان کی گمشدگی کا پتا چلا ہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی کِیا بلوچ کے مطابق عابد میر صاحب ایک صحافی، کالم نگار اور مصنف ہیں، جو تنقیدی تحریروں اور کہانیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’میر بلوچستان میں حکام اور ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ میر نے اپنی قلم سے بلوچستان کے ایسے مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی قردار ادا کی ہے جو میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے۔‘
لوک سجاگ ڈاٹ کام کے مینجینگ ایڈیٹر طاہر مہدی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عابد میر لوک سجاگ ڈاٹ کام بلوچستان کے ایڈیٹر ہیں اور یہ ادارہ دور دراز ایسی خبروں پر کام کرتا ہے جنھیں عام طور پر مین سٹریم میڈیا میں جگہ نہیں مل پاتی۔ ان کے مطابق ان کے ادارے کے ہر صوبے کے ایڈیٹر ہیں اور سب کا کام دوردراز لوگوں کو درپیش مسائل پر قلم اٹھانا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سوشل میڈیا پر بھی عابد میر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے کہا کہ ’کل رات اسلام آباد پولیس نے دعوی کیا وہ گھر پہنچ گئے ہے مگر وہ ابھی تک گھر نہیں پہنچے۔ ملک کا ایک شہری غائب ہے، سمجھ نہیں آ رہی شمالی علاقہ جات سے کال کرنے والا نامعلوم دوستُ کون ہے جس کے پاس عابد ہے۔‘
ادھر صحافی عمر چیمہ کہتے ہیں کہ ’عابد میر نے سوچا ہو گا کہ اسلام آباد قدرے محفوظ جگہ ہے ادھر کچھ نہیں ہو گا نہ جانے غائب کرنے والوں کے کیا معیار ہیں جس کو چاہا جہاں سے چاہا اٹھا لیا، زخم مند مل کرنے کی بجائے اور زخم لگائے جا رہے ہیں۔‘
بلوچستان کے رکن صوبائی اسمبلی ثنا اللہ خان نے کہا کہ ’عابد میر بلوچستان کے ایک جاندار مصنف، ادیب اور نقاد ہیں۔ اسلام آباد سے ان کے لاپتہ ہونے کی خبریں اہل بلوچستان و خاندان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ’وفاقی حکومت و اسلاد آباد کی انتظامیہ فوری طور پر ان کو بازیاب کرے۔ ایسے واقعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتا ہے۔‘






















