کینیا: پابندی کے برسوں بعد بھی چین کی غیر محفوظ مانع حمل گولیاں کی فروخت جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک سال پہلے جب سوزن ومیتھا کو لگا کہ وہ بیمار ہیں تو انھوں نے سوچا کہ یہ اس مانع حمل گولی کے مضر اثرات ہیں جو انھوں نے چند ماہ پہلے لینا شروع کی تھی، لیکن پتہ یہ چلا کہ وہ آٹھ ہفتوں کی حاملہ تھیں۔
اب 32 سالہ سوزن تین بچوں کی ماں ہیں، لیکن وہ نہیں جانتیں کہ انھوں نے جون 2021 میں جو گولی استعمال کرنا شروع کی تھی اس دوا پر کینیا میں پابندی لگا دی گئی تھی۔
کینیا میں عام طور پر لوگ اس گولی کو’صوفیہ` کے نام سے جانتے ہیں، لیکن یہ گولی چین میں بنتی ہے اور کی ڈبیا پر لکھی ہوئی تمام تفصیلات صرف چینی زبان میں ہوتی ہیں۔
پہلی سطر کے ترجمے میں کہا گیا ہے کہ اس ڈبیا میں ’لیونورجسٹریل فاسٹ ایسٹراڈیول‘ گولیاں موجود ہیں۔ دوسری سطر کے مطابق یہ مانع حمل گولی ایک ’طویل عرصے تک کام کرتی ہے۔ اس کے بعد تیسری لائن میں یہ گولی بنانے والی کمپنی کا نام لکھا ہوا ہے، یعنی’’زیزو فارماسیوٹیکل کمپنی لمیٹڈ۔‘
کینیا کے حکام نے 10 سال قبل اس گولی کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ اس میں لیونورجسٹریل کی مقدار مانع حمل گولیوں کی تجویز کردہ سطح سے 40 گنا زیادہ تھی۔
لیونورجسٹرل ایک ہارمونل دوا ہے جو پیدائش کے کنٹرول کرنے کے متعدد طریقوں میں استعمال ہوتی ہے۔
کینیا کی وزارت صحت نے اس گولی پر جو تحقیق کی اس کے تمام نتائج کے بارے میں لوگوں کو نہیں بتایا لیکن اتنا ضرور کہا کہ اگر یہ گولی حمل روکنے میں ناکام ہو جاتی ہے اور پھر بھی بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے بچوں میں بلوغت جلدی ہو جاتی ہے۔
سوزن کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ میری بہت سی سہیلیاں یہ گولی استعمال کر رہی تھییں اور ان میں اس کے کوئی مضر اثرات ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کینیا کی بہت سی دوسری خواتین کی طرح، سوزن نے بھی گولی لینا شروع کر دی کیونکہ یہ سستی تھی اور آپ کو مہینے میں صرف ایک گولی کھانا ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPPB
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خواتین ہر ماہ صرف ایک ’صوفیہ‘ خریدتی ہیں کیونکہ زیادہ تر دوا فروش زیادہ مقدار میں فروخت نہیں کرتے۔ ایک گولی کی قیمت 300 کینیائی شلنگ ( اڑھائی امریکی ڈالر) سے 400 شلنگ کے درمیان ہوتی ہے۔
ملک میں دستیاب خاندانی منصوبہ بندی کے دیگر طریقوں میں خواتین کو وہ مانع حمل گولی لینا پڑتی ہے جو روزانہ ایک گولی کھانا ہوتی ہے۔ سرکاری اسپتالوں سے ایک ماہ کی گولیاں تقریبا 1.70 ڈالر میں مل جاتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں یہ گولیاں ہر وقت دستیاب ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین کو روزانہ کھانے والی گولیاں دکانوں خریدنا پڑتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین متبادل کے طور پر ہارمونل امپلانٹ والے طریقے پر عمل کرتی ہیں جس کے بعد آپ کو تین ماہ تک حمل نہیں ہوتا۔ سرکاری اسپتالوں میں ہارمونل امپلانٹ تقریباً 5 ڈالر میں دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کوائلز کا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا جو برسوں تک کارآمد رہتا ہے اس کی قیمت تقریباً نو ڈالر ہوتی ہے۔
عوامی بیت الخلاء اور ایسے دفاتر جہاں عام لوگوں کا آنا جانا ہوتا رہتا ہے ، وہاں کنڈوم بھی مفت مہیا کیے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ ختم ہوجاتے ہیں، حالانکہ کنڈوم دکانوں پر دستیاب ہوتے ہیں۔
ومیتھا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'چونکہ میں حمل سے بچنے کے لیے تانبے کی بنی ہوئی ٹی شکل کی کنڈلی رکھوا ئی ہوئی تھی اور وہ مجھے کمر میں درد دے رہی تھی، اس لیے میں نے اسے نکال کرگولی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
ومیتھا نے گولی کو اس لیے بھی ترجیح دی کیونکہ ان کی جو سہیلیاں ’صوفیہ‘ استعمال کرنے کا کہہ رہی تھیں، گولی سے ان کے وزن میں بھی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ ومیتھا کہتی ہیں کہ ایسی کوئی مانع حمل چیز نہیں استعمال کرنا چاہتی تھیں جس سے ان کا وزن بڑھ جائے۔
لیکن گولی شروع کرنے کے بعد سے وہ بہت اچھا محسوس نہیں کررہی تھیں۔ انھوں نے سمجھا کہ ان کا جسم نئی ادویات کا عادی ہونے میں صرف وقت لے رہا ہے اور کچھ عرصے بعد ان کا جسم اس نئی گولی کو بھی قبول کر لے گا۔ ۔شروع شروع میں انھیں ہر ماہ دو گولیاں کھانا پڑتی تھیں جس کے بعد ایک ماہ میں ایک گولی۔
’'مجھے سر درد اور متلی ہونے لگی۔ پہلے مہینے مجھے ماہواری نہیں ہوئی۔"
اس بات نے ومیتھا کوفکر مند نہیں کیا کیونکہ اگلے مہینے انھیں ماہواری ہو گئی، لیکن جب تیسرے ماہ انھیں پھر ماہواری نہیں ہوئی۔ یہ صرف اس وقت تھا جب اس نے تیسرے مہینے میں دوبارہ چھوڑ دیا کہ وہ فکر مند ہونے لگی.
اس کے بعد ومیتھا کے شوہر نے مانع حمل گولی پر تحقیق شروع کی تو انہیں پتہ چلا کہ اس پر پابندی عائد کی جا چکی تھی۔
ومیتھا کا کہنا تھا کہ اس کے بعد دونوں میاں بیوی ممنوعہ گولی کے استعمال کے بارے میں گھبرا گئے اور ’جب مجھے احساس ہوا کہ میں حاملہ ہوں تو میں اپنے بچے پر اس کے اثرات کے بارے میں فکرمند ہو گئی۔‘
اب ان کے پاس تین ماہ کی ایک صحت مند تین ماہ کی بچی ہے ، لیکن یہ جوڑا معلومات کی کمی اور اپنی بیٹی پر ممکنہ مضر اثرات کا سوچ کے پریشان ہیں کہ بچی وقت سے پہلے بالغ تو نہیں ہو جائے گی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق صحارا کے زیریں افریقی ممالک میں صرف 50 فیصد خواتین کو جدید مانع حمل طریقوں تک رسائی حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہJosephine Kibaru
جہاں تک کینیا کا تعلق ہے، یہاں مانع حمل ادویات یا دیگر طریقوں کے بارے میں کھل کے بات نہیں کی جاتی، جس کی بڑی وجہ اس پدر سری معاشرے کی ثقافتی اور مذہبی عقائد ہیں۔
بعض مرد اپنی بیویوں کو مانع حمل ادویات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے جبکہ بعض مذہبی فرقے اس کے خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر مشرقی کینیا میں کاونوکیا نامی مسیحی فرقہ تمام جدید ادویات کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ فرقہ سمجھتا ہے بچے کی پیدائش کے حوالے سے بائبل میں صرف دعا کی اجازت دی گئی ہے۔
آبادی اور ترقی کے ماہر ڈاکٹر جوزفین کبارو کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقوں کو قبول کرنے کے لیے نچلی سطح پر کام کرنا ایک بہتر حکمت علمی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر کبارو نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہمیں کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی ضرورت ہے کہ جو زیادہ بااختیار ہوں کیونکہ ایک خاتون ڈسپنسری میں تعینات ہیلتھ کیئر ورکر سے زیادہ اپنی پڑوسن اور دوست پر بھروسہ کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ برتھ کنٹرول کے دستیاب طریقوں کے بارے میں لاعلمی کی ایک خلیج پائی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ بہت سی غلط فہمیاں بھی پایی جاتی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
شاید کینیا میں ان دونوں کے امتزاج ضرورت ہے کیونکہ گائناکالوجسٹ برجیڈ مونڈا کا کہنا ہے کہ خواتین کی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے عملے سے بھی مشورہ کرنا چاہئے تاکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے ایسے طریقے اپنا سکیں جو کے لیے زیادہ موزوں ہوں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ایک ہی سائز سب کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔‘
اس کے باوجود دیہی علاقوں میں واقع ڈسپنسریوں میں مانع حمل ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی کی وجہ سے کچھ خواتین کو ملے جُلے طریقے اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
پابندی کے باوجود صوفیہ کی گولی آسانی سے دستیاب رہتی ہے۔ ڈاکٹر کبارو کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ خواتین کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ معلومات کی ناقص فراہمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں صرف میڈیا کا استعمال کافی نہیں ہے بلکہ نچلی سطح پر اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ عوام اچھی طرح سمجھ سکیں کہ کسی دوا پر پابندی کیوں عائد کی جاتی ہے۔
دوا فروش جانتے ہیں کہ صوفیہ پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، اور اس حوالے سے وزارت صحت کی طرف سے گزشتہ ماہ ایک اور انتباہ جاری کیا گیا تھا اس کے باوجود دکاندار یہ گولی فروخت کر رہے ہیں۔
دکانوں میں یہ گولی سامنے نہیں رکھی جاتی بلکہ یہ اکثر ان قابل اعتماد گاہکوں کو فروخت کی جاتی ہے جو ہر ماہ خریدنے آتے ہیں.
بی بی سی نے دارالحکومت نیروبی میں متعدد فارمیسیوں کا دورہ کیا اور صوفیہ کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
ایک دوا فروش نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس یہ گولی موجود ہے لیکن سامنے نہیں رکھی جاتی۔مذکورہ دوا فروش نے بتایا کہ وہ لوگ صوفیہ ایسے سپلائرز سے خریدتے ہیں جو اسے پڑوسی ممالک سے لاتے ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں فارمیسی اینڈ پوائزنز بورڈ (پی پی بی) کے ایک عہدیدار نے کینیا کے روزنامہ ’اسٹینڈرڈ‘ کو بتایا تھا کہ انھوں نے صوفیہ کی ایک کھیپ کینیا اور یوگنڈا کی درمیانی قرحد پر پکڑی تھی۔
ومیتھا کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے لیےگولیاں ایک دوست سے خریدی تھیں جو ایک سپلائر سے گولیاں تھوک کے بھاؤ لیتا ہے۔
ومیتھا کے بقول جب انھوں نے اپنے دوست سے گولیاں لانے کا کہا تھا تو اسے اور باقی ارد گرد کے لوگوں کو معلوم تھا کہ صوفیہ پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔
صوفیہ استعمال کرنے کے باوجود ومیتھا حاملہ ہو گئیں لیکن اس کے باوجود ان کی سہیلیاں یہ گولی چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئیں۔ اسی طرح فیس بُک پر موجود خواتین کے مختلف فورمز پر بھی کئی خواتین نے صوفیہ کے حوالے اپنی شکایت کا ذکر کیا ہے لیکن بہت سی خواتین اب بھی یہ گولی استعمال کر رہی ہیں۔
ان میں سے کم از کم تین فورمز پر صوفیہ کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے ، جہاں یہ گولی لینے والی متعدد خواتین نے کہا کہ وہ گولی لینے کے باوجود حاملہ ہوگئیں۔
اس چیز نے کم از کم ومیتھا کو قائل کر دیا کہ وہ اپنی سہیلیوں اور اور دیگر خواتین پر زور دیتی رہیں کہ وہ برتھ کنٹرول کے لیے کسی اور طریقے کے بارے میں سوچیں۔
’میں تو صرف یہ جانتی ہوں کہ صوفیہ کے ذکر سے ہی میرے جسم میں جھرجھری ہونے لگتی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے چوتھے حمل کو روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کا کون سا طریقہ استعمال کروں گی ، لیکن میں اب صوفیہ کو تو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی۔‘
























