آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’مشکل میں کسی کے کام نہیں آئے تو پھر اس زندگی کا کیا فائدہ‘
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک معمر شخص سیلابی پانی کے ریلے میں جس تیزی سے بہہ رہے تھے اور پھر لمحہ بھر جب وہ پانی کے اوپر نظر نہیں آئے تو ایسا لگا کہ وہ زندہ نہیں بچ پائیں گے۔
لیکن پھر برق رفتاری سے ایک نوجوان ان کی جانب بھاگتا نظر آتا ہے اور انھیں دبوچ لیتا ہے۔ پانی کے تیز بہاﺅ کی وجہ سے دونوں کو سنبھلنے میں مشکل پیش آتی ہے اور ایسے میں ایک دوسرا نوجوان بجلی کی تیزی سے ان کی جانب لپکتا پے اور معمر شخص کو تھام کر بہہ جانے سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ دونوں انھیں بحفاظت پانی سے باہر لے آتے ہیں۔
یہ مناظر پاکستان میں ایک وائرل ہونے والی ویڈیو کے ہیں اور ریسکیو کرنے والے یہ دونوں نوجوان آپس میں سگے بھائی ہیں جو کہ بزرگ شخص کے لیے کسی غیبی فرشتے سے کم ثابت نہیں ہوئے۔
بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے ان میں سے بڑے بھائی محب اللہ نے کہا کہ ’اگر میں اور میرا چھوٹا بھائی لیاقت علی چند سیکنڈ دیر کرتے تو پھر شاید بزرگ شخص کو سیلابی ریلے میں تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ آگے برساتی نالے کی گہرائی بہت زیادہ ہے۔‘
بزرگ شخص کو بچانے والے یہ بھائی کون تھے اور وہ وہاں کیوں موجود تھے اس کا تذکرہ بعد میں لیکن سب سے پہلے ذکر اس واقعے کا جس میں بزرگ شخص ایک خطرے سے نکل کر دوسرے سے دوچار ہوا۔
یہ واقعہ کیسے پیش آیا ؟
نوشکی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں جمعرات کو بارش ہوئی تھی جس کے باعث متعدد برساتی نالوں میں پانی آ گیا تھا۔
اس حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ان برساتی نالوں میں نوشکی شہر کے جنوب مغرب کی جانب چند کلومیٹر کے فاصلے پر دوسے نالہ بھی شامل تھا جس میں ایک تیز سیلابی ریلا گزرہا تھا۔
یہ سیلابی ریلا اتنا تیز تھا کہ مل کے علاقے سے نوشکی جانے والی ایک مسافر ویگن اس کے تیزبہاﺅ کی وجہ سے روڈ سے نیچھے لڑک گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محب اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے بھائی سمیت چند لوگ وہاں اس لیے کھڑے تھے کہ پانی کا بہاﺅ تیز ہونے کے باعث اس سے پیدل گزرنا ممکن نہیں تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ کوئٹہ اور ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ پرگزرنے والے اس نالے کے ایک کنارے پرکھڑے تھے کہ مسافر ویگن ان کے سامنے پانی کے بہاﺅ کی وجہ سے الٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی اس میں سے خواتین اور بچوں کے چیخوں کی آوازیں نکلنی شروع ہوگئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پانی کا بہاﺅ تیز تھا لیکن جب انھوں نے خواتین اور بچوں کی چیخیں سنیں تو ان سے رہا نہیں گیا تو وہ اور ان کے بھائی ویگن کی طرف بڑھے۔
’اس موقع پر وہاں کھڑے لوگوں میں سے بعض نے کہا کہ خطرہ ہے لیکن میں نے کہا کہ اگر اس مشکل میں کسی کے کام نہیں آئے تو پھر اس زندگی کا کیا فائدہ‘۔
محب اللہ نے بتایا کہ بعض لوگوں نے پانی میں الٹنے والی گاڑی سے خود نکلنے کی کوشش کی جبکہ خواتین اور بچوں کو نکالنے میں ہم نے مدد کی۔
انھوں نے بتایا کہ جو بزرگ شخص پانی میں بہہ رہے تھے وہ بھی اس ویگن میں سفر کررہے تھے۔
پانی میں بہہ جانے والے شخص کی شناخت حاجی عبدالستار کے نام سے ہوئی جن کا تعلق ضلع نوشکی کے علاقے مل سے ہے۔
ان کے بیٹے محمد ابراہیم نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد کی عمر 60 سال یا اس سے کچھ زیادہ ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اُس روز وہ گھر سے حادثے سے دوچار ہونے والی مسافر ویگن میں نوشکی کے لیے نکلے تھے جہاں سے ان کو 40 روز کے لیے آگے ایک تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا تھا۔
محمد ابراہیم نے بتایا کہ والد کو نئی زندگی ملنے پر وہ اور ان کے خاندان کے تمام افراد انتہائی خوش ہیں اور ہم دونوں بھائیوں کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر والد کو بچانے پر دعا گو ہیں اور ان کے بہت بہت شکر گزار ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے بعد وہ اپنے والد کو جمعے کے روز کوئٹہ لائے اور ڈاکٹر سے ان کا طبی معائنہ کرانے کے بعد ان کو جیکب آباد کے لیے روانہ کردیا کیونکہ ان کے جماعت کے ساتھی پہلے ہی جیکب آباد پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’پانی سے نکالنے کے بعد بزرگ شخص بے ہوش ہوا‘
محب اللہ نے بتایا کہ جب ہم نے بزرگ شخص کو پانی کے تیز بہاﺅ سے بچایا تو وہ اس وقت ہوش میں تھے لیکن جب ہم نے ان کو باہر نکال دیا تو وہ بے ہوش ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں کہ آیا وہ سردی کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے یا ایک خطرے کے صدمے سے نکلنے کے بعد دوسرے خطرے سے دوچار ہونے کے صدمے سے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب ہم نے ان کے ہاتھ پیر ملے اور ان کو ہوش میں لانے کے لیے جو ذہن میں آتا تھا وہ کیا تو ہوش میں آ گئے۔ وہ اس بات پر حیران تھے کہ وہ کیسے بچ گئے۔‘
بزرگ شخص نے ہمیں بتایا کہ ’جب وہ پانی میں ڈوبے تو سمجھ گئے کہ اب یہ زندگی کا آخری لمحہ ہے۔ بچ جانے پر وہ بہت خوش تھے۔ اللہ کا شکرادا کرنے کے بعد ہمیں یہ دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی سات پُشتوں کو آباد رکھے۔‘
’اللہ نے ہمیں بزرگ شخص کے لیے غیبی فرشتہ بنایا‘
محب اللہ اور ان کے چھوٹے بھائی لیاقت علی کا تعلق نوشکی شہر کے مغرب میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قدیم کلی، بدل کاریز سے ہے ۔
21 سالہ محب اللہ نے چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی 19سالہ لیاقت علی نے میٹرک کیا ہے۔
محب اللہ نے بتایا کہ وہ 8 بھائی ہیں جن میں سے وہ خود غربت کی وجہ سے اپنے تعلیم کو آگے جاری نہیں رکھ سکے۔
وہ دونوں فٹبال کے اچھے کھلاڑی ہیں اور لیاقت علی بلوچ فٹ بال کلب نوشکی کے گول کیپر ہیں۔
اپنے خاندان کے ذرائع معاش سے متعلق سوال پر محب اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشی حالات تلخ ہیں کیونکہ آٹھوں بھائی بے روزگار ہیں اور خاندان کے معاش کا کوئی دیگر زریعہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ محنت مزدروی کرتے ہیں۔
محب اللہ نے بتایا کہ وہ اوران کا بھائی ایک دوست کی زرعی اراضی پر جانے کے لیے گھر سے نکلے تھے جہاں انھوں نے کپاس کے فصل کی کٹائی کے بعد اس کے خشک پودوں کو کاٹنا تھا۔
’چونکہ سردیوں میں جلانے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اس لیے دوست نے کہا تھا کہ وہ ان سوکھے پودوں کا آدھا ہمیں دے گا جس کو ہم نے گھر لانا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ چونکہ برساتی نالے پر پانی کا بہاﺅ بہت تیز تھا اس لیے ہم پانی کے کم ہونے کا انتظار کرنے کے لیے وہاں ایک طرف کھڑے ہوگئے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ اور بھی لوگ کھڑے تھے کہ اچانک پانی کے تیز بہاﺅ سے مسافر ویگن پل سے لڑک گئی جس کے باعث لوگوں نے چیخ و پکار شروع کر دی کیونکہ ویگن کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔
محب اللہ نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی ویگن کے مسافروں کی مدد میں لگے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے کہا کہ بزرگ شخص پانی میں بہہ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جیب میں موبائل فون اور دوسری چیزیں تھیں لیکن مجھے ان کو جیبوں سے نکالنے کا خیال نہیں آیا بلکہ سردی سے بچاﺅ کے لیے ان کے پاس جو چادر تھی اسے پھینک کر میں پانی میں داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ ’مجھے اورمیرے بھائی کو تھوڑی بہت تیراکی آتی تھی کیونکہ بچپن میں ہم اپنے کلی اور اس کے نواحی علاقوں میں پانی کے تالابوں میں تیراکی کرتے تھے۔‘
’تاہم ایک چھوٹے تالاب کے کھڑے پانی اور تیز بہنے والے پانی میں تیراکی میں بہت فرق ہوتا ہے کیونکہ تیز بہنے والے پانی میں اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔‘
’سیلابی ریلے میں داخل ہونے سے پہلےذہن میں صرف ایک خیال آیا کہ بزرگ شخص کو بچاﺅں گا یا ان کے ساتھ ڈوب جاﺅں گا۔‘
محب اللہ نے بتایا کہ ان کے اپنے والد محمد ہاشم بھی اس بزرگ کی عمر کے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اگر وہ پانی میں اترنے کی ہمت نہیں کرتے تو جب بھی اپنے والد کو دیکھتے تو بہت شرمندگی محسوس کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کام کی ہمت مجھے اور میرے بھائی کو اللہ تعالیٰ نے دی جس پر ہم بہت خوش ہیں اور لوگوں کی جانب سے ہمیں بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔‘