آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ میں ’کارڈف کے قلعے‘ پر پاکستانی پرچم لہرانے پر تنازع
- مصنف, ڈیوڈ ڈینز
- عہدہ, ویلز سے سیاسی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
برطانیہ میں ایک سیاستدان کی جانب سے کارڈف کے قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانے پر تنقید کے بعد ویلز کی پارلیمان میں کنزرویٹو پارٹی کی رکن نتاشا اصغر نے ریفارم پارٹی پر نسلی تنازع پیدا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
خیال رہے کارڈف، ویلز کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے، جو برطانیہ کے مغربی حصے میں واقع ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے اس سال اگست میں ملک کے یومِ آزادی کی مناسبت سے دو دن کے لیے پاکستان کا پرچم لہرایا تھا۔
پارٹی کے اقتصادی ترجمان رابرٹ جینرک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے کہا کہ پرچم لہرانا ’ہماری ثقافت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش‘ تھا۔
سینیڈ سے ویلش کنزرویٹو رکنِ نتاشا اصغر نے کہا کہ ایسی تقاریب ’قبضہ‘ نہیں بلکہ ’احترام‘ کی ایک شکل ہیں۔
ریفارم ویلز کے ایک ترجمان نے کہا: ’ویلش ڈریگن یا یونین فلیگ کے علاوہ کوئی اور پرچم ہماری تاریخی عمارتوں پر نہیں لہرانا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ ’ریفارم یو کے‘ برطانیہ کی ایک دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے، جو امیگریشن میں کمی اور برطانوی قومی شناخت اور روایات کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔
جینرک کی فیس بک پوسٹ ایکس پر دائیں بازو کی شخصیات اور مبصرین کی متعدد پوسٹوں کے بعد آئی، جن میں ریفارم ویلز کے ڈین تھامس بھی شامل تھے، جنھوں نے اسی موضوع پر اظہارِ خیال کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سال کے علاوہ بھی ماضی میں کارڈف قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرایا جا چکا ہے۔
بعض پوسٹوں میں، جن میں تھامس کی پوسٹ بھی شامل تھی، ایک ایسی تصویر استعمال کی گئی جو اصل میں 2024 میں ایک بی بی سی صحافی نے اسی سال 14 اگست، یعنی پاکستان کے یومِ آزادی پر، پوسٹ کی تھی۔
جینرک کے اکاؤنٹ نے کارڈف قلعے میں ہونے والی ایک تقریب کی ویڈیو دوبارہ پوسٹ کی، جس میں سینیڈ کے بعض ارکان نظر آتے ہیں اور پرچم لہرایا جا رہا ہے۔
انھوں نے لکھا: ’کارڈف قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا ہے۔‘
’ہم اپنی ثقافت پر غلبہ حاصل کرنے کی اس کوشش کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟ اب ہم یہ ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔‘
’میں تاریخی عمارتوں پر غیر ملکی پرچم لہرانے سے تنگ آ چکا ہوں۔ ریفارم کی حکومت کے تحت یہ افسوسناک اطاعت ختم ہو گی اور ہم اپنی قومی شناخت کو دوبارہ مضبوط کریں گے۔‘
ریفارم ویلز اس سے پہلے بھی کارڈف بے میں سینیڈ کے باہر یوکرین کا پرچم لہرانے پر اسی نوعیت کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراض کر چکی ہے۔
کاسنیوِد اِسلوِن سے تعلق رکھنے والی نتاشا نے کہا: ’میں انڈین، پاکستانی، پولش اور دیگر برادریوں کی پرچم کشائی کی کئی تقریبات میں شریک رہی ہوں۔ میرے خیال میں یہ بہت اچھی تقریبات ہوتی ہیں جن میں مختلف سیاسی جماعتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ حصہ لیتے ہیں۔‘
’میں ریفارم کو مشورہ دوں گی کہ وہ ان تقریبات میں جا کر خود دیکھیں کہ مختلف برادریاں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہتی ہیں۔ یہ تقریبات کسی برادری کی جانب سے قبضہ جمانے کی کوشش نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے احترام اور ہم آہنگی کا اظہار ہوتی ہیں۔‘
ثقافتی غلبے سے متعلق تبصروں کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا: ’میں واقعی ریفارم کی طرف سے نسلی تنازع شروع کرنے اور بھڑکانے کی کوششوں سے تنگ آ چکی ہوں۔‘
انھوں نے کہا: ’ریفارم ایسی چھوٹی چیزوں کو اٹھا کر عوام کی توجہ منفی خبروں سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔‘
نتاشا اصغر کے والد، ایم ایس محمد اصغر، تقسیم سے پہلے کے انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور پاکستان میں پلے بڑھے تھے۔
پلیڈ کی ویسٹ منسٹر رہنما لِز سیویل رابرٹس نے مزید کہا: ’ایک ناکام کانفرنس کے بعد رابرٹ جینرک ریفارم کے پسندیدہ ہتھکنڈے کا سہارا لے رہے ہیں، یعنی تقسیم پیدا کرو اور امید کرو کہ کوئی ان کی اپنی جماعت کے انتشار پر توجہ نہ دے۔‘
’ویلش شناخت کسی دوسرے ملک کے پرچم سے خطرے میں نہیں پڑتی۔‘
کارڈف کونسل کے لیبر رہنما کرس ویور نے کہا: ’9 اگست کو پرچم کشائی کی ایک تقریب منعقد ہوئی تھی، جس کے بعد پرچم رات بھر لہراتا رہا۔ اسے 14 اگست کو بھی پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے لہرایا گیا تھا۔‘
’اس موقع نے کارڈف کے متنوع اور کثیرالثقافتی شہر میں پاکستانی برادری کی خدمات کو تسلیم کرنے اور منانے کا موقع فراہم کیا۔‘
’ہم نے 15 اگست کو انڈیا کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھی یہی کیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ پرچم ’اہم تاریخوں اور مواقع کی نشان دہی کے لیے کونسل کی دیرینہ روایت‘ کے تحت لہرایا گیا تھا۔
’ہم قلعے کی دیواروں پر ویلز اور برطانیہ کے پرچم بھی لہراتے ہیں اور متعلقہ دن وہ سب پرچم بھی وہاں لہرا رہے تھے۔‘
’شہر کی نمایاں شہری عمارتوں میں سے ایک ہونے کے ناطے، کارڈف قلعہ ویلز کے دارالحکومت کے لیے مقامی، قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے مواقع کو تسلیم کرنے کا ایک اہم اور نمایاں ذریعہ فراہم کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’یہ سارا ہنگامہ غلط معلومات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سلسلہ بند ہو۔‘
اتوار کو تھامس کی ایکس پوسٹ، جس میں 2024 کی تصویر شامل تھی، میں کہا گیا تھا: ’اب کارڈف میں لیبر کارڈف قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرا رہی ہے۔‘
پیر کے روز قلعے پر پاکستان کا کوئی پرچم نظر نہیں آیا۔
ایکس پر کنزرویٹو پارٹی کے سابق رہنما اینڈریو آر ٹی ڈیویز نے کہا: ’کیا اس سال قلعے پر یہ پرچم لہرایا گیا تھا؟ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ پرانی تصویر ہے یا نہیں، اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا کونسل کو یہ پرچم لہرانا ہی چاہیے یا نہیں۔‘
بی بی سی ویلز نے ریفارم سے پوچھا کہ تھامس نے دو سال پرانی تصویر کیوں بھیجی اور اپنے پیغام میں حال کا صیغہ کیوں استعمال کیا۔
ریفارم ویلز نے اپنے بیان میں اس نکتے کا جواب نہیں دیا۔