آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماہوا: ’زندگی کے درخت‘ سے کشیدہ جنگلی شراب جسے برطانوی راج میں ’خطرناک‘ قرار دیا گیا
- مصنف, سگاتو مکھرجی
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
- وقت اشاعت
ان پھولوں پر نظر پڑنے سے پہلے مجھے ان کی خوشبو آ چکی تھی۔ میں انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ کے سملپل نیشنل پارک میں صبح سویرے ایک خوبصورت آبشار دیکھ کر رکی تھی جہاں قریبی درختوں سے ہزاروں زرد کلیاں زمین پر گر کر ایک قالین بچھا چکی تھیں۔
سنتھال قبائل سے تعلق رکھنے والے میرے گائیڈ سریش کسکو نے مجھے بتایا کہ یہ ماہوا درخت ہیں۔
ماہوا درخت، یا ماڈہوکا لانگیفولیا، مغربی، وسطی اور مشرقی انڈیا کے جنگلات میں کثرت سے پایا جاتا ہے جسے تین ہزار سال سے یہاں بسنے والے مقامی سنتھال، گونڈ، منڈا اور اوراون قبائل ’زندگی کا درخت‘ کہتے ہیں۔
یہ قبائل ان درختوں کے پھلوں، پھولوں، پتوں اور شاخوں کو خوراک، جانوروں کے چارے، ایندھن، دوا حتیٰ کے پیسے کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ مقامی لوگ ان کی پوجا بھی کرتے ہیں اور ان کی عقیدت میں شعر اور گیت بھی لکھے جاتے ہیں۔
تاہم اس درخت کا سب سے مقبول استعمال موہوا نامی شراب کی صورت میں ہوتا ہے جس کی کشیدگی کا عمل آٹھ دن پر محیط ہوتا ہے۔
اس دن کسکو مجھے جنگل کے کونے پر موجود اپنے گھر لے گیا جہاں اس کی والدہ اور چھوٹی بہن گیتا لکڑی کی آگ پر ایک برتن میں موہوا سے نکلنے والے مادے کو پکا رہی تھیں۔
تھوڑی دیر بعد گیتا نے برتن میں چمچ ڈال کر تھوڑا سا مائع نکالا اور جلتی آگ میں پھینک دیا جہاں سے شعلے بھڑک کر ایک سفید دھوئیں کی شکل میں بلند ہوئے تو کسکو نے کہا ’اس کا مطلب ہے کہ یہ بالکل پاک ہے۔‘
اس شام میں نے پتوں سے بنے ایک کپ میں اس مائع کی چسکیاں لیں جس نے میرے حلق میں ایک دھواں دار پھولوں کی مہک سے بھرپور ذائقہ چھوڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے سوچا کہ ’میں نے پہلے اسے کیوں نہیں چکھا؟‘
زمانہ قدیم سے 1800 تک، کسکو کے خاندان جیسے مقامی لوگ یہ شراب کشیدہ کرتے اور بیچتے تھے تاہم اس جنگلی شراب کو برطانوی راج کے دوران عوامی صحت اور اخلاقیات کے لیے ’خطرناک نشہ‘ تصور کرتے ہوئے باقاعدہ قانون سازی کے تحت پابندی عائد کر دی گئی۔
1878 کے بمبئی اکبری ایکٹ کے تحت ماہوا شراب کی تیاری پر پابندی لگا دی گئی اور مقامی قبائل کے خلاف ماہوا کے پھولوں کی زخیرہ اندوزی پر بھی کارروائی کی گئی۔
اس قانون کی وجہ سے منڈی میں ماہوا کے پھولوں کی کمی ہوئی تو خفیہ طریقے سے مختلف اجزا کی مدد سے ماہوا شراب بنانے کی کوششیں ہوئیں تاہم ایک جانب شراب کا معیار متاثر ہوا تو دوسری جانب برطانوی راج کی جانب سے اس پر قابو پانے کی کوششوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔
برطانوی راج کے دوران مقامی طور پر تیار کردہ شراب پر پابندی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ برطانیہ اور جرمنی سے درآمد ہونے والی شراب نے نوآبادیاتی نظام کو سہارا دے رکھا تھا۔
لندن یونیورسٹی میں جدید تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر ایریکا والڈ کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ چند برطانوی حکام مقامی مشروبات کی ثقافتی اور غذائی اہمیت کو سمجھتے تھے، مالی مفادات ان کے آڑے آ گئے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی انگریز دور کے معاشی اور اخلاقی معیار قائم رہے۔
ڈاکٹر والڈ کا کہنا ہے کہ شراب کی تیاری اور فروخت پر حکومت کی اجارہ داری برقرار رہی اور ماہوا پر سخت قوانین کا پہرہ رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ چند مقامی قوم پرست طبقات کی جانب سے شراب کو ایک بیرونی چیز قرار دیے جانے کی وجہ سے بھی قبائل کی زندگیوں کا ایک اہم جزو مسائل کا شکار رہا۔
اس طرح ماہوا کو ایک کم تر درجے کا خطرناک مشروب مان لیا گیا اور قبائل پر مقامی منڈیوں سے ہٹ کر اس کی فروخت پر پابندی رہی۔
نیو یارک یونیورسٹی میں فوڈ سٹڈیز پروفیسر کرشنیندو رے کے مطابق اس سے آزادی کے بعد ’انڈیا کے امیر طبقے کی اس نفرت کا پتا چلتا ہے جو ان کو مقامی آبادیوں کے طرز زندگی سے تھی۔‘
اس معاشرتی اور سیاسی تناظر میں چند کاروباری شخصیات نے ماہوا کو ایک نئی زندگی دینے کا بیڑا اٹھایا اور قوانین میں تبدیلی کی کوشش کی جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ نتائج برآمد ہوئے۔
ڈیزمونڈ نازاریتھ نے 2018 میں ’ڈیزمونڈ جی‘ کے نام سے ماہوا کا نیا برینڈ لانچ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے گوا میں انڈین میڈ شراب کی کیٹیگری کے تحت ماہوا کو متعارف کروایا جس کے لیے ہم نے حکومت کو بمشکل رضامند کیا۔‘
اب وہ کرناٹک میں بھی ماہوا فروخت کرتے ہیں جو گوا کے بعد اس کی اجازت دینے والی دوسری ریاست ہے۔
انڈین قوانین کے تحت جنگلی مشروبات کو ایک ریاست سے لے جا کر دوسری ریاست میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں تاہم انڈین میڈ شراب کی کیٹیگری ملنے کے بعد دوسری ریاستوں میں فروخت ممکن ہو گئی۔
گذشتہ چند برس کے دوران مقامی حکومتوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 2021 میں مدھیا پردیش حکومت نے ماہوا کو ثقافتی شراب کا درجہ دے دیا جبکہ مہاراشڑا کی حکومت نے مقامی قبائل کی جانب سے ماہوا پھولوں کی ذخیرہ اندوزی کو قانونی تحفظ دے دیا۔
اسی سال پہلی بار ایک سرکاری تنظیم نے خشک ماہوا پھولوں کو فرانس برآمد بھی کیا تاہم چند ریاستوں کی جانب سے پابندی کے خاتمے کے برعکس اگر یہ کام ملکی سطح پر ہو تو یہ ایک منافع بخش کاروبار بن سکتا ہے۔
ممبئی کی سوزن ڈیاز نے 2018 میں ماہوا بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس ترکیب موجود ہے، لیکن ہم قومی سطح پر قوانین کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ہم کام شروع کر سکیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کا ماننا ہے کہ ’مقامی طور پر ایسی انڈسٹری کی ضرورت ہے جو قبائل کی مدد بھی کر سکے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مقامی قبائل کے پاس ماہوا پھول اکھٹا کرنے اور ذخیرہ کرنے کا حق ہونا چاہیے جن کو وہ براہ راست فروخت کر سکیں اور منافع کما سکیں۔
نازاریتھ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ وہ وسطی انڈیا کے جنگلات سے قبائل کی مدد سے پھول اکھٹے کرتے ہیں اور جب بات پھولوں پر آتی ہے تو ان کا معیار کافی اہم ہوتا ہے۔
نازاریتھ کوشش کر رہے ہیں کہ ماہوا کی ایک نئی پہچان بن سکے اور اسے جدید طرز پر وسیع پیمانے پر لے جایا جا سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم صرف ان پھولوں کا انتخاب کرتے ہیں جو نیٹ کے ذریعے اکھٹے کیے جاتے ہیں اور پھر ان کو سولر پینلز کی مدد سے خشک کیا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق ذائقے اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے جدید اور یکساں طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں بین الاقوامی معیار کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
شاتبھی باسو انڈیا کی نامور مکسولوجسٹ ہیں، جن کا ماننا ہے ماہوا کو عالمی طور پر متعارف کروانے کے لیے روایتی طریقوں کا استعمال ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سے مشہور عالمی مشروبات پہلے مقامی سطح تک محدود تھے جن کے شہرت کے سفر میں چھوٹے علاقے کے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ماہوا بھی ایک عالمی شہرت یافتہ مشروب بن سکتی ہے۔
نازاریتھ کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی 28 میں سے 13 ریاستوں میں ماہوا تیار ہوتی ہے اور یہ واحد مشروب ہے جو ایک قدرتی طور پر میٹھے پھول سے تیار ہوتا ہے اور اسی لیے ایک منفرد ذائقہ رکھتا ہے۔‘
’دنیا کے لیے ماہوا‘ کے نام سے پراجیکٹ کے تحت نازاریتھ اور بریگینزا اسے 2023 میں برطانیہ اور پھر امریکہ اور دیگر عالمی منڈیوں میں متعارف کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ ایک طویل سفر ہو گا۔ میں نے کسکو سے پوچھا کہ وہ اس کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔
فون پر مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو اس کی زیادہ سمجھ نہیں لیکن میں اپنے لوگوں کو ضرور بتاؤں گا کہ ہمارے مقدس درخت اور اس کے پھولوں کو آخرکار شناخت مل رہی ہے اور ہم ایک اور جام کے ساتھ اس کا جشن منائیں گے۔‘