’سائیکالوجی آف سیڈکشن‘: کامیاب زندگی کی کنجی جو آپ کو پُرکشش اور بااختیار بنا سکتی ہے

وقت اشاعت

’اگر آپ اپنے ایک عام دن کے بارے میں سوچیں جس میں آپ اپنے دفتر میں ساتھ کام کرنے والوں اور دوستوں سے ملتے ہیں، اور آپ ان لوگوں کو قائل کر لیں کہ وہ آپ کو پسند کرنے لگیں۔۔۔ اس سے ہو گا یہ کہ آپ اُن سے اپنی خواہش کے مطابق کام کروا سکیں گے اور آپ کی زندگی کافی آسان ہو جائے گی۔‘

ڈاکٹر راج پرساد ایک ماہر نفسیات ہیں جو کتاب ’سائیکالوجی آف سیڈکشن‘ کے مصنف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ’سیڈکشن‘ یعنی انسانی کشش کامیاب رشتوں کی کنجی ہے۔

بی بی سی ریل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ سیڈکشن کے بارے میں سوچتے ہیں تو غالباً اس کی تشریح جنسی طور پر کسی کو راغب کرنے سے کرتے ہیں، لیکن میں کہوں گا کہ دراصل یہ ایک گہری اور پراسرار چیز ہے جس میں زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا راز چھپا ہے۔‘

ٹیمپیسٹ روز ایک آرٹسٹ ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ آرٹسٹ یا پرفارمر جانتے ہیں کہ ناظرین کو کیسے اپنی طرف راغب کرنا ہے۔

ان کے مطابق آرٹسٹ غیر ارادی طور پر ایسے طریقے سیکھ لیتے ہیں جس سے ان کی پرفارمنس کی جانب لوگ متوجہ ہوں۔

’مجھے معلوم ہے کہ مجھے دیکھںے والوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے آنکھوں کا استعمال کیسے کرنا ہے یا میری کون سی حرکت سے میرے جسم کی جانب لوگ دھیان دیں گے۔‘

’اور یہ سب کچھ اس کہانی کا حصہ ہوتا ہے جو میرا کردار نبھا رہا ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سٹیج پر اداکاری کے دوران ان کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ سیڈکشن درحقیقت کیا ہوتی ہے۔ ’ان تمام نکات کو استعمال کرتے ہوئے ہم اپنے ناظرین سے طاقت، سیکس کے تصور اور گلیمر کے ذریعے ایک رشتہ قائم کر لیتے ہیں۔‘

کوئی کیسے کسی کی توجہ حاصل کرے؟

ڈاکٹر راج پرساد کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس شخص کی توجہ درکار ہے، اس کی ایسی کون سی ضرورت ہے جو پوری نہیں ہوئی۔‘

’پھر اس ضرورت کو اس طرح سے پورا کیا جائے کہ پہلے کسی نے نہ کیا ہو۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ایسے لوگ آتے ہیں جو ناخوش ہوتے ہیں۔

’وہ خوش کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں کہ وہ اپنی زندگی اور دنیا سے مایوس ہوتے ہیں۔ دنیا ان کو وہ چیز نہیں دے رہی جس کی ان کو خواہش ہے۔ جیسا کہ اُن کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہو رہا، ان کو اپنے دوستوں سے ملنے کا وقت نہیں مل رہا، یا اُن کو محبت یا شہرت نہیں مل رہی۔‘

’اس لیے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور دنیا سے چند خواہشات رکھتے ہیں۔‘

’وہ سوچنے لگتے ہیں کہ ان کو وہ چیز کیوں نہیں مل رہی جس کی ان کو خواہش ہے۔‘

ڈاکٹر پرساد کے مطابق دنیا سے اپنی خواہش کے مطابق کام کروانے کے لیے ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ہو گا اور وہ یہ کہ ’دنیا میں کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ دینا ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ ہمیشہ اپنی خواہشات اور ضروریات کے بارے میں سوچتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے سامنے والے شخص کی ضرورت یا خواہش کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘

’ہم نہیں سوچتے کہ ان کو زندگی سے کیا چاہیے؟ دوسروں کو کیا چیز زندگی میں آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے؟ اور سب سے اہم چیز یہ کہ ان کو کس بات سے مایوسی ہوتی ہے؟‘

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر پرساد کہتے ہیں ’دن بھر میں وقت بتانے کے لیے ہم بہت سی باتیں کرتے ہیں لیکن جو لوگ اس کام کے ماہر ہوتے ہیں کہ دوسروں کو کیسے اپنی جانب راغب کیا جائے، وہ اس وقت کو استعمال کرنا جانتے ہیں۔‘

’یہ لوگ اس وقت جان رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی زندگی کی سمت کیا ہے؟ آپ کی خواہش کیا ہے، ضرورت کیا ہے؟‘

’کسی کے دماغ میں گھس کر یہ جانا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کی وہ کون سی ضرورت ہے جو پوری نہیں ہو سکی۔‘

ٹیمپیسٹ روز کہتی ہیں کہ ’بطور اداکارہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں لوگوں کو بتاؤں کہ پرکشش ہونے کے لیے کوئی یکساں قانون نہیں ہے۔‘

’ہم میں سے ہر کسی کی اپنی انفرادی قوت ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر پرساد کہتے ہیں کہ ’لوگوں کی اکثریت میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کو اپنی طرف راغب کرنا نہیں سیکھ سکتے۔‘

’لوگ سمجھتے ہیں کہ یا تو آپ بہت خوبصورت ہوں یا پھر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی خداداد صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوئے ہوں ورنہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔‘

لیکن ڈاکٹر پرساد کا ماننا ہے کہ سیڈکشن کی تکنیک سیکھی جا سکتی ہے۔

’کوئی بھی سیکھ سکتا ہے کہ وہ کیسے دوسروں کے لیے زیادہ پُرکشش ہو سکتا ہے۔‘

’اگر آپ یہ تکنیک سیکھ لیں، تو آپ کسی بھی بہت خوبصورت شخص جتنے پرکشش بن سکتے ہیں۔‘