امریکی ارب پتی جارج سوروس نے نریندر مودی کے بارے میں ایسا کیا کہہ دیا کہ انڈین وزرا سیخ پا ہیں؟

وقت اشاعت

امریکی ارب پتی تاجر جارج سوروس ان دنوں انڈیا میں سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ انڈیا کے وزرا اور حکمراں جماعت بی جے پی جارج سوروس کو ان کے تازہ بیان کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے وزیر اعظم نریندر مودی، اڈانی گروپ اور ہنڈن برگ رپورٹ کے متعلق جارج سوروس کے تبصرے پر سخت تنقید کی ہے۔

سنیچر کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ’رائسینا ڈائیلاگ‘ کے افتتاحی سیشن کے دوران انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکی ارب پتی جارج سوروس کو ’بوڑھا، امیر، متعصب اور خطرناک‘ قرار دیا۔

جے شنکر نے کہا کہ سوروس کے ریمارکس عام ’یورو ایٹلانٹک نقطۂ نظر‘ کے غماز ہیں۔

انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جے شنکر نے کہا: ’سوروس ایک بوڑھے، امیر، متعصب آدمی ہیں جو نیویارک میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ان کے خیالات سے پوری دنیا کی رفتار طے ہونی چاہیے۔۔۔ اگر میں درست طور پر کہوں تو وہ بوڑھے، امیر، سخت گیر اور خطرناک ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انڈیا کے ووٹروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ’ملک کو کیسے چلایا جائے۔‘

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ ’یہ بات ہمیں پریشان کرتی ہے۔ ہم وہ ملک ہیں جو نوآبادیاتی دور سے گزرا ہے، ہم اس خطرے سے بخوبی واقف ہیں کہ جب بیرونی مداخلت ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگر آپ ایسی افواہیں پھیلاتے ہیں کہ جیسے دسیوں لاکھ لوگ اپنی شہریت سے محروم ہو جائیں، تو یہ واقعی ہمارے سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچائے گا۔ اس سے مختلف ممالک میں مختلف پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔‘

وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا: ’ان جیسے لوگ الیکشن کو اس وقت اچھا کہتے ہیں جب ان کی پسند کے لوگ جیت جاتے ہیں اور جب نتیجہ ان کے خلاف ہوگا تو وہ کہیں گے کہ یہ خامیوں والی جمہوریت ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب ایک کھلے معاشرے کی حمایت کرنے کے دکھاوے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔‘

سوروس نے کیا کہا؟

گذشتہ جمعرات کو 92 سالہ امریکی ارب پتی کاروباری جارج سوروس نے جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ ڈیفنس کانفرنس میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سوروس نے کہا تھا: ’انڈیا ایک جمہوری ملک ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی جمہوری نہیں ہیں۔ ان کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینا ایک بڑا عنصر رہا ہے۔‘

سوروس نے کہا: ’مودی اور ارب پتی اڈانی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ دونوں کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اڈانی پر سٹاک میں ہیرا پھیری کے الزامات ہیں اور مودی اس معاملے پر خاموش ہیں لیکن انھیں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور پارلیمنٹ میں سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ اس کی وجہ سے حکومت پر ان کی گرفت کمزور ہوگی۔‘

انھوں نے انڈین ارب پتی تاجر کے متعلق شائع ہونے والی ہنڈنبرگ رپورٹ کے متعلق کہا کہ اس سے انڈیا میں جمہوری عمل کی ’دوبارہ بحالی‘ ہوگی۔

سوروس اس سے قبل بھی مودی پر تنقید کر چکے ہیں۔ جنوری سنہ 2020 میں ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے ایک پروگرام میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’انڈیا کو ہندو قوم پرست ملک بنا رہے ہیں‘۔

جارج سوروس نے کہا تھا کہ یہ انڈیا کے لیے سب سے بڑا اور خوفناک دھچکا ہے، جہاں جمہوری طور پر منتخب نریندر مودی انڈیا کو ہندو قوم پرست ملک بنا رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ مودی کشمیر پر پابندیاں لگا کر وہاں کے لوگوں کو سزا دے رہے ہیں اور انڈین شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں سے شہریت چھیننے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

انڈیا میں تنقید

بہر حال سوروس کے تازہ بیان کے فوراً بعد حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سوروس پر کڑی تنقید کی ہے۔

ایک دن پہلے بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے سوروس کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تمام انڈینز کو متحد ہو کر ملک کے جمہوری عمل میں مداخلت کرنے کی بیرونی طاقتوں کی کوششوں کا جواب دینا چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایرانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’جارج سوروس کا بیان انڈیا کے جمہوری عمل کو برباد کرنے کا اعلان ہے۔‘

لیکن شیو سینا پارٹی سے رکن پارلیمان پرینکا چترویدی نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’جارج سوروس کون ہیں اور بی جے پی کی ٹرول منسٹری ان پر پریس کانفرنس کیوں کر رہی ہے؟ ویسے منتری جی (مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی) کیا آپ انڈیا کے انتخابی عمل میں اسرائیلی ایجنسی کی مداخلت پر کچھ کہنا چاہیں گی؟ وہ انڈیا کی جمہوریت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔‘

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے بھی سوروس کے بیان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ایم سے منسلک اڈانی گھپلہ انڈیا میں جمہوری بحالی کا آغاز کرتا ہے یا نہیں اس کا انحصار کانگریس، اپوزیشن اور ہمارے انتخابی عمل پر ہے۔

’اس کا جارج سوروس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری نہرویائی میراث اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ان جیسے لوگ ہمارے انتخابی نتائج کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘

سوروس پہلے بھی متنازع رہ چکے ہیں

جارج سوروس ایک امریکی ارب پتی صنعت کار ہیں۔ برطانیہ میں، وہ ایسے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں جنھوں نے سنہ 1992 میں بینک آف انگلینڈ کو برباد کر دیا تھا۔

وہ ہنگری کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ہٹلر کے نازی جرمنی میں جب یہودی مارے جا رہے تھے تو وہ کسی نہ کسی طرح بچ گئے تھے۔

بعد میں وہ کمیونسٹ ملک چھوڑ کر مغربی ممالک آ گئے۔ سوروس نے سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگایا اور اس سے تقریباً 44 ارب ڈالر کمائے۔

اس رقم سے انھوں نے ہزاروں سکول، ہسپتال بنائے اور جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیموں کی مدد کی۔

1979 میں، انھوں نے اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جو اب تقریباً 120 ممالک میں کام کرتی ہے۔ اپنے کام کی وجہ سے وہ ہمیشہ دائیں بازو کے نشانے پر رہتے ہیں۔

انھوں نے 2003 کی عراق جنگ پر تنقید کی اور ڈیموکریٹک پارٹی آف امریکہ کو لاکھوں ڈالرز کا عطیہ دیا۔ اس کے بعد ان کے خلاف امریکی دائیں بازو کے حملوں میں شدت آنے لگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد سوروس پر حملے ایک نئی سطح پر پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ جب صدر تھے تو انھیں کئی بار نشانہ بنایا۔

2019 میں ٹرمپ نے ایک ویڈیو کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سوروس نے ہونڈوراس سے ہزاروں پناہ گزینوں کو امریکی سرحد عبور کرنے کے لیے ادائیگی کی تھی۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کے پیچھے سوروس کا ہاتھ ہے تو ٹرمپ کا جواب تھا، ’بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں اور اگر ایسا ہے تو وہ بھی اس سے حیران نہیں ہوں گے۔‘

بعد میں معلوم ہوا کہ سوروس نے کسی کو کوئی رقم نہیں دی تھی اور ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو بھی جعلی تھی۔

اڈانی پر ہنڈنبرگ رپورٹ کے اثرات

تقریباً چار ہفتے قبل تک قبل اڈانی دنیا کے تیسرے امیر ترین آدمی تھے۔

25 جنوری کو اڈانی گروپ کے ذریعے اڈانی انٹرپرائزز کمپنی کے 20 ہزار کروڑ روپے کے فالو آن پبلک آفر یعنی حصص فروخت ہونے والے تھے۔

لیکن اس سے ایک دن پہلے امریکی فرم ہنڈنبرگ ریسرچ نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اڈانی گروپ پر کئی دہائیوں سے سٹاک میں ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ کا الزام لگایا گیا۔

ہنڈن برگ ’شارٹ سیلنگ‘ میں مہارت رکھتا ہے یعنی کمپنی کے حصص کی قیمت کے خلاف اس امید پر بولی لگانا کہ ان میں کمی آئے گی۔

اڈانی گروپ نے ہنڈنبرگ کی رپورٹ کو ’سیکوریٹیز فراڈ، انڈین ریگولیٹرز اور عدلیہ کی توہین‘ سے تعبیر کیا ، لیکن یہ سرمایہ کاروں کے خوف کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔

اڈانی کے گروپ کے پاس عوامی طور پر تجارت کرنے والی سات کمپنیاں ہیں جو مختلف شعبوں میں کام کرتی ہیں، جن میں مختلف اشیا کی تجارت، ہوائی اڈے، یوٹیلیٹیز، بندرگاہیں اور قابل تجدید توانائی وغیرہ شامل ہیں۔

بہت سے انڈین بینکوں اور سرکاری انشورنس کمپنیوں نے گروپ سے منسلک کمپنیوں میں یا تو سرمایہ کاری کی ہے یا انھیں اربوں ڈالر کا قرض دیا ہے۔

انڈین پارلیمان میں اڈانی کے متعلق الزامات پر مباحثے کی مانگ کی جا رہی ہے لیکن ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی اس پر خاموش ہیں۔ لیکن اڈانی گروپ کی مالیت میں روزانہ کمی نظر آ رہی ہے اور اب وہ دنیا کے تیسرے سب سے امیر سے پھسل کر 20 سب سے امیر کی فہرست سے بھی باہر ہو چکے ہیں۔