امریکہ کا وسط مدتی الیکشن: ٹرمپ کا بڑی فتح کا دعویٰ مگر صدر بائیڈن نتائج سے مطمئن

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں امریکی کانگریس میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں اب بھی شامل ہیں۔ امکان ہے کہ ریپبلکن جماعت ایوان نمائندگان میں برتری حاصل کر سکتی ہے تاہم سینیٹ میں کڑا مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔
سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے پاس اب تک 48، 48 سیٹیں ہیں۔ تازہ نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں پنسلوینیا کی اہم نشست ملی ہے جبکہ باقی دو سیٹوں پر کانٹے کا مقابلہ ہے اور ایک سیٹ پر آئندہ ماہ رن آف الیکشن ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف ریپبلکن جماعت کو اب تک ایوان نمائندگان میں 210 جبکہ ڈیموکریٹس کو 192 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
ایوان نمائندگان کی 435 اور سینٹ کی ایک تہائی سیٹوں پر الیکشن ہوا ہے۔ ایوان میں جیت سے ریپبلکن جماعت کو اس کا کنٹرول ملنے کی امید ہے۔ تاہم سادہ اکثریت کے لیے ایوان میں 218 سیٹیں درکار ہوتی ہیں۔
بدھ کو اس پر بات کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یہ انتخابات امریکہ کی جمہوریت کے لیے اچھا دن رہا اور نتائج دیکھ کر انھوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ اس سے قبل ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ریپبلکن جماعت کی جیت سے جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے۔
حالیہ بدترین مہنگائی کے باعث جو بائیڈن کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ انھوں نے ادویات کی قیمتوں میں کمی، ماحول دوست توانائی کے استعمال اور امریکی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو جیسے وعدوں کی تکمیل کے لیے کام کیا ہے۔
اس الیکشن میں ووٹروں کے لیے معیشت اور اسقاط حمل کا حق دو بڑے مسائل بتائے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ کا بڑی فتح کا دعویٰ
خیال ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 میں وائٹ ہاؤس میں واپسی کی تیاریوں کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کی جماعت کی بڑی فتح ہے۔
مڈٹرم الیکشن پر ایک سوال پر ٹرمپ نے قدامت پسند میڈیا نیٹ ورک نیوز نیشن کو بتایا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اگر ریپبلکن جیتیں گے تو اس کا کریڈٹ مجھے ملنا چاہیے۔ اگر وہ ہارتے ہیں تو مجھے اس کا قصوروار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘
اب تک کی اہم پیشرفت
- سینیٹ کی دوڑ میں بائیں بازو کے ڈیموکریٹ جان فیٹرمین، جو فالج سے صحتیاب ہو رہے ہیں، نے پنسلوانیا میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ مشہور شخصیت ڈاکٹر مہمت اوز کو شکست دی
- جورجیا میں ڈیموکریٹ رافیل وارنوک اور ریپبلکن حریف ہرشل واکر کے درمیان مقابلہ رن آف کی طرف گامزن ہے کیونکہ کسی بھی امیدوار نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی سابق ترجمان سارا سینڈرز کی آرکنساس میں فتح کی توقع ہے۔ وہ جنوبی ریاست میں یہ عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔
- فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر ران ڈی سینٹس، جنھیں 2024 میں وائٹ ہاؤس کا امیدوار سمجھا جا رہا ہے، اپنی سیٹ دوبارہ جیت جائیں گے۔ ریپبلکن جماعت کے سینیٹر مارکو روبیو کی ڈیموکریٹ حریف وال ڈیمنگز کے خلاف جیت کا امکان ہے۔
- میری لینڈ میں ڈیموکریٹ ویز مور گورنر بننے والے تیسرے افریقی نژاد امریکی ہوں گے۔
- فلوریڈا سے 25 سالہ ڈیموکریٹ میکسویل فراسٹ کانگریس کے پہلے جنریشن زی رکن ہوں گے۔ ۔
- اوکلاہوما میں ریپبلکن مارکوین مولن امریکہ کے سینیٹ تک پہنچنے والے چوتھے مقامی باشندے ہوں گے۔
- میساچوسٹس میں ڈیموکریٹ مورا ہیلی امریکہ میں پہلی ہم جنس پرست خاتون گورنر ہوسکتی ہیں جو اپنی جنسی شناخت کا کھلے عام اعتراف کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہEPA
وہ پانچ وجوہات جنھوں نے امریکی الیکشن کو دلچسپ بنایا
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
8 نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات امریکی قوم کی سمت کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس میں برسراقتدار شخص اور پارٹی کی قسمت پر بھی بہت زیادہ اثر ڈالیں گے۔
کانگریس کی تشکیل نو ملک بھر میں امریکیوں کی روزمرہ کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ اسقاط حمل اس کی ایک بہترین مثال ہو سکتی ہے۔
وسط مدتی انتخابات کا اثر پالیسیوں کی حد سے بھی بڑھ کر ہو گا۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کا مطلب یہ کہ اکثریتی جماعت کو کمیٹی کے ذریعے تحقیقات شروع کرنے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔
وسط مدتی انتخابات کو عام طور پر صدارتی مدت کے پہلے دو سالوں پر ہونے والا ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے، جس میں اقتدار میں پارٹی اکثر شکست کھاتی ہے۔
حالیہ شکست خوردہ صدور کے برعکس سابق صدر ٹرمپ نے خاموشی سے سیاست نہیں چھوڑی۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اب بھی سنہ 2024 میں وائٹ ہاؤس میں واپس آنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وسط مدتی انتخابات ان کے ہاتھ مضبوط کر سکتا ہے یا ان کی امیدوں کو ختم کر سکتا ہے۔
سنہ 2022 کے وسط مدتی انتخابات 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل بلڈنگ پر حملے کے بعد سے پہلے وفاقی انتخابات ہوں گے، جب ٹرمپ کے حامیوں نے جو بائیڈن کی انتخابی فتح کے اعلان کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
ہنگامہ آرائی سے بچائے جانے سے دور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس الیکشن کے نتائج پر سوال اٹھانا جاری رکھا ہے اور ریپبلکن امیدواروں کی فعال حمایت کی ہے جو کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں مڈٹرم الیکشن یا وسط مدتی انتخابات سے کیا مراد ہے؟
مڈٹرم الیکشن کا تعلق امریکی کانگریس سے ہے جس کے دو حصے ہوتے ہیں: ایوان نمائندگان اور سینیٹ۔
یہ الیکشن ہر دو سال بعد ہوتا ہے، یعنی کسی صدارتی دور کے نصف میں۔ اسی لیے اسے وسط مدتی انتخابات کہتے ہیں۔
کانگریس میں ملکی سطح پر قوانین بنتے ہیں۔ ایوان نمائندگان یہ طے کرتا ہے کہ کن قوانین پر ووٹنگ ہوگی جبکہ سینیٹ ان کی منظوری دیتا ہے یا انھیں روک دیتا ہے۔ سینیٹ کسی صدر کی تعیناتیوں کی تصدیق کرتا ہے یا ان کے خلاف تحقیقات شروع کرسکتا ہے، جو کہ کم دیکھنے میں آتا ہے۔
امریکہ کی 50 ریاستوں میں سے ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو چھ سال اس عہدے پر رہتے ہیں۔ نمائندگان دو سال کے لیے آتے ہیں اور چھوٹے ضلعوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
نومبر کے اس الیکشن میں ایوان نمائندگان کی تمام نشستوں جبکہ ایک تہائی سینیٹ پر نئے عہدیداروں کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔
کئی بڑی ریاستوں میں گورنر اور مقامی اہلکاروں کے لیے بھی الیکشن ہو رہا ہے۔























