آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایک ماہ، 73 ملین بیرل تیل کی برآمد اور چھ ارب ڈالر: ایران نے پابندیوں کے دباؤ میں کیا حکمتِ عملی اپنائی؟
- مصنف, رضا ثابتی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
جون کے آخر میں ایرانی آئل ٹینکر ایک کے بعد ایک مشرقی ملائیشیا کے پانیوں میں نمودار ہونے لگے۔ پہلے ڈیونا، پھر ہیرو-ٹو، سونیا-ون اور اس کے بعد جولائی کے وسط میں سٹریم نامی ٹینکر وہاں پہنچے۔ یہ جہاز اُس بحری بیڑے کا حصہ تھے جس نے امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے دوران ایرانی تیل کو ایشیائی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی عرصے میں امریکی حکومت نے ایران کی تیل کی تجارت سے متعلق بعض پابندیوں اور قانونی قدغنوں میں بھی وقتی نرمی کی۔ 21 جون کو امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک خصوصی اجازت نامہ جاری کیا، جس کے تحت ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل اشیا کی پیداوار، نقل و حمل اور فروخت کی اجازت دی گئی۔
اگرچہ یہ رعایت 60 روز تک نافذ رہنے والی تھی، تاہم امریکہ نے سات جولائی کو اسے قبل از وقت منسوخ کر دیا اور صرف جاری لین دین مکمل کرنے کے لیے محدود مہلت دی۔
توانائی کی ترسیلات پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپلر کے مطابق، جون کے وسط سے جولائی کے وسط تک تقریباً 73 ملین بیرل ایرانی تیل ’محاصرے کے دائرے‘ سے باہر منتقل کیا گیا، جس کی مالیت کا تخمینہ چھ ارب ڈالر کے قریب بنتا ہے۔
اسی طرح وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ اس مدت کے دوران ایران کا تیل لے جانے والے 20 سے زائد آئل ٹینکر ایشیا روانہ ہوئے، جن کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 70 ملین بیرل تیل اس علاقے سے باہر منتقل کیا گیا۔
تاہم ایرانی تیل کی برآمدات میں یہ تیزی ایک ایسے وقت میں دیکھی گئی جب اس کے سب سے بڑے خریدار چین میں طلب نسبتاً سست تھی اور چینی درآمد کنندگان معمول سے کم مقدار میں ایرانی تیل خرید رہے تھے۔ اس کے باوجود ایران نے پابندیوں میں ملنے والی مختصر مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں کی جانب روانہ کر دی۔
خلیج فارس سے تیل نکالنے کی دوڑ
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق 17 جون، یعنی ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے روز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں ایران کا تقریباً 68.7 ملین بیرل تیل موجود تھا، جبکہ تقریباً 51 ملین بیرل تیل اس خطے سے باہر ذخیرہ یا زیرِ نقل و حمل تھا۔
تاہم ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں صورتحال نمایاں طور پر بدل گئی۔ 14 جولائی تک خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں موجود ایرانی تیل کی مقدار گھٹ کر تقریباً 33 ملین بیرل رہ گئی، جبکہ خطے سے باہر موجود ایرانی تیل بڑھ کر تقریباً 105 ملین بیرل تک پہنچ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پابندیوں اور امریکی دباؤ میں عارضی نرمی کے دوران تہران نے اپنے تیرتے ہوئے ذخائر کا بڑا حصہ خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے نسبتاً خطرناک پانیوں سے نکال کر دور دراز سمندری علاقوں میں منتقل کر دیا۔
کیپلر کے سینیئر آئل تجزیہ کار ہمایوں فلکشاہی کے مطابق اس مدت میں ایران کی حکمتِ عملی بالکل واضح تھی۔ انھوں نے بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ایران کی کوشش تھی کہ جتنا ممکن ہو اتنے زیادہ بیرل امریکی محاصرے اور ممکنہ ضبطی کے خطرے سے دور منتقل کر دیے جائیں۔‘
اسی دوران اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایران نے اپنے برآمدی ٹرمینلز پر تیل کی لوڈنگ کی رفتار میں نمایاں اضافہ کیا۔ اپریل میں یومیہ اوسط لوڈنگ تقریباً 15 لاکھ بیرل تھی، لیکن مئی میں پابندیوں کے سخت ہونے کے بعد یہ کم ہو کر صرف 270 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی۔
اس کے بعد جون میں برآمدات دوبارہ بڑھنا شروع ہوئیں اور یومیہ لوڈنگ 750 ہزار بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں یہ رفتار بڑھ کر 13 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی زیادہ ہو گئی۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ راستے کھلنے کے بعد ایران نے صرف پہلے سے رکے ہوئے جہازوں یا منتظر کارگو کو روانہ نہیں کیا بلکہ نئی لوڈنگ اور برآمدی سرگرمیوں کو بھی تیزی سے بحال کر دیا۔
تاہم فلکشاہی کے مطابق اس اضافے کو لازمی طور پر طلب یا فروخت میں اضافے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے بقول، چین جیسے بڑے خریداروں کی جانب سے طلب نسبتاً کمزور رہنے کے باوجود ایران نے زیادہ سے زیادہ تیل لوڈ کرنا جاری رکھا، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ امریکی پابندیاں اور محاصرہ کسی بھی وقت دوبارہ سخت کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، جو کارگو بحیرۂ عرب یا جنوب مشرقی ایشیا کے پانیوں تک پہنچ چکے تھے، وہ راستے دوبارہ بند ہونے کی صورت میں بھی سمندر میں خریداروں کا انتظار کر سکتے تھے یا بعد میں چین منتقل کیے جا سکتے تھے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس عرصے میں ایران نے اپنی تیل کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ کرنے کے بجائے بنیادی طور پر اپنے ذخیرہ شدہ تیل کا جغرافیائی محلِ وقوع تبدیل کیا اور اسے ممکنہ امریکی کارروائی کی زد سے دور علاقوں میں منتقل کرنے کو ترجیح دی۔
ایران سے چین تک تیل کا طویل راستہ
اس تیل کا بڑا حصہ مشرقی ملائیشیا کے پانیوں اور آبنائے سنگاپور کے قریب منتقل کیا گیا، جو گذشتہ چند برسوں میں ایرانی پابندی زدہ تیل کی تجارت کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
ایرانی تیل بردار ٹینکر عموماً ملائیشیا کی علاقائی حدود سے باہر واقع ایک ایسے سمندری علاقے کا رخ کرتے ہیں جسے جہاز رانی کی صنعت میں ’ایسٹرن آؤٹر پورٹ لمٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مقام ایران اور چین کے درمیان بحری راستے کے تقریباً وسط میں واقع ہے اور ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے، یعنی شپ ٹو شپ ٹرانسفر، کے لیے معروف ہے۔
اس عمل کے دوران ایرانی تیل سے لدا ایک ٹینکر دوسرے جہاز کے ساتھ آ کر لگتا ہے اور بڑے پائپوں کے ذریعے کارگو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں دوسرا جہاز مختلف نام، پرچم، دستاویزات یا حتیٰ کہ مختلف منزل درج کر کے چین کی جانب روانہ ہو سکتا ہے۔
یہ طریقۂ کار پابندیوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے لیے تیل کی اصل، سپلائی چین اور خریدار یا فروخت کنندہ کمپنیوں کی شناخت کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
اس طرح منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ چین کی آزاد ریفائنریوں تک پہنچتا ہے، جنھیں تیل کی صنعت میں ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریاں کہا جاتا ہے۔ نسبتاً سستا خام تیل حاصل کرنے کی کوشش میں یہ ریفائنریاں طویل عرصے سے ایرانی پابندی زدہ تیل کی اہم خریدار رہی ہیں۔
اس کے برعکس، چین کی بڑی سرکاری تیل کمپنیاں عموماً امریکی پابندیوں اور ممکنہ قانونی خطرات کے باعث زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتی ہیں۔ تاہم چھوٹی اور آزاد ریفائنریاں زیادہ رعایت اور کم قیمت کے بدلے نسبتاً زیادہ تجارتی خطرہ مول لینے پر آمادہ رہتی ہیں۔
ایران نے اپنے تیل کو ملائیشیا اور سنگاپور کے پانیوں تک منتقل کر کے دو اہم مقاصد حاصل کیے۔ ایک طرف اس نے اپنے ذخائر کو امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے مرکز، یعنی خلیج فارس اور بحیرۂ عمان، سے دور کر دیا، اور دوسری جانب انھیں اپنے سب سے بڑے خریدار، چین، کے زیادہ قریب پہنچا دیا۔
تاہم کیپلر کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے تیل کی روانگی کی رفتار، چین میں اس کی حقیقی کھپت یا جذب ہونے کی رفتار سے کہیں زیادہ تھی۔ دوسرے الفاظ میں، تہران اس عرصے میں صرف فروخت نہیں کر رہا تھا بلکہ بڑی حد تک اپنے ذخیرہ شدہ تیل کو محفوظ اور زیادہ موزوں مقامات پر منتقل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھا، تاکہ پابندیوں کے دوبارہ سخت ہونے کی صورت میں اس کے پاس زیادہ لچک اور تجارتی گنجائش موجود رہے۔
لوڈنگ بڑھی، لیکن چین میں اتارنا کم ہو گیا
اپریل میں چین میں ایرانی تیل کی آمد نسبتاً مضبوط تھی اور روزانہ اوسطاً 17 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل ان لوڈ کیا جا رہا تھا۔ تاہم بعد کے مہینوں میں یہ رفتار مسلسل کم ہوتی گئی۔ مئی میں یہ مقدار گھٹ کر 13 لاکھ 65 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی، جون میں مزید کم ہو کر سات لاکھ 85 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں یہ صرف 4 لاکھ 54 ہزار بیرل روزانہ رہ گئی۔ کیپلر کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔
اسی عرصے میں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آیا۔ ایران نے اپنے برآمدی ٹرمینلز پر تیل کی لوڈنگ میں نمایاں اضافہ کیا، مگر چین میں اتارے جانے والے تیل کی مقدار مسلسل کم ہوتی رہی۔ بعض اوقات ایران میں لوڈ کیا جانے والا تیل، چین میں ان لوڈ ہونے والے حجم سے تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوڈنگ میں اضافہ لازمی طور پر فروخت یا حتمی طلب میں اضافے کے مترادف نہیں تھا۔ درحقیقت ایران بڑی حد تک اپنے ذخائر کو منتقل کرنے اور ممکنہ امریکی کارروائی کے خطرے سے دور لے جانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا تھا۔
کیپلر کے سینیئر تجزیہ کار ہمایوں فلکشاہی کے مطابق ایران اس عرصے میں بیک وقت دو متضاد چیلنجوں سے نمٹ رہا تھا۔ ایک طرف تہران کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ تیل خلیج فارس اور بحیرۂ عمان جیسے حساس علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچا دیا جائے، جبکہ دوسری طرف چین میں طلب کمزور پڑ رہی تھی اور نئی کھیپوں کو فوری طور پر جذب کرنے کی استعداد محدود ہو رہی تھی۔
فلکشاہی کے مطابق مستقبل میں چینی طلب دوبارہ بہتر ہو سکتی ہے، خصوصاً اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہیں یا مزید اضافہ ہو اور ایرانی تیل کی رعایتی قیمتیں دیگر سپلائرز کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ثابت ہوں۔ تاہم اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایران کی جانب سے جلدی میں منتقل کیا گیا بڑا حصہ اب بھی سمندر میں موجود ہے اور خریداروں یا موزوں تجارتی حالات کا منتظر ہے۔
اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ چین کے پاس پہلے سے ایرانی تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جس کے باعث نئی کھیپوں کی فوری ضرورت نسبتاً کم ہو گئی ہے۔ نتیجتاً ایران سے روانہ ہونے والے کئی کارگو مشرقی ملائیشیا، آبنائے سنگاپور اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر سمندری علاقوں میں عارضی طور پر ذخیرہ یا انتظار کی حالت میں موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین میں طلب کی کمزوری کے پیچھے کئی ساختی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں معاشی سرگرمی کی سست روی، ڈیزل کی کھپت میں کمی، برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے تیزی سے بڑھتے استعمال، اور پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر عائد سرکاری پابندیاں شامل ہیں۔ ان عوامل نے چینی ریفائنریوں کے منافع اور پیداواری سرگرمیوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی تیل سمیت درآمدی خام تیل کی طلب بھی متاثر ہوئی ہے۔
یوں حالیہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جون اور جولائی کے دوران ایران نے برآمدات بڑھانے سے زیادہ اپنے تیل کے ذخائر کو جغرافیائی طور پر ازسرِ نو ترتیب دینے پر توجہ دی۔ مقصد صرف فروخت میں اضافہ نہیں تھا بلکہ تیل کو ممکنہ امریکی دباؤ اور پابندیوں کے دائرے سے نکال کر ایسے مقامات تک پہنچانا تھا جہاں مستقبل میں اسے نسبتاً آسانی سے فروخت کیا جا سکے۔
چھ ارب ڈالر: کارگو کی مالیت، وصول شدہ رقم نہیں
کیپلر کے مطابق محاصرے کے دائرے سے باہر منتقل کیے گئے 73 ملین بیرل ایرانی تیل کی مجموعی مالیت تقریباً چھ ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ تخمینہ اس وقت کی عالمی تیل قیمتوں اور ایرانی خام تیل پر دی جانے والی تقریباً پانچ ڈالر فی بیرل رعایت کو مدنظر رکھتے ہوئے لگایا گیا ہے۔
تاہم کیپلر کے سینیئر تجزیہ کار ہمایوں فلکشاہی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس رقم کو ایران کی یقینی یا فوری آمدن نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے ممکنہ آمدن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، یعنی وہ مجموعی مالیت جو تمام کارگو فروخت ہونے اور ترسیل کا عمل مکمل ہونے کے بعد حاصل ہو سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس تخمینے میں پابندیوں سے بچنے کے لیے کیے جانے والے اضافی اخراجات شامل نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ تیل فروخت ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی فوری طور پر ایران کو موصول نہیں ہوتی۔
ہمایوں فلکشاہی کے مطابق ایران عموماً کارگو اتارے جانے کے ایک سے دو ماہ بعد ادائیگی وصول کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ برآمدی حجم میں اضافے اور حقیقی نقد آمدن کے درمیان ایک نمایاں وقت کا فرق موجود رہتا ہے۔
پابندیوں کے ماحول میں تیل کی تجارت معمول کی عالمی تجارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ ہمایوں فلکشاہی کے مطابق صرف نقل و حمل کی لاگت ہی کم از کم 10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک بھی اس تجارت میں شامل ہوتا ہے، جس میں آئل ٹینکر فراہم کرنے والے، ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرانے والے آپریٹرز، دستاویزات اور کاغذی کارروائی کا انتظام کرنے والے ادارے، مختلف کمپنیوں کی رجسٹریشن کرانے والے ثالث اور مالی لین دین کو ممکن بنانے والے فریق شامل ہوتے ہیں۔
یہ تمام فریق اپنے حصے کی فیس یا کمیشن وصول کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی اصل آمدن نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ فلکشاہی کے اندازے کے مطابق ان اخراجات کو نکالنے کے بعد ایران کے لیے فی بیرل خالص مالیت 90 ڈالر کے بجائے 70 ڈالر کے قریب رہ جاتی ہے۔
اسی لیے جون اور جولائی کے دوران نقل و حمل کے غیرمعمولی حجم کو براہِ راست مالی کامیابی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اگرچہ ایران نے لاکھوں بیرل تیل نسبتاً محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس تیل کا بڑا حصہ ابھی تک فروخت، ترسیل یا ادائیگی کے مختلف مراحل سے گزرنا باقی ہے۔
مزید یہ کہ اگر چین میں طلب کمزور رہتی ہے اور ایران کو جلد نقد رقم درکار ہوتی ہے تو اسے خریداروں کو مزید رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فروخت کی رفتار تو بڑھ سکتی ہے، مگر ہر بیرل سے حاصل ہونے والی آمدن کم ہو جائے گی۔ دوسرے الفاظ میں، ایران کے سامنے موجود چیلنج صرف تیل منتقل کرنا نہیں بلکہ اسے منافع بخش قیمت پر فروخت کرنا بھی ہے۔
یوں حالیہ مہینوں کی سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تہران کی فوری ترجیح برآمدات سے زیادہ اپنے تیل کو ممکنہ امریکی دباؤ اور ضبطی کے خطرے سے دور منتقل کرنا تھی، جبکہ حقیقی مالی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ ذخائر آنے والے مہینوں میں کس رفتار اور کس قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔
برآمد کیا گیا تیل اب کہاں ہے؟
کیپلر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 15 جولائی تک ایران نے اپنے تیل کے سمندری ذخائر کو غیرمعمولی حد تک خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے باہر منتقل کر دیا تھا، لیکن ان میں سے بڑی مقدار ابھی تک حتمی خریداروں یا ریفائنریوں تک نہیں پہنچی تھی۔
کیپلر کے مطابق اس تاریخ تک سمندر میں موجود ایرانی خام تیل کی مجموعی مقدار تقریباً 133.3 ملین بیرل تھی، جس میں سے 98.6 ملین بیرل خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے باہر واقع مختلف سمندری علاقوں میں موجود تھا۔ اگرچہ یہ ذخائر امریکی دباؤ اور ممکنہ مداخلت کے خطرے والے علاقوں سے دور منتقل ہو چکے تھے، لیکن ان کا بڑا حصہ ابھی تک ریفائنریوں میں اتارا نہیں گیا تھا۔
اس ذخیرے کا سب سے بڑا حصہ، یعنی 40 ملین بیرل سے زیادہ تیل، آبنائے سنگاپور کے علاقے میں موجود تھا۔ یہ مقام عالمی توانائی تجارت کا ایک اہم مرکز اور چین جانے والے آئل ٹینکروں کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 17 ملین بیرل تیل بحیرۂ عرب میں، 13 ملین بیرل سے زائد بحیرۂ زرد میں اور تقریباً 10 ملین بیرل جنوبی بحیرۂ چین میں موجود تھا۔
کیپلر کے مطابق مزید 18.4 ملین بیرل تیل آبنائے ملاکا، خلیج بنگال، بحرِ ہند اور دیگر سمندری علاقوں میں پھیلا ہوا تھا۔ یہ جغرافیائی تقسیم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران نے اپنے ذخائر کو ایک ہی مقام پر رکھنے کے بجائے مختلف راستوں اور مراکز میں تقسیم کر دیا، جس سے مستقبل میں فروخت اور ترسیل کے لیے زیادہ لچک حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم سمندر میں موجود اس وسیع ذخیرے کو مکمل طور پر غیر فروخت شدہ تیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کارگوؤں میں سے بعض ممکنہ طور پر پہلے ہی فروخت ہو چکے ہوں گے اور صرف ان لوڈنگ کے منتظر ہوں گے۔ کچھ جہاز بندرگاہوں پر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں گے، جبکہ بعض کارگو ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقلی کے مراحل سے گزر رہے ہوں گے۔
اس کے باوجود اعداد و شمار ایک واضح رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں: ایران سے تیل کی روانگی جس رفتار سے ہوئی، چین میں اس کی کھپت یا ان لوڈنگ اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کے ذخائر تیزی سے جمع ہوتے گئے۔
مجموعی تصویر یہ بتاتی ہے کہ جون اور جولائی میں ایران کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد فوری فروخت کے بجائے تیل کو خطرے والے علاقوں سے نکال کر ایشیا کے قریب محفوظ مقامات تک پہنچانا تھا۔ تاہم چونکہ چین میں طلب نسبتاً کمزور رہی اور ریفائنریوں کے پاس پہلے ہی خاطر خواہ ذخائر موجود تھے، اس لیے ان لاکھوں بیرل کی فوری کھپت ممکن نظر نہیں آتی۔ چنانچہ ایرانی تیل کا ایک بڑا حصہ بدستور سمندر میں موجود ہے اور اس کی حتمی فروخت، ترسیل اور ادائیگی کا عمل آنے والے مہینوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔
تیرتے ہوئے ذخائر کو ختم کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟
ہمایوں فلکشاہی کے مطابق معمول کے حالات میں چین روزانہ اوسطاً 13 لاکھ بیرل ایرانی تیل اپنی بندرگاہوں پر اتارتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہتی تو خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے باہر موجود تقریباً 98 ملین بیرل ایرانی تیل کو جذب کرنے میں لگ بھگ ڈھائی ماہ درکار ہوتے۔
تاہم موجودہ صورتحال معمول کے تجارتی حالات سے مختلف ہے۔ چین میں ریفائننگ کے منافع کے مارجن کم ہو چکے ہیں، خام تیل کے ذخائر پہلے ہی بلند سطح پر موجود ہیں اور ایرانی تیل کی ان لوڈنگ کی رفتار بھی نمایاں طور پر سست ہو کر تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
ہمایوں فلکشاہی کے مطابق ان حالات میں ایران کے سمندر میں موجود تیرتے ذخائر کو مارکیٹ میں جذب ہونے اور ریفائنریوں تک پہنچنے میں ڈھائی ماہ کے بجائے چار سے پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ان کارگوؤں کی بڑی تعداد بالآخر چین ہی کا رخ کرے گی، لیکن ان کی کھپت کی رفتار کا انحصار منڈی کے حالات، طلب اور قیمتوں کے رجحان پر ہوگا۔
اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں یا مزید بڑھتی ہیں تو ایرانی خام تیل، جو عموماً رعایتی نرخوں پر فروخت کیا جاتا ہے، چین کی آزاد یا ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریوں کے لیے زیادہ پرکشش بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر تہران کو فوری نقد آمدن کی ضرورت پیش آئی تو وہ خریداروں کو مزید رعایت دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جس سے فروخت کی رفتار تو بڑھ سکتی ہے لیکن فی بیرل حاصل ہونے والی آمدن مزید کم ہو جائے گی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکی محاصرے اور پابندیوں میں تقریباً ایک ماہ کی عارضی نرمی ایران کے لیے ایک اہم عملی کامیابی ثابت ہوئی۔ اس عرصے کے دوران کروڑوں بیرل تیل، جو ایران کی بندرگاہوں یا خلیج فارس کے قریب پانیوں میں پھنس کر رہ سکتا تھا، نسبتاً محفوظ ایشیائی پانیوں تک منتقل کر دیا گیا اور اسے ایران کے اہم خریداروں، خصوصاً چین، کے قریب پہنچا دیا گیا۔
تاہم اس حکمت عملی کی مالی کامیابی ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ سمندر میں موجود یہ کارگو ابھی بڑے پیمانے پر نقد آمدن میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک قابلِ ذکر حصہ ممکنہ طور پر آنے والے کئی ماہ تک پانیوں میں موجود رہے گا، بتدریج فروخت ہو گا اور رعایتی نرخوں پر خریدار حاصل کرے گا۔ اس کے علاوہ نقل و حمل، شپ ٹو شپ منتقلی، مالیاتی انتظامات اور مختلف ثالثوں کے اخراجات منہا کرنے کے بعد حاصل ہونے والی حقیقی آمدن بھی مجموعی مالیت سے خاصی کم ہوگی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اس مختصر مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے تیل کو جغرافیائی طور پر زیادہ محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن ان ذخائر کو مکمل طور پر فروخت کر کے نقد رقم میں تبدیل کرنا ایک نسبتاً طویل اور پیچیدہ عمل رہے گا، جس کا انحصار آئندہ مہینوں میں چینی طلب، عالمی قیمتوں اور پابندیوں کی صورتحال پر ہوگا۔