تین سالہ بچی جنھیں ’خوفناک بلائیں‘ سمجھی وہ دیوار میں چھپی 60 ہزار شہد کی مکھیاں تھیں

،تصویر کا ذریعہASHLEY MASSIS CLASS
- مصنف, ریچل لوکر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
جب تین سالہ سیلر کلاس نے اپنے کمرے میں بلاؤں (مونسٹر) کی موجودگی کی شکایت کرنا شروع کی تو ان کے والدین کو لگا کہ یہ ایک چھوٹے بچی کے تخیل کا کارنامہ ہے۔
امریکی ریاست شمالی کیرولینا کی رہائشی بچی سیلر کلاس نے اپنے والدین سے شکایت کی تھی کہ اُن کے کمرے کی دیواروں میں بلائیں رہتی ہیں۔
بچی کے والدین نے ابتدا میں اپنی بیٹی کی اس نوعیت کی شکایتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ انھوں نے اپنی بیٹی کے خوف کو دور کرنے کی تدبیر بھی کی۔
بچی کی والدہ، میسس کلاس، بتاتی ہیں کہ ’ہم نے اسے سادہ پانی کی ایک بوتل دی اور کہا کہ یہ بلائیں دور کرنے والا سپرے ہے، اور وہ رات میں کبھی بھی بلاؤں کو بھگانے کے لیے اسے اس پر چھڑک سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہASHLEY MASSIS CLASS
تاہم اس سپرے نے سیلر کلاس کی شکایت دور نہیں کی اور اگلے چند ماہ کے دوران اُن کی اِس ضد میں اضافہ ہوتا گیا کہ ان کے کمرے کی الماری میں بھی کچھ ہے۔
ان کی اس شکایت پر اس وقت پہلی مرتبہ غور کیا گیا جب بچی کی والدہ نے دیکھا کہ اُن کے 100 سال پرانے گھر کی چمنی کے آس پاس سینکڑوں شہد کی مکھیاں گھومتی رہتی ہیں۔
اس وقت ان کا خیال تھا کہ شاید بچی کو اپنے کمرے کی چھت پر ان مکھیوں کے بھنبھنانے کی آوازیں آتی ہیں جن کو وہ بلائیں سمجھتی ہیں۔
تاہم بچی کے بار بار شکایت کرنے پر والدہ نے ایک کمپنی کو بلایا جو گھروں سے کیڑوں مکوڑوں کے خاتمے کی مہارت رکھتی تھی۔ اس کمپنی نے والدین کو بتایا کہ گھر کی چمنی کے نزدیک اڑنے والی شہد کی مکھیاں اس خصوصی قسم سے تعلق رکھتی ہیں جن کو امریکہ میں ایک خصوصی درجہ حاصل ہے جس کے تحت اُن کو عام کیڑے مکوڑوں کی طرح نہیں مارا نہیں جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تب بچی کے والدین نے شہد کی مکھیاں پالنے والے ایک شخص سے رابطہ کیا جنھوں نے گھر آ کر دیکھا اور آگاہ کیا یہ مکھیاں بچی کے کمرے کی چھت کے اوپر موجود سٹور کی جانب سفر کر رہی ہیں۔
مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ گذشتہ آٹھ ماہ سے شہد کی یہ مکھیاں بچی کے کمرے کی دیوار میں اپنا چھتہ بنانے میں مصروف تھیں۔ جب اس شخص نے سیلر کے کمرے کی دیواروں کے اندر دیکھنے کے لیے ایک تھرمل کیمرہ کی مدد لی تو میسس کلاس کے مطابق یہ سکینر ’کرسمس کی طرح روشن ہو گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہASHLEY MASSIS CLASS
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
شہد کی مکھیاں پالنے والے شخص کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی بھی کسی دیوار میں اتنی گہرائی تک شہد کی مکھیوں کا چھتہ جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اس دوران میسس کلاس کی بیٹی سیلر نے اس شخص کو ’بلائیں مارنے والا‘ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا تھا۔
جب دیوار کو کھولا گیا تو وہاں اندر شہد کا بہت بڑا چھتہ نظر آیا اور بچی کے والدہ کے مطابق ’وہ کسی ڈراؤنی فلم کی طرح باہر نکلتی آئیں۔‘
اس دیوار سے 55 سے 60 ہزار کے قریب شہد کی مکھیاں جبکہ 45 کلو شہد نکالا گیا جس کے لیے ویکیوم کے ذریعے شہد کی مکھیوں کو نکال کر ڈبوں میں بند کیا گیا اور اب انھیں ایک محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
میسس کلاس کو اس عمل کے دوران گھر میں شہد کی مکھیوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے خصوصی طور پر بندوبست کرنا پڑا اور انھوں نے دیگر کمروں کو شیٹ لگا کر بند رکھا۔
میسس کلاس کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو ڈرانے کے ساتھ ساتھ ان مکھیوں نے ان کے گھر میں بجلی کی تاروں کو بھی نقصان پہنچایا۔
ان کے مطابق نقصانات کا تخمینہ 20 ہزار ڈالر سے زیادہ کا ہے اور ان کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ انشورنس سے ان کو اس لیے کوئی مدد ملنے کا امکان نہیں کیوں کہ انشورنس میں یہ ایسا معاملہ سمجھا جاتا ہے جس سے بروقت بچا جا سکتا تھا۔


























