کیا اب میں کبھی سکول نہیں جا سکوں گی؟ گلگت بلتستان کی طالبہ ثمرین گل کا سوال

دیامیر میں جلائے جانے والا لڑکیوں کا سکول

،تصویر کا ذریعہRoshan Din Diamiri

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کا خیال ہے کہ سکول کو منظم منصوبہ بندی کے تحت جلایا گیا ہے
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

کیا اب میں کبھی اپنے سکول نہیں جا سکوں گی؟۔ مجھے پڑھ لکھ کر اچھا اور بڑا انسان بننا ہے۔  میرے ابو نے تو  کہا تھا کہ وہ مجھے بہت پڑھائیں گے۔  اب کہہ رہے ہیں کہ سکول جل گیا ہے۔ اب کیا ہوگا؟

یہ کہنا ہے گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر کے علاقے سمیگال پائین کی رہائشی طالبہ ثمرین گل کا۔ ثمرین گل کا مڈل گرلز سکول سیمگال پائین گزشتہ رات یعنی پیر کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مقامی تھانے میں درج مقدمے کے مطابق سکول کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کیا۔

گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری محی الدین وانی نے میڈیا کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ گرلز مڈل سکول کو چند مجرموں نے جلا کر راکھ کردیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے  لیکن ان شر پسندوں کے سامنے ہتھیار نہیں  ڈالیں گے۔‘

ثمرین گل کہتی ہیں کہ انھیں اور ان کی سہیلیوں کو سکول بہت اچھا لگتا ہے۔ جہاں پر وہ نہ صرف تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کھیلتی بھی ہیں۔

’اب مجھے ابو نے کہا ہے کہ انھیں نہیں پتا کہ میں کب تک سکول جا سکوں گی، سکول جا سکوں گی بھی یا نہیں۔‘

دیامیر میں جلائے جانے والا لڑکیوں کا سکول

،تصویر کا ذریعہRoshan Din Diamiri

،تصویر کا کیپشنصحافی اور انسانی حقوق کے کارکن روشن دین دیامیری کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں سکول جلا گیا ہے وہاں پر پہلے ہی لڑکیوں کی تعلیم مشکلات کا شکار ہے

واقعہ کیسے پیش آیا؟

سیمگال پائین کے علاقے میں آبادی تقریباً سات ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ سات ہزار آبادی کے لیے یہ واحد مڈل گرلز سکول ہے، جس میں مجموعی طور پر 68 طالبات زیر تعلیم ہیں۔

سمیگال پائین کے ایک رہائشی کے مطابق سکول آبادی سے کوئی  پانچ سو میڑ کی دوری پر واقع ہے۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت علاقے کے لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہیں چلا۔

’ہمارے خیال کے مطابق یہ واقعہ رات 12 بجے کے بعد پیش آیا۔ صبح ہم لوگ اٹھے تو سکول جل کر راکھ ہوچکا تھا۔‘

ایک اور رہائشی کے مطابق رات کے وقت دو گاڑیاں دیکھی گئی تھیں۔ یہ گاڑیاں کافی دیر تک سکول کے قریب موجود رہیں۔ ’ہمارا خیال ہے کہ سکول کو منظم منصوبہ بندی کے تحت جلایا گیا ہے۔ واقعہ کے ذمہ دار افراد سکول کے چوکیدار کو باندھ کر اپنے ساتھ لے گے تھے۔‘

واردات کے بعد چوکیدار کو رات کے وقت سنسان علاقے میں چھوڑ دیا گیا۔ صبح کی روشنی میں کسی نے چوکیدار کو دیکھا تو اس کو آزاد کروایا۔

پولیس کے مطابق واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا ہے تاہم تفتیش جاری ہے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

دیامیر میں جلائے جانے والا لڑکیوں کا سکول

،تصویر کا ذریعہRoshan Din Diamiri

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن روشن دین دیامیری کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں سکول جلا ہے وہاں پر پہلے ہی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مسائل موجود تھے۔ کچھ شر پسند عناصر نہیں چاہتے کہ لڑکیاں اور بچیاں تعلیم حاصل کریں۔ جس وجہ سے پہلے ہی وہاں کے گرلز مڈل سکول میں داخلے کم تھے۔ اب یہ واقعہ پیش آگیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبات پر تعلیم کے دروازے شاید ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اوپر بیان کردہ صورتحال تو ایک منظر نامہ ہے۔ مگر اصل میں دیامیر میں لڑکیاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ چلاس کے گرلز ہائی سکول میں طالبات کی تعداد پندرہ سو ہے، جہاں پر دور دراز کے علاقوں سے طالبات تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں۔ دیگر علاقوں میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔

دین دیامیری کا کہنا تھا کہ طالبات کی تعلیم کے خلاف یہ ایک منظم مہم ہے۔ شرپسند عناصر یہ چاہتے ہیں کہ طالبات تعلیم حاصل نہ کریں اور علاقہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پسماندگی کا شکار رہے۔ سکول جلانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے سال 2018 میں ایک ہی رات میں بارہ سکول جلا دیئے گئے تھے۔ اس سے پہلے 2005 میں بھی ایسے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کا اگر جائزہ لیں تو ان کی ٹائمنگ ایک ہی طرح کی ہے یعنی رات بارہ اور ایک بجے کے درمیاں جس میں چوکیداروں کے ساتھ بھی ایک ہی طرح کا سلوک کیا گیا ہے۔

روشن دین دیامیری کہتے ہیں کہ ان سب واقعات کا ایک بھی ملزم کبھی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی منظر عام پر آیا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد تعلیمی جرگے ہوئے اور پھر معاملہ ٹھپ ہوگیا۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ارباب اختیار کو معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہو سکتے ہیں۔

محی الدین وانی کے  مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایات دے چکے ہیں اور مذکورہ سکول کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ تعمیر کرکے فعال بنا دیا جائے گا۔