مادہ سانپوں میں عضو شہوت کی دریافت: ’سانپوں میں جنسی تعلق زور زبردستی کا نتیجہ نہیں ہوتا‘

وقت اشاعت

سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ مادہ سانپوں میں کلِٹُرِس یعنی بَظْر (عضو شہوت) پایا جاتا ہے، جس سے یہ مفروضہ غلط ثابت ہو گیا ہے کہ مادہ سانپوں میں جنسی عضو نہیں ہوتا۔

بدھ کو شائع ہونے والی تحقیق میں پہلی مرتبہ مادہ سانپ کے جنسی اعضا کی ساخت بیان کی گئی ہے۔

نر سانپ کے عضو تناسل پر کئی دہائیوں سے تحقیق ہو رہی ہے۔ یہ دو شاخے یعنی آگے سے دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور ان پر کانٹا نما ابھار پائے جاتے ہیں۔

لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اس کے مقابلے میں مادہ سانپوں کے جنسی اعضا کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ایسا نہیں تھا کہ یہ نظروں سے اجھل تھے، بلکہ اس سے پہلے سائنسدانوں نے انھیں دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔

لیڈ ریسرچر میگن فولویل اس کی تین وجوہ بیان کرتی ہیں، ’مادہ سانپوں کے جنسی اعضا پر بات کرنے کو ممنوع سمجھا جاتا تھا، سائنسدان اسے تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، اور لوگ سانپوں کے انٹرسیکس یا دو جنسہ ہونے سے متعلق غلط خیال کو قبول کر رہے تھے۔‘

اس ہفتے ’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی‘ جرنل میں شائع ہونے والے ان کے مشترکہ مقالے میں ایک مادہ سانپ کی دم میں کلِٹُرِس کا پتہ لگایا گیا ہے۔ (کلِٹُرِس یا بَظْر، انسانی فَرْج کے اوپری حصے میں ایک ننھے سے ابھار کی شکل میں پایا جاتا ہے جبکہ بڑا حصہ جسم کے اندر ہوتا۔ یہ انتہائی حساس اور نر کے عضو تناسل کا ہم پلا ہوتا ہے۔)

مادہ سانپوں میں دو کلِٹُرِس ہوتے ہیں جو ایک پٹھے کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ اور دم کے نچلی جانب چھپے ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ دو دیواروں والا یہ عضو اعصاب، کولیجن اور خون کے سرخ خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے پٹھوں میں مردانہ عضو تناسل کی طرح اکڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

فولویل کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ان کی جستجو کا سبب یہ تھا کہ مادہ سانپوں میں جنسی اعضا سے متعلق دستیاب مواد میں کہا گیا تھا کہ ان میں یہ ہوتے ہی نہیں یا ارتقا کے دوران ختم ہو چکے ہیں۔ ’مجھے یہ بات صحیح نہیں لگتی تھی۔

’میں جانتی ہوں کہ یہ (کلِٹُرِس) تمام جانوروں میں پایا جاتا ہے اس لیے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تمام سانپوں کے اندر نہ ہو۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے صرف ایک نظر ڈالنا پڑی یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا یہ ساخت وہاں پر موجود بھی ہے اور کہیں یہ نظر انداز تو نہیں ہو ئی۔‘

انھوں نے آغاز آسٹریلیا میں پائے جانے والے ایک انتہائی زہریلے سانپ، ڈیتھ ایڈر، پر تحقیق سے کیا اور بہت جلد دل جیسا کلِٹُرِس ڈھونڈ نکالا۔ یہ سانپ کے مہک پیدا کرنے والے غدود کے قریب تھا۔ یہ غدود جنسی ملاپ کے لیے جنس مخالف کو اپنی جانب مائل کرنے کے کام آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’مادہ سانپ میں یہ ایک دوہری ساخت تھی ارد گرد کے عضلات سے بالکل مختلف تھی اور ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ یہ پہلے سے میرے مطالعے میں آئے ہوئے نر سانپوں کے عضو تناسل سے مشابہ ہو۔‘

اس کے بعد انھوں نے سانپ کی مختلف اقسام میں دریافت کیا جن میں اس طرح کے دو شاخے کلِٹُرِس پائے گئے، البتہ ان کی جسامت میں فرق تھا۔

سانپ کی جنسیت پر ایک نیا باب

اس دریافت کے بعد سانپ کے سیکس کے بارے میں نئے نظریات قائم کیے جا سکتے ہیں جن میں مادہ سانپوں کی شہوت اور لذت شامل ہو سکتی ہے۔

فولویل کا کہنا ہے کہ اب تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ سانپوں کے درمیان جنسی تعلق ’زور اور زبردستی کا نتیجہ ہوتا تھا اور نر سانپ جنسی ملاپ کے لیے مادہ کو مجبور کرتے تھے۔‘

اس کی وجہ یہ تھی کہ جنسی ملاپ کے عمل میں نر سانپ عام طور پر کافی جارحانہ ہوتے تھے جبکہ مادہ زیادہ ’پر جوش‘ نہیں ہوتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اب کلِٹُرِس کی دریافت کے بعد ہم جنسی عمل پر مادہ سانپ کی آمادگی اور خود کو نر کے سپرد کرنے کا بہتر مشاہدہ کر سکتے ہیں۔‘

یہ تحقیق سانپوں کے جنسی ملاپ سے پہلے کی تیاری سے متعلق نظریے پر بھی نئی روشنی ڈالتی ہے، جس کی رو سے نر سانپ اپنی مادہ کی دم کے گرد، جہاں پر کلِٹُرِس واقع ہوتا ہے، لپٹ کر پھڑکتے ہیں۔

وہ کہتی ہے کہ ’ان کے برتاؤ سے لگتا ہے کہ وہ مادہ جنسی عمل کے لیے آمادہ کر رہے ہیں۔‘

فولویل نے کہا کہ سانپوں سے متعلق سائنس کی دنیا میں اس دریافت کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سانپ کی بعض اقسام میں کلِٹُرِس انتہائی نازک اور چھوٹا ہوتا ہے، ایک ملی میٹر سے بھی کم۔

اس منصوبے کے دیگر محققین میں سے ایک، ایڈیلیڈ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹ سینڈرز کا کہنا ہے کہ یہ دریافت فولویل کے ’نئے نقطۂ نظر‘ کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔

’اس دریافت سےظاہر ہوتا ہے کہ سائنس میں پیشرفت کے لیے کس طرح مفکرین کا مختلف الخیال ہونا ضروری ہے۔‘