ہزاروں نوکریاں ختم کرنے کے باوجود میٹا کو تین ماہ میں 5.7 ارب ڈالر کا منافع: ’مصنوعی ذہانت اچھے نتائج دے رہی ہے‘

meta

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شیاونا میکللم
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر
  • وقت اشاعت

فیس بک اور انسٹا گرام کی مالک کمپنی میٹا کو راوں سال کی پہلی سہ ماہی میں پانچ اعشاریہ سات ارب ڈالر کا منافع ہوا ہے جو توقعات سے کہیں زیادہ ہے، خصوصاً ایسے وقت جب کمپنی میں ملازمین کی تعداد کو کم کیا جا رہا تھا۔

میٹا نے کہا ہے کہ آرٹیفشیل انٹیلجنس یا مصنوعی ذہانت کا استعمال کاروبار کے لیے سودمند ثابت ہو رہی ہے۔

رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی مجموعی آمدنی 28.6 اعشاریہ چھ ارب ڈالر تھی اور ہر ماہ فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد تین ارب کے قریب ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کہا :’ ہماری کمیونٹی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ ہم اپنی نئی پروڈکٹس کی تیاری میں زیادہ موثر اور طویل مدتی ترقی کے لیے مضبوط پوزیشن پر ہیں۔‘

’مصنوعی ذہانت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں‘

مارک زکربرگ نے کمپنی کے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ اربوں لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سے بامعنی اور مفید انداز میں متعارف کرانے کا ایک موقع ہے۔

انھوں نے زیادہ تفصیل میں جائے بغیرکہا کہ میٹا وٹس ایپ اور میسنجر میں چیٹ کے تجربات اور فیس بک اور انسٹا گرام میں پوسٹس پر اشتہارات اور وقت کے ساتھ ساتھ ویڈیو کے لیے نئے ٹولز بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

کمپنی جنریٹیو مصنوعی ذہانت کو کمرشلائز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور گوگل کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے لیے ایپلی کیشنز تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

میٹا نے 2013 میں فیس بک کی آرٹیفشیل انٹیلجنس ریسرچ لیبارٹری قائم کی تھی ، لیکن ابھی تک مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیوں کے مقابلے بڑی جگہ نہیں بنا پائی ہے۔

تاہم مارک زکربرگ نے کہا کہ میٹا ’اب ہمارے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی میٹا مصنوعات، جو فوری طور پر جملے اور گرافکس بنا سکتی ہیں، آنے والے مہینوں میں جاری کی جائیں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام میٹا کے ورچوئل رئیلٹی پروجیکٹ میٹاورس کی قیمت پر نہیں ہوگا۔

میٹا کے ریئلٹی لیبارٹریز ڈویژن نے گزشتہ سہ ماہی میں 4 ارب ڈالر کا نقصان کی اطلاع دی تھی اور کمپنی کا کہنا تھا کہ اسے 2023 میں بھی اس کے آپریٹنگ خسارے میں اضافے کی توقع ہے۔

تاہم مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ’یہ بیانیہ درست نہیں ہے کہ میٹا میٹا ورس سے دور جا رہا ہے‘ اور اب بھی وہ اگلے کوئسٹ وی آر ہیڈسیٹ کو اس سال کے آخر میں منظر عام پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مارک زکربرگ

،تصویر کا ذریعہMETA

یہ بھی پڑھیے

بچت کے اقدامات کے فوائد

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کمپنی کے مثبت مالی اعشاریے ایک ایسے وقت آئے ہیں جب کمپنی نےملازمتوں اور نئے پروجیکٹس میں کمی کی تھی۔ مارک زکربرگ نے کہا کہ اس کا مقصد 2023 کو ’کارکردگی کا سال‘ بنانا تھا۔

میٹا کا شمار امریکہ کی ایسی بڑی کمپنوں میں ہوتا ہے جو ملازمین کی تعداد میں کمی کے حوالے سے جارحانہ رویے کا مظاہرہ کرتی ہے اور اس نے چند ماہ میں اپنے 20 ہزار ملازمین کو نکال دیا تھا۔

ان سائیڈر انٹیلیجنس کے تجزیہ کار ڈیبرا آہو ولیمسن نے کہا میٹا کے لیے ’کارکردگی کے سال‘ کا آغاز توقعات سے بڑھ اچھا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا: ’موجودہ مالی حالات میں اور 2022 کے تباہ کن سال کے بعد ہر سال تین فیصد شرح نمو کو برقرار رکھنا ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

مارک زکربرگ نے 2022 کو ایک وارننگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دانشمندی یہی ہو گی کہ کہ ہم اس نئی معاشی حقیقت کو کئی سالوں تک جاری رکھیں۔‘

انویسمنٹ مینجمنٹ کمپنی کوئلٹر چیویٹ سے تعلق رکھنےوالے بین بیرنگر کا کہنا تھا ’کہ گزشتہ چھ ماہ کے دروان کاروبار میں آنے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو میٹا اور مارک زکربرگ کو داد دینی پڑے گی۔‘

’زکربرگ جس کارکردگی کے سال کے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں اس کے ثمرات مل رہے ہیں۔ یہ نتائج توقعات سے زیادہ بہتر ہیں اور بہتر معاشی پس منظر کو دیکھتے ہوئے، میٹا کو اپنی بہتری کا سفر جاری رکھنا چاہیے۔‘