مریم اکرام: ’پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک ہونے نہیں گئی تھی، خود کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ کام کیے‘

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت

پاکستان میں سوشل میڈیا پر تقریباً ایک ہفتے کے شور اور تنقید کے بعد مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں شامل مریم اکرام نے الیکشن کمیشن میں اپنی نامزدگی واپس لینے کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

یوٹیوبر مریم اکرام کا نام مسلم لیگ ن کی جانب سے قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں الیکشن کمیشن کو جمع کروایا گیا تھا لیکن پارٹی کی جانب سے ان کی نامزدگی پر سوشل میڈیا اور پارٹی کے اندر اعتراضات کے بعد انھیں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا کہا گیا ہے۔

مریم پر یہ اعتراض عائد کیا گیا تھا کہ ان کی پی ٹی آئی کے جھنڈے کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر موجود ہیں جنھیں مبینہ طور پر نو مئی کے واقعات سے بھی جوڑا گیا تاہم مریم کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

مریم اکرام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’پارٹی سیکریٹریٹ کی جانب سے کال آنے کے بعد میں نے الیکشن کمیشن سے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی درخواست دے دی ہے۔‘

اچانک قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست سے نام واپس لیے جانے کی وجہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید تھی یا پارٹی کے اندر سے اعتراضات؟ اس سوال پر مریم کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر سے کچھ لوگوں نے ان پر اعتراض کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پارٹی کے اندر بھی شاید کچھ لوگوں کو میری نامزدگی مناسب نہیں لگی اور شاید یہ نشست انھیں چاہیے تھی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ شاید وہ اس کے لیے زیادہ اہل ہیں۔۔۔ تو ٹھیک ہے۔‘

مریم اکرام کا مزید کہنا تھا کہ ’البتہ اس سب میں میری جو کردار کشی کی گئی اس پر مجھے اعتراض ہے اور رہے گا۔‘

انھوں نے پارٹی کے ساتھ وابستگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں گذشتہ تین سال سے پارٹی کے ساتھ کام کر رہی ہوں اور میں اب بھی پارٹی کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہوں گی، میں پارٹی کے لیے کام کروں یا نہ کروں میرے پارٹی کے لیے محبت ہے اور پارٹی کی محبت میرے ساتھ ہے۔

’یہ جو کچھ بھی ہوا وہ کچھ لوگوں کی وجہ سے ہوا اس پر میں پارٹی کو برا نہیں کہوں گی۔‘

مریم اکرام ایک یوٹیوبر ہیں اور مسلم لیگ ن کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز بناتی رہی ہیں۔ مسلم لیگ کے چند حلقوں کی جانب سے ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فالورز بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی کے احتجاجی کیمپوں خصوصاً زمان پارک پر احتجاج کے دوران جاتی رہی ہیں۔

حالیہ دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر ان کی جلتے ہوئے ٹائروں کے سامنے پی ٹی آئی کا جھنڈا تھامے تصویر بھی وائرل ہوئی ہے۔ بی بی سی کی جانب سے آزادانہ طور پر ان تصاویر کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

ان تصاویر کے بارے میں بات کرتے ہوئے مریم اکرام نے بتایا کہ وہ گذشتہ 13 برس سے پیشے کے اعتبار سے ایک صحافی رہی ہیں اور ملک کے مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ منسلک رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اپنے پیشہ وارنہ فرائص کی انجام دہی کے لیے انھیں فیلڈ میں جانا ہوتا تھا اور وہاں موجود سیاسی جماعت کے کارکنوں کے ردعمل سے بچنے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے انھوں نے ایک، دو مرتبہ اس طرح کے کام کیے (پی ٹی آئی کا جھنڈا اٹھایا اور ٹوپی پہنی) تاکہ سیاسی کارکن ان کی موجودگی پر برہم نہ ہوں اور وہ باآسانی اپنا پیشہ وارانہ فرائض ادا کر سکیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں گذشتہ آٹھ سال سے مسلم لیگ ن کی حمایت کر رہی ہوں اور اس دوران کم از کم ان کی ایک ہزار سے زائد ویڈیوز میں پارٹی کی تعریف کی گئی ہے۔‘

انھوں نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اس تمام عرصے میں ایک طرف پارٹی کی حمایت میں ایک ہزار ویڈیوز ہیں جبکہ دوسری طرف میری صرف دو تصاویر ہیں جن میں سے ایک میں میں نے پی ٹی آئی کی ٹوپی پہنی ہے اور دوسری میں پی ٹی آئی کا جھنڈا تھام رکھا ہے۔ اگر یہ دو تصاویر میری ایک ہزار ویڈیوز پر بھاری ہیں تو پھر آپ کی مرضی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ جھنڈے والے تصویر کا جائزہ لیں تو اس میں بھی میرے ہاتھ میں ایک صحافتی ادارے کا مائیک ہے، میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک ہونے نہیں گئی تھی۔‘

مسلم لیگ ن کا مؤقف

بی بی سی نے اس حوالے سے مسلم لیگ ن کا مؤقف جاننے کی کوشش کی اور اس ضمن میں جب وفاقی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ اس ضمن میں پارٹی کا الیکشن کمیشن بہتر تبصرہ کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے پارٹی کے الیکشن کمیشن سے معلومات لے کر بتائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی پنجاب سے رہنما اعظمیٰ بخاری نے بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس متعلق علم نہیں ہے۔

تاہم پیر کے روز نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کے ٹاک شو میں اس متعلق بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ’خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے جب بھی فہرست بنتی ہے، بہت سارے لوگ پارٹی کو درخواست دیتے ہیں اور جو لوگ اپلائی کرتے ہیں ان ہی میں سے لوگوں کو چُنا جاتا ہے۔

’اگر کسی سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے درخواست دی ہے اور وہ ترجیحی فہرست میں موجود ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس پر ایک غیرضروری تنازع بن گیا جو میرے نزدیک نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

اس وقت ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ خاتون خود ہی اپنا نام واپس لے لیں گی۔‘

مریم اکرام کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں نامزدگی کب ہوئی؟

رواں ماہ کے آغاز میں سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول سے متعلق الیکشن کمیشن میں درخواست مسترد کیے جانے کے بعد مسلم لیگ ن کو پنجاب سے خواتین کی نو اضافی مخصوص نشستیں آلاٹ کی گئی تھیں۔

جن پر مسلم لیگ ن نے جن پارٹی خواتین کو یہ نشستیں الاٹ کی تھیں ان میں لاہور سے سائرہ افضل تارڑ، بشریٰ انجم بٹ، شمالیہ رانا، مریم اکرام اور سیدہ آمنہ بتول شامل تھیں جبکہ راولپنڈی سے ہما اختر چغتائی، بہاولپور سے ماہ جبین عباسی، سیالکوٹ سے گلناز شہزادی اور گوجرانوالہ سے شازیہ فرید کا نام دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے چار مارچ کو تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کے حوالے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ سُنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں اور اب تمام تر مخصوص نشستیں ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹ دی جائیں گی۔

الیکشن کمیشن نے چھ مارچ تک مسلم لیگ ن کو ان خواتین کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنی ترجیحی فہرست دینے کا کہا تھا۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نو مارچ سے کاغذات نامزدگی جمع ہونے تھے اور 12 مارچ تک سکروٹنی کا عمل مکمل کرنا تھا۔

جبکہ اس فہرست میں شامل خواتین کے کاغذات نامزدگی 19 مارچ تک واپس لیے جا سکتے ہیں اور 20 مارچ تک حتمی فہرست آویزاں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس دوران کوئی بھی نامزد امیدوار الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دے کر اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتا ہے اور مریم اکرام کے مطابق انھوں نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی درخواست دے دی ہے۔

مخصوص نشستوں پر خواتین اور اقلیتی نمائندوں کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں 266 ہیں جبکہ خواتین کی مخصوص نشستیں 60 ہیں، یعنی قریب ساڑھے چار سیٹیں جیتنے پر خواتین کی ایک مخصوص نشست ملتی ہے۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی دس مخصوص نشستیں ہیں، یعنی ساڑھے چھبیس سیٹیں جیتنے پر ایک اقلیتی نشست۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں جنرل نشستیں 297 ہیں جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد 66 ہے اور اقلیتیی سیٹیوں کی تعداد آٹھ ہے۔ اس طرح ساڑھے چار نشستیں جیتنے والی جماعت کو خواتین کی ایک مخصوص نشست ملے گی جبکہ 37 نشستیں جیتنے والی جماعت ایک اقلیتی سیٹ کی حقدار ہوگی۔

اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد 26 ہے جبکہ صوبہ سندھ میں 29 اور صوبہ بلوچستان میں 11۔

پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں مخصوص نشستوں پر حتمی لسٹوں کی منظوری کا اختیار پارٹی کے چیئرمین کو دیا گیا ہے اور اس قانون کے مطابق پارٹی کے چیئرمین کے اختیار کو کہیں بھی چلینج نہیں کیا جاسکتا۔

اس کی وجہ سے عمومی طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہی خواتین دوبارہ اسمبلیوں میں آتی ہیں جو پارٹی کی قیادت کے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہیں یا پھر ایسے بااثر خاندانوں کی خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں جاتی ہیں جن کی جانب سے پارٹی کو کروڑوں روپے کے فنڈز دیے جاتے ہیں۔