انڈونیشیا: دنیا کے بڑے مسلم ملک کے کرنسی نوٹ پر ہندو دیوتا کی تصویر کہاں سے آئی؟

کرنسی نوٹ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/SAURABH_MLAGK

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کا وہ کرنسی نوٹ جس پر ہندو دیوتا گنیش کی تصویر ہے
وقت اشاعت

دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بدھ کے روز ملک کی سرکردہ پارٹیوں بشمول بی جے پی اور کانگریس کو تقریباً دنگ کر دیا جب انھوں نے انڈیا کے کرنسی نوٹ پر ہندو دیوی دیوتاؤں گنیش اور لکشمی کی تصویر لگانے کی اپیل کی۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اگر دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک انڈونیشیا ایسا کر سکتا ہے تو انڈیا کیوں نہیں؟ عام آدمی پارٹی کے سربراہ نے یہاں تک کہا کہ انڈونیشیا کی 85 فیصد آبادی مسلمان ہے اور صرف دو فیصد آبادی ہندو ہے، اس کے باوجود ان کی کرنسی پر گنیش جی کی تصویر ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کرنسی نوٹ پر گنیش اور لکشمی کی تصویر ہو گی تو اس سے کرنسی کو تقویت ملے گی۔ انھوں نے ڈالر کے مقابلے انڈین کرنسی کی قدر میں کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

اروند کیجریوال نے بدھ کی صبح تقریباً 11 بجے یہ مسئلہ اٹھایا۔ اس کے بعد یہ مسئلہ ٹی وی چینلز سے لے کر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ تک پر ایسا چھایا کہ ابھی تک چھایا ہوا ہے اور طرح طرح کے میمز اور کمنٹس سامنے آ رہے ہیں۔

گوگل ٹرینڈز کے مطابق کیجریوال کی پریس کانفرنس کے بعد کی ’انڈونیشیا کی کرنسی‘ کی سرچ میں زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ بہت سے لوگ انڈیا کا ایک جعلی کرنسی نوٹ بنا کر اس پر اروند کیجریوال کی تصویر لگا کر بھی شیئر کر رہے ہیں اور اس کرنسی نوٹ کی مالیت بطور طنز 420 لکھی گئی ہے۔

انڈونیشیا کا وہ نوٹ جس میں بالی میں موجود مندر کی تصویر ہے

،تصویر کا ذریعہBANK INDONESIA

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کا وہ نوٹ جس میں بالی میں موجود مندر کی تصویر ہے

بڑی تعداد میں ٹوئٹر صارف اروند کیجریوال کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے یہ بات صرف انتخابات میں ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کہی ہے۔

انڈین خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی اور کانگریس رہنما بھوپیش بگھیل نے اروند کیجریوال کے مطالبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کے بیان کو ووٹ حاصل کرنے کی ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے عام آدمی پارٹی کے سابق رکن اور صحافی آشوتوش کے مضمون ’یہ وہ کیجریوال نہیں جنھیں ہم جانتے تھے‘ کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’عام آدمی پارٹی کی پیشکش افسوسناک ہے۔ کیجریوال اور ان کی پارٹی انتخابات میں اچھا کر سکتی ہے لیکن یہ سیاست اور آئینی اداروں کو جو نقصان پہنچائے گی اس کے نشان ابدی ہوں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

مزیدار بات تو یہ ہے کہ بی جے پی نے اروند کیجریوال پر ہندوتوا کارڈ کھیلنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

انڈیا کے ایک معروف کارٹونسٹ آلوک نے ایک کارٹون بنایا ہے جس کے ایک فریم میں بظاہر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی دیوار کو زعفرانی رنگ میں رنگ رہے ہیں اور پیچھے اروند کیجریوال انھیں حیرت اور غور سے دیکھ رہے ہیں۔

جبکہ دوسرے فریم میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کیجریوال نے زعفرانی رنگ والی بالٹی خود پر ہی الٹ لی ہے اور وزیر اعظم مودی انھیں انتہائی غصے میں دیکھ رہے ہیں۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/Alok

خیال رہے کہ انڈیا ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور عام رائے کے مطابق وہاں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان بظاہر ٹکر نظر آتی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سارے منتر اسی کے لیے ہیں جبکہ بہت سے لوگ کیجریوال کے ماضی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ کیجریوال ہندوتوا کے زیادہ بڑے حامی ہیں۔

انڈیا کی سیاست میں مذہب کا دخل روز بروز بڑھتا جا رہا ہے لیکن ہمارے نمائندے اننت پرکاش نے دوسرے انڈین صارفین کے تجسس کے پیش نظر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انڈونیشیا کی تصویر پر ہندو دیوتا گنیش کی تصویر کا کیا معاملہ ہے۔

علامات

،تصویر کا ذریعہTWITTER/GETTY IMAGES/GARUDA-INDONESIA/FB-ITB

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا میں مقبول اساطیری علامتیں

انڈونیشیا کے نوٹ میں ہندو دیوتا کی تصویر کیوں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ انڈونیشیا نے یہ نوٹ سنہ 1998 میں ایک مخصوص تھیم کے تحت جاری کیا تھا۔ اور اب یہ نوٹ زیراستعمال نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس نوٹ کی تصویر کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں ایک طرف ہندو دیوتا گنیش اور ایک شخص کی تصویر نظر آتی ہے، نوٹ کے نچلے حصے میں کچھ طلبہ و طالبات کی تصویر نظر آتی ہے۔

بی بی سی انڈونیشیا سروس سے وابستہ ایک سینیئر صحافی آستودیسترا اجینگراستری کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا میں گنیش کی تصویر کا ہونا یہاں کی ثقافت میں تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'سنہ 1998 میں جاری ہونے والے اس کرنسی نوٹ کا موضوع تعلیم تھا۔ گنیش کو انڈونیشیا میں فن، حکمت اور تعلیم کا خدا مانا جاتا ہے۔ یہاں کے کئی تعلیمی اداروں میں گنیش جی کی تصویر بھی استعمال ہوتی ہے۔

اس نوٹ پر انڈونیشیا کے قومی ہیرو ’کی ہزار دیونترا‘ کی تصویر بھی ہے۔ انھوں نے اس دور میں انڈونیشیائیوں کی تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کی جب یہ ملک ڈنمارک کی کالونی ہوا کرتا تھا۔ اس وقت صرف امیر اور ڈچ کمیونٹی کے بچوں کو سکول جانے کی اجازت تھی۔‘

بہرحال انڈونیشیا میں اب بھی ایک ایسا کرنسی نوٹ گردش میں ہے جس پر انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں واقع ایک ہندو مندر کی تصویر ہے۔

گروڈا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگروڈا

استرودیسترا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پچاس ہزار روپے کے نوٹ پر بالی کے ایک مندر کی تصویر ہے۔ بالی میں ہندو برادری کی اکثریت ہے۔‘

اس حقیقت کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نوٹوں پر صرف ہندو مذہب کی علامتیں ہیں کیونکہ دیگر نوٹوں میں مختلف مذاہب اور برادریوں کی علامتوں کو جگہ دی گئی ہے۔

گنیش انڈونیشیا میں اتنا مقبول کیوں ہے؟

ہندو مذہب کے ماننے والے شاید پورے انڈونیشیا میں صرف دو فیصد ہوں لیکن بالی جزیرے کی 90 فیصد آبادی ہندو ہے جبکہ ہندو مذہب کے ماننے والے پورے انڈونیشیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جاوا جزیرے پر ہزاروں افراد نے ہندو مذہب اختیار کیا تھا۔

اگر آپ انڈونیشیا کے معاشرے اور ثقافت پر نظر ڈالیں تو انڈونیشیا کے کئی علاقوں میں ہندو تاریخ کی جھلک نظر آتی ہے۔ انڈونیشیا پر ماضی میں کئی ہندو خاندانوں کی حکومت رہی ہے۔

ساتویں اور 16ویں صدی کے درمیان زیادہ تر انڈونیشیا پر ہندو بدھ خاندانوں کی حکومت تھی۔

ان میں مجاپاہت سلطنت اور سری وجیا سلطنت سب سے بڑی تھیں۔ ان کے دور میں انڈونیشیا کے جزیروں میں ہندو مت کو فروغ ملا۔

اس سلطنت میں بھی ہندومت، بدھ مت، اینمزم سمیت کئی مذاہب پروان چڑھے جبکہ مذہبی زبان سنسکرت ہی رہی۔ اس سے پہلے سری وجے سلطنت کا دور ساتویں سے بارہویں صدی تک رہا جس کی اہم زبانیں سنسکرت اور قدیم مالائی تھیں۔

یونیورسٹی

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/INSTITUTTEKNOLOGIBANDUNG

موجودہ دور میں بھی انڈونیشیا کی تاریخ میں پروان چڑھنے والی لوک داستانوں اور علامتوں کے اثرات نظر آتے ہیں۔ انڈونیشیا کی قومی علامت گروڈا ہے، جس کا براہ راست تعلق ہندو اساطیری متن سے ہے۔ رامچرت مانس کے مطابق گروڈا پرندے نے سیتا کو سری لنکا سے واپس لانے میں رام کی مدد کی تھی۔

گروڈا عقاب کی شکل کا ایک پرندہ ہے جسے طاقت کے محافظ، ہمیشہ چوکنا اور ہر سانپ کے دشمن کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انڈونیشیا کی سب سے باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک بانڈونگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بھی گنیش کی تصویر کو لوگو کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کی ایئر لائنز کا نام بھی گروڈوا ایئرلائنز ہے جس کے لوگو میں بھی فرضی گروڈا پرندے کی تصویر استعمال کی گئی ہے۔