سمندر کی تہہ میں زہریلے پلوٹونیم سے بھرے ٹارپیڈوز: غرقاب سوویت ایٹمی آبدوز جس کا ملبہ آج بھی دنیا کے لیے ممکنہ خطرہ ہے

،تصویر کا ذریعہAlamy
سنہ 1989 میں سوویت یونین کی ایٹمی آبدوز کومسومولیٹس ناروے کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ چار سال بعد بی بی سی نے اس آبدوز میں موجود زہریلے پلوٹونیم سے بھرے ٹارپیڈوز کو محفوظ بنانے کے منصوبوں پر خبر شائع کی۔
’کومسومولیٹس ناروے کے سمندر کی تہہ میں ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔‘
’اور اگر اس کے بارے میں فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہم سب خطرے میں ہیں۔‘ یہ الفاظ روسی گرین پیس کارکن دیمتری لِت وینوف نے سنہ 1993 میں بی بی سی کی ایک خبر میں سوویت ایٹمی آبدوز سے لاحق خطرے کو بیان کرتے ہوئے کہے تھے۔
آگ لگنے کے باعث ڈوبنے کے چار سال بعد کومسومولیٹس ناروے کے ساحل کے قریب سمندر میں تقریباً ایک میل کی گہرائی میں موجود تھی، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی تھی۔
آبدوز کے اندر موجود دو جوہری وار ہیڈ سے لیس ٹارپیڈوز زنگ آلود ہو رہے تھے، جس سے خدشہ تھا کہ تقریباً نو پاؤنڈ یعنی چار کلوگرام پلوٹونیم ناروے کے سمندر میں خارج ہو سکتا ہے۔
کومسومولیٹس آبدوز کی تیاری میں سوویت یونین کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔ یہ آبدوز اس غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے منفرد تھی کہ یہ سمندر کی انتہائی گہرائیوں تک جا سکتی تھی۔ نیٹو کا اندازہ تھا کہ یہ بڑی حملہ آور آبدوزوں کی ایک نی اور منفرد اضافہ ثابت ہوگی تاہم اس نوعیت کی مزید کوئی آبدوز نہیں بنائی گئی۔
سنہ 1994 میں نشر ہونے والی بی بی سی کی دستاویزی فلم ’ہورائزن‘ کے مطابق ’کومسومولیٹس سوویت یونین کا خفیہ ناقابلِ شکست ہتھیار بننے والی تھی۔ یہ دنیا کی واحد آبدوز تھی جو ایک ہزار میٹر کی گہرائی سے سفر کرنے اور جوہری میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی تھی، جو مغربی آبدوزوں کی آپریشنل گہرائی سے تقریباً دوگنا تھی۔ کومسومولیٹس آج ایک سنگین تکنیکی اور سائنسی حادثے کی علامت ہے۔
7 اپریل 1989 کو جب اس آبدوز میں آگ لگی تو عملے نے اسے کامیابی سے سمندر کی سطح تک پہنچا دیا، تاہم پانچ گھنٹے تک سطح پر رہنے کے بعد یہ دوبارہ سمندر میں ڈوب گئی۔ اس حادثے میں آبدوز پر سوار 69 اہلکاروں میں سے 42 ہلاک ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آبدوز کے ڈوبنے کے دوران ایک ہنگامی کیپسول نے پانچ پھنسے ہوئے اہلکاروں کو سطح سمندر تک پہنچایا، لیکن ان میں سے صرف ایک شخص کیپسول سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو سکا، اس سے پہلے کہ وہ پانی سے بھر گیا۔
جب کومسومولیٹس ناروے کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے ٹکرائی تو ایک دھماکے نے اس کے ٹائٹینیم سے بنے مضبوط حصے کو پھاڑ دیا اور سمندری پانی جوہری ٹارپیڈوز تک پہنچ گیا۔ روسی ماہرینِ سمندر کی ایک تحقیقی مہم نے دریافت کیا کہ آبدوز کے ڈھانچے کے کچھ حصے دھماکے کے باعث اس طرح ’پھٹ کر بکھر گئے تھے جیسے شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔‘
حادثے کے بعد سائنس دان اس بات پر تقسیم ہو گئے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کا بہترین طریقہ کیا ہونا چاہیے۔ کومسومولیٹس کو ڈیزائن کرنے والے روبن انسٹی ٹیوٹ کے روسی سائنس دان ایگور سپاسکی نے سنہ 1993 میں بی بی سی کے بین براؤن کو بتایا کہ صورتحال تباہ کن نہیں تھی، تاہم وہ چاہتے تھے کہ آبدوز کو سمندر سے نکالا جائے۔
انھوں نے امریکی نیول انسٹی ٹیوٹ کو بتایا کہ ’ایک دہائی کے اندر اندر، آبدوز پر موجود دونوں جوہری وار ہیڈ نمکین پانی کے ساتھ ہونے والے کیمیائی عمل کے باعث مکمل طور پر زنگ آلود ہو جائیں گے اور انتہائی زہریلا پلوٹونیم تباہ شدہ ٹارپیڈوز سے نکل کر ماحول میں شامل ہو جائے گا۔‘

بی بی سی کی رپورٹ میں بین براؤن نے کہا کہ ’ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو یہاں ہلاک ہونے والے ملاح ہی کومسومولیٹس کے واحد متاثرین نہیں ہوں گے۔‘
ان کے مطابق مزید بہت سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، کیونکہ اس علاقے کے سمندری حیات اور مچھلیوں کے وسیع ذخائر شدید آلودگی کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘
تاہم سنہ 1993 میں جاری ہونے والی ایک بین الاقوامی سائنسی ٹیم کی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس آبدوز سے سمندری مچھلیوں کے ذخائر کے آلودہ ہونے کا امکان کم ہے۔
خطرات کے بارے میں مختلف آرا کے باوجود ممکنہ تابکاری کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ سنہ 1995 سے 1996 کے درمیان گہرے سمندر میں انجینئرنگ آپریشنز کے ذریعے آبدوز کے سوراخوں اور ٹارپیڈو ٹیوبز کو بند کیا گیا تاکہ تابکاری کے عمل کو کسی نہ کسی طریقے سے روکا جا سکے۔
یہ کام جولائی سنہ 1996 میں مکمل ہوا، یعنی تقریباً 30 سال قبل۔ تاہم بعد میں ناروے کی حکومت کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ آبدوز اب بھی تابکاری والا مواد خارج کر رہی ہے، جبکہ اسے بند کرنے کے لیے استعمال کیا گیا مواد صرف 30 سال تک مؤثر رہنے کے قابل تھا۔
ایک غیر معینہ ممکنہ خطرہ
مارچ سنہ 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ آبدوز کے اندر موجود ٹارپیڈوز (پانی کے اندر چلنے والے خاص میزائل) اب بھی محفوظ حالت میں ہیں، لیکن اس کا جوہری ری ایکٹر مسلسل خراب ہو رہا ہے اور وقتاً فوقتاً سمندر میں تابکاری مواد کے واضح اخراج کا باعث بن رہا ہے۔
ناروے کی تابکاری اور جوہری تحفظ کی حکومتی انتظامیہ کے مطابق تابکاری کا اخراج مسلسل نہیں ہو رہا بلکہ آبدوز کے ڈھانچے کے مخصوص مقامات سے وقفے وقفے سے ہو رہا ہے۔ ٹیم نے بتایا کہ آبدوز کے ایک وینٹی لیشن پائپ سے تابکاری مواد کا ایک ’بادل‘ باہر نکلتا ہوا دیکھا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تابکاری کی سطح فی الحال نقصان دہ نہیں ہے۔
ناروے کی تابکاری اور جوہری تحفظ کی حکومتی انتظامیہ کے شعبہ برائے بین الاقوامی جوہری تحفظ و سلامتی کے قائم مقام ڈائریکٹر انگار آمونسن کے مطابق ’ری ایکٹر سے خارج ہونے والی تابکاری نے اردگرد کے سمندری ماحول پر اب تک بہت معمولی اثر ڈالا ہے۔‘
تاہم امریکی سائنس دانوں کی فیڈریشن کے نیوکلیئر انفارمیشن پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہانس کرسٹنسن کے مطابق ’صورتحال مستقبل میں تبدیل ہو سکتی ہے، کیونکہ آبدوز کا جوہری ری ایکٹر اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ٹارپیڈوز دونوں خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وقت کے ساتھ آبدوز کے ڈھانچے پر لگنے والا زنگ اور اس میں ہونے والی خرابی موجودہ تابکاری کی مقدار میں اضافہ کر کے حالات کو سنگینی کی جانب لے جا سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ کئی عوامل پر منحصر ہے، جن میں آبدوز کے ملبے کے اندر اور اردگرد موجود سمندری پانی میں آکسیجن کی مقدار اور اسے بند کرنے کے لیے استعمال کیے گئے مواد کی حالت شامل ہیں۔‘
کرسٹنسن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ’سمندری لہروں اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلیاں اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں کہ ملبے سے تابکاری مواد کتنی تیزی سے خارج ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر سمندری تہہ میں رہنے والے جانداروں اور مچھلیوں کے ذریعے یہ کیسے انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔
انگار آمونسن کے مطابق ’جوہری ایندھن براہِ راست سمندری پانی میں موجد ہے اور مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اخراج کے طریقۂ کار، زنگ لگنے کے عمل اور مستقبل میں ممکنہ اخراج کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔‘
تاہم ان کے مطابق یہ کام فوری طور پر ممکن نہیں، کیونکہ آبدوز تقریباً 1700 میٹر کی گہرائی میں موجود ہے، جس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کرنا انتہائی مشکل ہے۔
ہانس کرسٹنسن کا مؤقف ہے کہ مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
انھوں نے کہا کہ ’کم از کم ایک نئی مہم ضرور روانہ کی جانی چاہیے تاکہ آبدوز کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔‘
ان کے مطابق جوہری وار ہیڈ میں موجود پلوٹونیم کی نصف عمر تقریباً 24 ہزار سال ہے، اس لیے انسانی پیمانے پر دیکھا جائے تو یہ خطرہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔‘



















