’مجھے اداکار کہا گیا۔۔۔‘ دہشتگرد حملے کے متاثرین جنھیں سازشی نظریے کا حصہ بنایا گیا

    • مصنف, ماریانا سپرنگ
    • عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی ڈس انفارمیشن اور سوشل میڈیا
  • وقت اشاعت

بی بی سی کی ایک تحقیق کے دوران پتا چلا ہے کہ سازشی نظریات کے حامل افراد، جو برطانیہ میں دہشتگردی کے حملوں کو جھوٹا مانتے ہیں، وہ حملوں کا نشانہ بننے والوں کے گھروں اور دفاتر کی کھوج لگا رہے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

مارٹن ہبرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی  کر رہے ہیں جس نے یہ کہا کہ وہ ان کی بیٹی اِیو پر ان کے گھر کے باہر کھڑی گاڑی سے نظر رکھ رہا تھا۔

واضح رہے کہ مارٹن ہبرٹ اپنی بیٹی کے ساتھ سنہ 2017 کے مانچسٹر ایرینا بم دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں وہ کمر سے نیچے مفلوج ہو گئے تھے۔  

ویلز میں مقیم سازشی نظریات پھیلانے والے رچرڈ ڈی ہال نے کہا تھا کہ کس طرح وہ اس حملے سے بچ جانے والوں کا جسمانی طور پر پتا لگاتے ہیں جس میں 22 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کہیں وہ واقعہ جعلی تو نہیں تھا۔

اپنے فالوورز کے ساتھ آن لائن شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں، وہ اِیو کے گھر کی فلم بندی کے لیے کیمرا لگانے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اِیو کافی حد تک معذور اور وہیل چیئر پر ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا ایو حقیقت میں چل سکتی ہیں یا نہیں۔

مارٹن ہِبرٹ نے مجھے بتایا کہ ’میں پوری طرح سے آزادی اظہار کے حق میں ہوں لیکن جب آپ یہ کہہ رہے ہوں کہ میں اداکاری کر رہا ہوں یا میری ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ نہیں لگی یا اِیو معذور نہیں، وہیل چیئر پر نہیں تو وہاں حد پار ہو جاتی ہے۔‘

’آپ نہیں جانتے کہ وہ جواب حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جا رہے ہیں۔‘

مسٹر ہال بتاتے ہیں کہ جو لوگ حملے میں مارے گئے وہ واقعتاً زندہ ہیں اور بیرون ملک رہ رہے ہیں۔ وہ ان نظریات کو بھی فروغ دیتے ہیں کہ برطانیہ میں کئی دوسرے دہشت گردانہ حملے بھی کروائے گئے تھے یعنی وہ حملے نقلی تھے۔

مسٹر ہال سابق انجینیئر اور ویب سائٹ ڈیزائنر ہیں۔ وہ اپنے نظریات کا خاکہ پیش کرنے والی کتابیں اور ڈی وی ڈی فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ پروگرامز میں تقریر کرنے اور ویڈیوز آن لائن پوسٹ کے ذریعے پیسہ کماتے ہیں۔

حال ہی میں اکتوبر کے وسط تک ان کی ویڈیوز کے یوٹیوب پر ویوز ایک کروڑ ساٹھ  لاکھ سے زیادہ ہو چکے تھے اور ان کے یوٹیوب چینل کے 80,000 سبسکرائبرز تھے۔

جب ایک بازار میں ان کے سٹال پر مسٹر ہال سے میرا سامنا ہوا تو میں نے ان کے نظریات پر سوالات اٹھائے۔ اس کے جواب میں انھوں نے اصرار کیا کہ میں اس بارے میں غلط ہوں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔

پچھلے پانچ مہینوں سے میں بی بی سی پینوراما اور ریڈیو فور کی ایک پوڈ کاسٹ کے لیے سازشی نظریات پھیلانے والوں کی تلاش میں ہوں جو برطانیہ میں دہشت گردانہ حملے سے بچ جانے والوں کو اپنے نظریات کا نشانہ بناتے ہیں۔

میری جانچ اور نئی تحقیق میں، جس میں متاثرہ افراد کے بیانات بھی شامل ہیں، یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسٹر ہال کی طرف سے پھیلائے گئے سازشی نظریات اور ہتھکنڈے ایک وسیع تر تصور کی علامت ہیں جس کا سامنا زندہ بچ جانے والے اور سوگوار خاندان کر رہے ہیں۔

2017  میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے ایک شکار نے، جسے آن لائن سازشی ٹرولز کا ہدف بنا کر ہراساں کیا گیا تھا، بی بی سی کو بتایا کہ دہشت گردی کے حملے میں بچ جانا اب ناگزیر طور پر ان کے خلاف زیادتی کا باعث بن گیا ہے۔

اس قسم کی سازشی تھیوریز اور ان سے پیدا ہونے والی زیادتیوں کی بازگشت اب سنی جا رہی ہے کیونکہ رواں ماہ ویب سائٹ انفو وارز کے امریکی میزبان الیکس جونز کو کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے سینڈی ہک سکول کی شوٹنگ میں مرنے والوں کے لواحقین کو ایک ایک ارب ڈالر پیش کریں کیونکہ انھوں نے سنہ 2012 میں ہونے والے اس حملے کو افواہ کہا تھا۔

حملوں میں زندہ بچ جانے والوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے حملوں کو دھوکہ دہی کے طور پر بیان کرنے والے اور زندہ بچ جانے والوں کو ’کرائسس ایکٹر‘ کہنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

زیادہ تر بدسلوکی آن لائن کی جاتی ہے لیکن جن لوگوں سے میں نے بات کی ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی حفاظت کے بارے میں خدشہ اس لیے ہے کہ آن لائن بدسلوکی نے ان کی زندگی کو ان کی حقیقی زندگی یعنی آف لائن کے دوران بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

چار ہزار سے زیادہ لوگوں پر مبنی سروے جو کہ برطانیہ کی آبادی کی اچھی خاصی نمائندگی کرتا ہے اِسے رواں ماہ کے اوائل میں کنگز کالج لندن نے کرایا تھا۔ اس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 14 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ سنہ 2017 کے مانچسٹر ایرینا میں ہونے والے حملے میں ممکنہ طور پر ’کرائسس ایکٹرز‘ شامل تھے جنھوں نے زخمی ہونے کا ڈرامہ رچایا تھا۔

بی بی سی مانیٹرنگ کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ مانچسٹر حملے کے بارے میں جھوٹے دعوؤں کو فروغ دینے والی درجنوں ویڈیوز جنھیں مجموعی طور پر تین لاکھ بار سے زیادہ بار دیکھا گیا ہے وہ اس واقعے کے پانچ سال بعد بھی یوٹیوب پر موجود ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے جب اس معاملے کو یوٹیوب کے سامنے اٹھایا گیا تو ویڈیو پلیٹ فارم والی کمپنی نے مسٹر ہال کے چینل اور ایک دوسرے چینل، جس نے ان کے مواد کو پھیلایا تھا، اُس سے ہٹا دیا۔

کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ان ظالمانہ حملوں کے متاثرین اور خاندانوں کو بدسلوکی کا نشانہ بنانا ایک گھناؤنا فعل ہے۔ یوٹیوب کی نفرت انگیز تقریر کے متعلق پالیسی واضح ہے اور اس کے لیے رہنما اصول وضع کیے ہوئے ہیں جس میں ایسے مواد کی ممانعت کی گئی ہے جو پرتشدد تاریخی واقعات کی تردید کرتے ہیں، اسے معمولی واقعہ کہتے ہیں یا اس کی حیثیت کو کم کرتے ہیں اور ہمارے ان رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور جب رہنما اصولوں کی خلاف ورزی والے مواد کو ہمارے سامنے اٹھایا جاتا ہے تو ہم انھیں ہٹا دیتے ہیں۔‘

مارٹن ہِبرٹ کے وکیل نیل ہجل اپنے موکل کی ہدایت پر مسٹر ہال کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کرنے کا مقدمہ تیار کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مارٹن اُس حد تک پہنچ چکا ہے کہ جب یہ کہنا پڑتا ہے کہ بہت ہو چکا ہے اور اب اِس سے نمٹنے اور اِس سے قانونی طریقوں سے  روکنے کی ضرورت ہے۔‘

مسٹر ہال کے دعوؤں اور ہتھکنڈوں میں یہ باتیں بھی شامل ہیں:

  • مانچسٹر ایرینا کی زندہ بچ جانے والی لیزا بریجٹ کے کام کی جگہ پر ایک گاہک کے طور پر اس مقصد سے داخل ہونا کہ خفیہ طور پر اس کی ریکارڈنگ کرے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اپنے زخموں کے بارے میں جھوٹ تو نہیں بول رہی ہیں۔
  •  مانچسٹر کے دیگر زندہ بچ جانے والوں کے گھروں کا دورہ کرنا، ان سے پوچھ گچھ کرنے کی کوشش کرنا کہ آیا یہ حملہ ایک دھوکہ تو نہیں تھا۔
  •  ایک ویڈیو میں مانچسٹر کے درجنوں زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کے سوگوار رشتہ داروں کے ناموں اور مقامات کو عام کرنا اور اپنے فالوورز سے یہ اپیل کرنا کہ اگر ان کے پاس ان کے بارے میں کوئی معلومات ہو تو وہ انھیں بھیجیں۔

مارٹن ہِبرٹ کو پہلی بار مسٹر ہال کے حربوں کا علم اس وقت ہوا جب پولیس نے ان کے اہل خانہ کو ان الزامات سے آگاہ کیا کہ انھوں نے اپنی بیٹی اِیو کے گھر کے باہر کیمرا لگایا تھا۔

مسٹر ہال نے ایک جگہ پر ایک چھوٹا کیمرا باندھا جو ان کے گھر کی نگرانی کرتا تھا اور اس کیمرے کی ویڈیو شیئر کی تھی جسے انھوں نے کہا تھا کہ وہ یہ جانچنے کے لیے استعمال کریں گے کہ آیا مانچسٹر ایرینا بم دھماکے میں اِیوا کو واقعی زخم لگے تھے یا نہیں۔

وہ ایک چھڑی سے بندھے ہوئے کیمرے کو اپنے ناظرین کو دکھاتے جس کے اردگرد جعلی پودوں کو لپیٹا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ناظرین سے کہا کہ ’میں نے آخر میں اس جاسوسی کی سرگرمی کو زیادہ تیز کردیا تھا تاکہ میں اپنے اہداف کا سروے کرنے کے لیے اسے وہیں نصب رکھ سکوں۔‘

اِیو، جو اب 20 سال کی ہیں، بم دھماکے کے بعد شدید معذور ہو گئی تھیں۔ انھیں دماغی چوٹ لگی اور وہ اپنے بائیں بازو اور ٹانگ کا استعمال کھو چکی ہیں۔

مسٹر ہال نے بعد میں آن لائن کہا کہ اِیو وہیل چیئر پر گھر سے نکلی لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں‘ کہ ان کے یہ زخم حملے کے نتیجے میں آئے تھے یا نہیں۔

انھوں نے یہ ثابت کرنے کی اپنی کوشش کے شواہد بھی تیار کیے کہ آیا بم دھماکے کی ایک آور متاثرہ لیزا بریجٹ، زخمی بھی ہوئی تھیں یا نہیں، جنھوں نے مانچسٹر کے بم دھماکہ میں اپنی ایک انگلی کھو دی تھی۔

ہال نے جہاں بریجٹ کام کرتی تھیں وہاں ایک کشتی میں لگے ایک کیمرے کے ذریعے ان کی خفیہ ویڈیو بنائی تھی۔

بریجٹ نے مجھ سے کہا کہ ’یہ آپ کو بہت زیادہ عدم تحفظ کا احساس دلاتا ہے کیونکہ آپ صرف یہ نہیں جانتے کہ وہاں کون ہے اور کون کسی کے باغ میں چھپا ہوا ہے یا خفیہ کیمرا لگا کر ایک کونے میں کھڑا ہے۔‘

بی بی سی کے ذریعے دیکھے گئے پیغامات سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح آن لائن بدسلوکی، ان سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن کو مسٹر ہال اور دیگر فروغ دیتے ہیں، مانچسٹر ایرینا بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے غمزدہ لواحقین کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے دیگر دہشت گرد حملوں میں بچ جانے والوں کو بھی بھیجے گئے ہیں۔

آن لائن ٹرولز کی طرف سے یہ شناخت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دہشت گردی سے بچ جانے والے کہاں رہتے ہیں اور کہاں کام کرتے ہیں۔

مسٹر ہال اپنی ویب سائٹ پر عطیات کی درخواست کرتے ہیں اور ایک آن لائن دکان کو فروغ دیتے ہیں جہاں وہ برانڈڈ سامان فروخت کرتے ہیں۔ ان کا ایک مارکیٹ سٹال بھی ہے جہاں وہ مانچسٹر ایرینا حملے کے بارے میں اپنی کتاب اور ڈی وی ڈی فروخت کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سازشی نظریات کو فروغ دینے والی دیگر کتابیں اور DVD بھی فروخت کرتے ہیں۔

زندہ بچ جانے والوں کے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی متعدد کوششوں کے بعد میں نے ان سے سوال کرنے کے لیے ایک مارکیٹ میں اس سٹال کا دورہ کیا۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ مجھ سے ان ’ثبوتوں‘ کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ بھی کہ وہ بی بی سی پر اعتماد نہیں کرتے۔

میں نے پوچھا کہ وہ ان زندہ بچ جانے والوں کی زندگیوں کے بدترین دن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ میری کتاب پڑھیں تو ان میں تمام جوابات موجود ہیں۔ جب میں نے بتایا کہ ان کی کتاب میں کوئی ثبوت نہیں تو انھوں نے مجھے زور دے کر کہا کہ میں غلط ہوں۔

انھوں نے ان سوالوں کو حل کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا وہ واقعی یقین رکھتے ہیں کہ برطانیہ میں دہشت گردانہ حملے کیے گئے تھے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان حملوں میں بچ جانے والوں کو ان کے سازشی نظریات اور حکمت عملیوں سے کیا نقصان پہنچا ہے۔

میں نے اپنے دورے کے بعد، مسٹر ہال کو دوبارہ لکھا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد سے انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر دستبرداریوں کا ایک سلسلہ شامل کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’اس بات کی وکالت نہیں کرتے کہ اس ویب سائٹ کے ناظرین آن لائن یا ذاتی طور پر دہشت گردی کے مبینہ متاثرین سے رابطہ کریں۔‘

انھوں نے ایک نئی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اِیو کے گھر کے باہر کیمرا نہیں لگایا تھا لیکن اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنی وین میں ’کیمرا رولنگ‘ چھوڑی تھی جو کسی ایک ’عوامی جگہ پر کھڑی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ثبوت جمع کرنے کے لیے گھر گھر جا کر شائستہ انداز میں پوچھ گچھ کی ہے، جو کہ تحقیق کرتے وقت بالکل ایک جائز سرگرمی ہے‘، اور یہ کہ عوام سے معلومات کے لیے ان کی اپیل انھیں ’لوگوں کے بھیجے گئے نفرت انگیز پیغامات کے لیے ذمہ دار‘ نہیں بناتی ہے۔

لیکن وہ اپنی رائے پر قائم رہے کہ عوام کے سامنے کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہو کہ مانچسٹر ایرینا کا واقعہ کروایا نہیں گیا تھا۔

مسٹر ہال کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرنے کے لیے اور ان سازشی نظریات کو آگے بڑھانے والے لوگوں کو کیا ترغیب دیتے ہیں، میں نے ایک اندرونی شخص سے بات کی جو مسٹر ہال کی ویڈیوز میں نظر آتا تھا۔ اس کے پاس یہ معلومات ہیں کہ یہ سازشی نظریات گھڑنے کی صنعت کیسے کام کرتی ہے۔

نیل سینڈرز نے کہا کہ وہ مانچسٹر ایرینا حملے پر مسٹر ہال کے خیالات کو فروغ نہیں دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ وہ پرستار ہیں جو مسٹر ہال جیسے سازشی تھیوریسٹ کی رفتار کو تشکیل دے رہے ہیں، جو ’من گھڑت دہشت گردی‘ کے بارے میں دعوؤں کو آگے بڑھانے سے پہلے دوسری دنیاؤں کے اڑن طشتریوں کے بارے میں نظریات پر توجہ مرکوز کرتے تھے۔

درحقیقت مسٹر سینڈرز نے کہا کہ جب انھوں نے اور مسٹر ہال نے سانڈی ہک سکول کی شوٹنگ کے بعد شروع ہونے والی سازشی نظریات پر تبادلہ خیال کیا تھا تو مسٹر ہال نے انھیں بکواس قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

لیکن انھوں نے کہا کہ مسٹر ہال جتنا زیادہ اس دنیا میں الجھے ہوئے ہیں اتنا ہی لگتا ہے کہ وہ ان سازشوں پر یقین کیے ہوئے ہیں۔ مسٹر سینڈرز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ زیادہ سنسنی خیز نظریات ہیں جو ’بکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں برطانیہ کے طول و عرض میں پھیلے مہ خانوں اور دیگر مقامات پر مسٹر ہال کے نظریات کی باز گشت سنی جا سکتی ہے۔

مسٹر سینڈرز کا کہنا ہے کہ وہ سازشی نظریات کی حمایت نہیں کرتے کہ برطانیہ میں دہشت گردانہ حملے کروائے گئے تھے۔

کنگز کالج کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ پانچ میں سے چار لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے سنگین حملے ہوئے ہیں۔

لیکن جب مانچسٹر اور 7/7 کے بم دھماکوں کے بارے میں خاص طور پر پوچھا گیا تو ایک اہم اقلیت - سروے کیے گئے سات افراد میں سے ایک - کو اس بارے میں شک ہے کہ آیا یہ حملے واقعی ہوئے بھی تھے یا نہیں۔

اور سروے کرنے والوں میں سے 10 میں سے ایک سے زیادہ کے خیال میں مانچسٹر ایرینا حملہ ایک دھوکہ تھا۔

کنگز کالج لندن کی تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر بوبی ڈفی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہ صرف عام طور پر لوگوں کو معاشرے سے دور کرتا ہے۔ جو لوگ ان (سازشی) نظریات پر یقین رکھتے ہیں ان کے بارے میں زیادہ امکان ہے کہ وہ بچ جانے والوں کو زیادتی کا نشانہ بنائیں گے۔‘

تحقیق ان لوگوں کے درمیان فرق کرتی ہے جو مانچسٹر ایرینا بم دھماکے جیسے دہشت گردانہ حملوں کو ایک دھوکہ سمجھتے ہیں اور جو ان حملوں کی سچائی کے بارے میں یقین نہیں رکھتے۔

پروفیسر ڈفی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اضطراب، غیر یقینی صورتحال اور سوشل میڈیا کی عادتیں کسی کو محض سوالات کرنے سے لے کر مزید انتہائی عقائد تک پہنچنے کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔

سروے میں شامل 14 فیصد، جن کا ماننا ہے کہ مانچسٹر ایرینا حملے میں ’کرائسس ایکٹرز‘ ملوث تھے، صرف نصف سے کم کا کہنا ہے کہ میسجنگ ایپ ٹیلی گرام ان کے لیے خبروں اور واقعات سے متعلق معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایسے لوگوں کی عمر 24 سال سے کم ہونے اور گزشتہ انتخابات میں ووٹ نہ ڈالنے کا بھی زیادہ امکان تھا۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کووڈ کے وبائی مرض نے ان سازشوں کے لیے ایک ’گیٹ وے‘ بنایا ہے، سروے میں شامل ایک تہائی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وبا نے انھیں دہشت گردی کے حملوں کی سرکاری وضاحتوں کو زیادہ مشکوک بنا دیا ہے۔ پروفیسر ڈفی نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ موجودہ معاشی ماحول (سازشی نظریات کے) اس رجحان کو تقویت دے گا۔

ان لوگوں میں سے ایک جو اس طرح کے آن لائن سازشی نظریات میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتی ہیں، وہ ایلیسیا ہیں، جنھوں نے کہا کہ انھوں نے وبائی امراض کے دوران حکومت پر اعتماد کھو دیا۔ انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کافی مشکل دنوں کا سامنا کیا اور اب وہ قیمتوں کے بڑھتے ہوئے بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ تازہ معلومات کے لیے سوشل میڈیا سے رجوع کرتی ہیں۔

’لوگ اپنے آپ کو مزید محفوظ محسوس نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس یہ دیکھنے کے لیے کوئی نہیں کہ کون ہمیں سچ بتاتا ہے۔ یہ حقیقت میں کافی خوفناک ہے۔‘

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ یہ سچ ثابت ہو کہ مانچسٹر ایرینا بم دھماکہ ایک دھوکہ تھا، لیکن یہ بات اُنھیں واقعی خوفزدہ کرتی ہے کہ یہ دھوکہ ہو سکتا ہے اور انھیں یقین نہیں کہ اب سچ کیا ہے۔

جب میں نے انھیں بتایا کہ میں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے بچ جانے والوں کا انٹرویو کیا ہے اور انھیں مسٹر ہال کے جھوٹے دعووں سے کس طرح بہت تکلیف ہوئی ہے، تو وہ واقعی حیران رہ گئی۔

ایلیسیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی اس قسم کے سازشی نظریات کی بنیاد پر آن لائن بدسلوکی پوسٹ نہیں کی لیکن بہت سارے ہیں جو ایسی بدسلوکیوں والی پوسٹس بھیجتے ہیں۔

2017 میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر دہشت گردانہ حملے کے دوران ایک کار سے ٹکرانے کے بعد مسٹر ٹریوس فرین کو آن لائن سازشیوں نے بہت زیادہ ٹرول (ہراساں) کیا تھا۔ ان کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد پل پر کھڑے موبائل فون پر بنائی گئی فوٹیج – جب تازہ زخم کی وجہ سے انھیں درد کا احساس نہیں ہورہا تھا - نے آن لائن بدسلوکی کی اس لہر کو بہت زیادہ بڑھا دیا تھا۔

انھیں اگلے دن ہسپتال میں حملے کے بارے میں پہلا پیغام ملا۔

اس پیغام میں لکھا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ حملے کا ڈرامہ کیا گیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ وہ آپ کو پھانسی دے دیں گے۔‘

حملے کے کئی مہینوں کے بعد مسٹر فرین نے اپنے رپورٹنگ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا سائٹس پر ویڈیوز اور پوسٹس پر نشان لگانا شروع کیا تاکہ ان کی نشاندہی کی جا سکے، لیکن انھوں نے کہا کہ اس وقت تک کچھ نہیں ہوا تھا جب تک کہ ان کے وکیل نے انھیں لکھ کر نہیں دیا۔

اس کے بعد یوٹیوب نے مختلف ویڈیوز کو ہٹا دیا جس نے اس نظریہ کو فروغ دیا کہ وہ ایک ’کرائسس ایکٹر‘ تھے لیکن انھوں نے کہا کہ دوسری بڑی سوشل میڈیا سائٹس پر ایسا مواد ہٹوانے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔

مسٹر فرین نے میٹروپولیٹن پولیس کو بدسلوکی کی اطلاع دی۔ کسی پر مقدمہ نہیں بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ احساس نہیں کہ دہشت گردی سے بچ جانے والوں کو آن لائن کس طرح ٹرول کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان بچ جانے والوں نے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کہ کچھ لوگ سازشی دنیا کے ان افراد کو کٹہرے میں لانے کے لیے عدالتوں کا رُخ کر رہے ہیں۔