’ڈاکٹر جی‘: انڈیا میں مرد گائنا کولوجسٹس سے متعلق فلم بنانے کا خیال کیسے آیا؟

گائنی

،تصویر کا ذریعہSpice PR

    • مصنف, وندنا
    • عہدہ, ٹی وی ایڈیٹر انڈین لینگوئجز، بی بی سی انڈیا
  • وقت اشاعت

انڈیا کے قانون میں مردوں کے گائناکولوجسٹ ہونے پر پابندی نہیں ہے۔ کچھ ریاستوں میں مرد گائناکولوجسٹ کی خدمات حاصل کرنے کے خلاف ہدایات تھیں، لیکن اُنھیں عدالت میں مسترد کر دیا گیا۔

مریض کے اندرونی معائنے کے لیے خصوصی ہدایات ہیں اور اس ضابطے کے تحت مرد گائناکولوجسٹ کے ساتھ خاتون نرس یا رشتے دار کا ہونا ضروری ہے۔اندرونی معائنے کے لیے خاتون مریض کی رضامندی ضروری ہے۔

’کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ صرف خواتین ہی خواتین کے جسم کو سمجھ سکتی ہیں چونکہ میں ایک مرد ماہر امراض نسواں ہوں اور کبھی حاملہ نہیں ہوا ہوں، ایسا نہیں ہے کہ میں بطور مرد نرس حاملہ عورت کا علاج نہیں کر سکتا۔ یہ تو پھر بالکل اسی طرح ہے کہ اگر میں خود ایک سائیکاٹرسٹ ہوں تو میں ذہنی بیماریوں کا علاج اسی وقت کر سکتا ہوں جب میں خود بھی ذہنی صحت کے مسائل سے گزرا ہوا ہوں۔‘

ڈاکٹر پُنیت بیدی گذشتہ تین دہائیوں سے نیو دہلی میں ماہر امراض نسواں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

درحقیقت جب بھی لوگ گائناکولوجسٹ، زچگی اور ایّام زچگی کے مسائل سے متعلق ماہر کے بارے میں سوچتے ہیں تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں صرف ایک خاتون ڈاکٹر کی تصویر آتی ہے۔ یا بہت سی خواتین صرف ایک خاتون گائناکولوجسٹ کے ساتھ ہی اطمینان محسوس کرتے ہیں۔

تو پھر مرد گائناکولوجسٹ بننا، مرد ہونا اور خواتین مریضوں کی انتہائی نجی زندگی کا حصہ ہونا کیسا ہے؟ نئی ہندی فلم ’ڈاکٹر جی‘ اسی کے گرد بنی ہے۔

گائینی

،تصویر کا ذریعہSpice PR

’مرد گائناکولوجسٹ سے بات کرنا شرم کی بات نہیں ہے‘

میڈیکل کالج میں اکلوتا لڑکا جو گائناکولوجسٹ بننے کے لیے پڑھ رہا ہے۔ وہ اس الجھن میں ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا اور وہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح اس کا شعبہ بدل جائے۔

یہ کہانی ہے آیوشمان کھرانہ کی فلم ’ڈاکٹر جی‘ کی جس کا ذکر ان دنوں ہو رہا ہے۔

جب لڑکا اپنی پروفیسر (شیفالی شاہ) سے کہتا ہے کہ لوگ گائنی سے متعلق مسائل کے لیے خاتون ڈاکٹر کے پاس جانا پسند کرتے ہیں تو شیفالی جواب دیتی ہیں کہ مرد عورت کیا ہے، ڈاکٹر، ڈاکٹر ہے۔

’گھر والے لیبر روم میں جا کر ناراض ہو جاتے تھے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ تو ہوئی فلم۔ حقیقت میں ایک مرد ماہر امراض نسواں اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟

ڈاکٹر امیت ٹنڈن آگرہ کے معروف ماہر امراض نسواں ہیں۔ وہ اس پیشے میں آنے کے بارے میں اپنا قصہ یوں بیان کرتے ہیں: ’ہم بچپن میں یہ کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے کہ ہمارے آگرہ کے مشہور ڈاکٹر نوال کشور اگروال کو نیپال کے بادشاہ نے اپنی بیٹی کی پیدائش پر خصوصی طور پر بلایا تھا۔ ایک بڑا گائناکولوجسٹ جس سے بہت سے تاجروں نے وقت لیا تھا، تو سمجھ میں آتا تھا کہ مرد گائناکولوجسٹ کی طلب ہے۔‘

ابتدائی مرحلے میں درپیش چیلنجز کے بارے میں ڈاکٹر امیت ٹنڈن کہتے ہیں، ’مجھے خود کو ثابت کرنا تھا، میری والدہ بھی گائناکولوجسٹ ہیں، مگر مریضوں کے عدم اطمینان جیسی کیفیت کو دیکھ کر میری والدہ نے بھی مجھے کہا کہ آپ فی الحال خواتین مریضوں کی اندرونی انوسٹیگیشن نہ کریں، جبکہ میں ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر تھا، والدہ نے بھی سوچا کہ شاید خواتین مریض میرے ہوتے ہوئے اطمینان محسوس نہیں کریں گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین جو گھر کے مردوں کے علاوہ باہر کے مردوں کے ساتھ زیادہ میل جول نہیں رکھتی تھیں، ظاہر ہے کہ وہ کسی نوجوان گائناکولوجسٹ سے بات کرنے میں ہچکچاتی تھیں۔‘ خاندان کے رشتے دار اعتراض کرتے تھے، یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ لیکن بعد میں جب وہ عورتیں گھر والوں کو بتاتی تھیں کہ میں نے زچگی کے دوران ان کا کیا خیال رکھا تو گھر والوں کا رویہ بدل گیا۔

’جب نازک حالات میں آپ ایک خاتون مریضہ کی جان بچائیں، بچے کے محفوظ جنم کو یقینی بنائیں، غیر شادی شدہ لڑکیوں کے امراض نسواں کے مسائل کو دور کریں، جس سے ان کی آنے والی زندگی آسان ہو جائے، تب وہ خواتین آہستہ آہستہ اعتماد کرنے لگیں، پھر خود بخود مرد اور عورت کا فرق ختم ہو گیا‘۔

گائنی

،تصویر کا ذریعہDr Amit Tandon

جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو آپ کیا سوچتے ہیں؟

ڈاکٹر پُنیت اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ سماجی اور ثقافتی وجوہات کی بنا پر معاشرے میں یہ عقیدہ رہا ہے کہ اگر عورتیں اپنے حمل، زرخیزی یا شرمگاہ سے متعلق مسائل کے بارے میں کسی مرد ماہر امراض نسواں سے بات کرتی ہیں تو یہ شرمندگی کی بات ہے۔

یہ ایک بہت ہی ذاتی معاملہ لگتا ہے۔ لیکن ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں کہتا ہوں کہ آپ فرض کریں کہ آپ کا ماہواری سے متعلق مسئلہ وہی ہے جیسا کہ آپ کو نمونیا یا کوئی اور مسئلہ ہے۔ اگر آپ کو ایک اچھا گائناکولوجسٹ چاہیے تو آپ کسی تربیت یافتہ ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ جنس کے بارے میں مت سوچیں‘۔

شاید یہ وہی ’میل ٹچ‘ ہے جس کی بات فلم ڈاکٹر جی کے ٹریلر میں کی گئی ہے۔

دراصل فلم ڈاکٹر جی میں گائناکولوجسٹ کی تعلیم حاصل کرنے والے آیوشمان ایک جگہ کہتے ہیں کہ مریض یہ نہیں سوچتے کہ ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہوتا ہے وہ مرد یا عورت نہیں۔

اس پر ان کے پروفیسر جواباً کہتے ہیں کہ پہلے تم ایسا سوچو۔ آپ کو ’میل ٹچ‘ کو کھونا ہوگا یعنی ’میل ٹچ‘ کو پیچھے چھوڑنا ہوگا۔

جب میں نے یہ مردانہ ٹچ والی بات ڈاکٹر پونیت کے سامنے رکھی تو ان کا استدلال کچھ اس طرح تھا۔ ’ایک مرد ماہر امراض نسواں کو پوری پیشہ ورانہ تربیت حاصل ہوتی ہے کہ خواتین کے ساتھ کیسے سلوک کیا جائے۔ خواتین نرسیں بھی ہونی چاہئیں، ڈاکٹرز بھی۔ یہ سکھایا جاتا ہے کہ جسم کے صرف اس حصے سے کپڑے اتارے جائیں جتنا ضروری ہو، ہم ایک حساس ماحول میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اچھے اور برے دونوں ہوتے ہیں، اس سے جنس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔

’ڈاکٹر ڈاکٹر ہوتا ہے مرد یا عورت نہیں‘

اداکارہ راکل پریت اور شیفالی شاہ نے ڈاکٹر جی میں خاتون گائناکولوجسٹ کا کردار ادا کیا۔

نیو دہلی میں پرورش پانے والی راکل پریت اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’اب کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے لیکن یہ سچ ہے کہ جب میں نوعمر تھی تو میں بہت تذبذب کا شکار رہتی تھی کہ مرد گائناکولوجسٹ کے پاس کیسے جانا پڑا۔ ایک بار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا اور وہ گائناکولوجسٹ مرد تھا، ذہن میں سوالات آتے تھے کہ کیسے بتاؤں، گھروں میں بھی خواتین کی صحت سے متعلق مسائل پر کھل کر بات نہیں ہوتی، لیکن آہستہ آہستہ میرا رویہ بدل گیا۔ فلم میں یہی بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کی کوئی جنس نہیں ہوتی، اس فلم کے ذریعے ہم کوئی بڑی تبدیلی لانے کا دعویٰ نہیں کر رہے لیکن ہاں اگر لوگوں کو تفریح ​​فراہم کی جاتی ہے اور لوگ کم از کم اس معاملے پر بات کرتے ہیں تو ہماری بھلائی ہے‘۔

گائنی

،تصویر کا ذریعہSpice PR

مگر شیفالی جو ممبئی میں پلی بڑھی ہیں، ان کا نقطہ نظر مختلف ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی کیونکہ ایک ڈاکٹر، ڈاکٹر ہوتا ہے۔ مرد، عورت، خواجہ سرا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔ اگر میری بھی کوئی طالبہ بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہی ہوتی تو میں انھیں کہتی کہ وہ ’میل ٹچ‘ چھوڑ دیں۔۔ بس ڈاکٹر بنیں۔ جیسا کہ میں آیوشمان سے کہتی ہوں کہ مردانہ رابطے کو کھو دیں۔ جہاں تک معاشرے کا تعلق ہے، ایک فلم کسی بھی مسئلے پر بحث شروع کر سکتی ہے لیکن ایک فلم کو پورے معاشرے کا رویہ بدلنا چاہیے، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔‘

دونوں اداکاراؤں کا رویہ ڈاکٹر بیدی اور ڈاکٹر ٹنڈن کے ساتھ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ ہچکچاہٹ انڈیا کے دیگر حصوں کی نسبت شمالی انڈین معاشرے میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

’جب مجھے عدالت جانا پڑا‘

اس پیشے کے بارے میں بات کریں تو مرد ماہر امراض نسواں کو وقتاً فوقتاً بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سنہ 2016 میں راجستھان میں ایک حکمنامہ جاری کیا گیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو صرف خواتین ڈاکٹر ہی امراض نسواں سے متعلق مسائل کا علاج کریں گی۔ تاہم ڈاکٹروں کی شدید مخالفت کے بعد راجستھان حکومت کو یہ حکم واپس لینا پڑا۔

اس سے قبل سنہ 2010 میں بھی ایک تنازع ہوا تھا اور الہٰ آباد کی عدالت کو مداخلت کرنی پڑی تھی اور عدالت نے کہا تھا کہ ماہر امراض نسواں مرد اور عورت دونوں ہو سکتے ہیں۔

دراصل سلطان پور میں ایک گائناکولوجسٹ نے سرکاری عہدے کے لیے درخواست دی تھی اور اشتہار میں لکھا تھا کہ صرف خواتین ہی درخواست دیں۔ ان کی درخواست مسترد ہونے پر وہ عدالت گئے تھے۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سکریٹری جیش لیلے کا کہنا ہے کہ انڈین قانون کے مطابق مرد گائناکولوجسٹ کی پریکٹس پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن مرد ڈاکٹروں کے لیے کئی گائیڈ لائنز ہیں جیسے کہ خاتون مریضہ کی رضامندی لینا ضروری ہے۔ اندرونی معائنے سے قبل اگر کوئی قانونی معاملہ ہے تو ایک شکایت سیل بھی ہے جہاں خواتین اور ڈاکٹر اپنی رائے دیتے ہیں۔

گائنی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Ayushmannk

’اکیلا لڑکا گائناکولوجی پڑھ رہا ہے‘

’ڈاکٹر جی‘ کی بات کریں تو یہ فلم انوبھوتی کشیپ نے ڈائریکٹ کی ہے اور اس کی کہانی سوربھ بھارت نے لکھی ہے۔ سوربھ بھارت کے پاس بی ڈی ایس کی ڈگری ہے، لیکن بعد میں وہ ڈاکٹریٹ چھوڑ کر فلموں سے منسلک ہو گئے۔ اس کہانی کے پیچھے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔

سوربھ کی بیوی گائناکولوجسٹ ہیں۔ جب وہ پڑھ رہی تھیں اور سوربھ اس سے ملنے گئے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کے دائیں بائیں تمام لڑکیاں تھیں اور صرف ایک لڑکا گائناکولوجی پڑھ رہا تھا۔ پھر انھوں نے سوچا کہ اس لڑکے کو کیسا لگا ہو گا۔ وہاں سے کہانی کا خیال آیا۔

اتفاق سے یہ صرف چند دن پہلے کی بات ہے جب میں سنہ 2015 کی کنڑ فلم چمک دیکھ رہا تھا جس میں ہیرو گائناکولوجسٹ ہے۔

اگرچہ وہ فلم کا مرکزی خیال نہیں ہے لیکن فلم میں ایک سین ہے جب دکھایا گیا ہے کہ جب وہ کسی عورت یا جوڑے کی مدد کرنے، دنیا میں تھوڑی سی زندگی لانے کے قابل ہوتا ہے تو وہ کتنا خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ نوزائیدہ بچے کو بچانے کے قابل نہیں ہوتا تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔

اس سے متعلق اپنا تجربہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر پُنیت بیدی کہتے ہیں کہ جب میں ایم بی بی ایس کر رہا تھا تو مجھے بچے کی پیدائش کے پورے عمل میں دلچسپی تھی، اس لیے میں نے زچگی کے مسائل یعنی گائناکولوجی میں تعلیم حاصل کرنے کا سوچا۔ اور پھر میں اس راہ پر چل پڑا۔ کبھی کوئی پچھتاوا نہیں، میری دادی بچے کو جنم دیتے وقت مر گئی تھیں، اسی لیے میرے والد کہتے تھے کہ کوئی اور ڈاکٹر ایک انسان کی جان بچاتا ہے لیکن ایک گائناکولوجسٹ ماں اور بچے سمیت پورے خاندان کو بچاتا ہے۔

گائینی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Ayushmannk

پیشے کے چیلنجز

اگرچہ ڈاکٹر پُنیت بیدی بھی خبردار کرتے ہیں کہ چاہے وہ مرد ہو یا عورت، گائناکولوجسٹ ہونا زندگی بھر کا ایک عہد ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہولی ہو دیوالی، آپ کو دن میں 24 گھنٹے دستیاب رہنا ہو گا۔ اگر میں 25 سال تک اس میدان میں ہوں تو میرے دن رات بندھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ پیدائش کسی بھی وقت ہو سکتی ہے اور آپ کو حاضر ہونا پڑے گا۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی موقع ہو، آپ پارٹی میں جا سکتے ہیں لیکن آپ کبھی شراب نہیں پی سکتے۔ امراض نسواں میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر بچے کی پیدائش کے دوران کوئی مسئلہ ہو تو انھیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔‘

ایسا ہی ایک ہائی پروفائل معاملہ اس سال راجستھان میں سامنے آیا تھا جہاں ایک خاتون گائناکولوجسٹ نے خودکشی کر لی تھی۔ ایک حاملہ خاتون کے بچے کو جنم دینے کے بعد موت واقع ہو گئی تھی جس کے بعد مقامی رہنماؤں نے احتجاج کیا اور پولیس نے خاتون ڈاکٹر کے خلاف قانون کی شق 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا۔

ڈاکٹر کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے ڈاکٹر ارچنا شرما ڈپریشن کا شکار ہوگئیں اور اپنے نجی ہسپتال میں خودکشی کر لی۔

ڈاکٹر ارچنا شرما کا لکھا ہوا ایک جذباتی نوٹ بھی ملا، جس میں انھوں نے لکھا کہ ’میں اپنے شوہر، اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی ہوں، براہ کرم میرے مرنے کے بعد انھیں پریشان نہ کریں، میں نے کوئی غلطی نہیں کی، کسی کو قتل نہیں کیا۔ پی پی ایچ ایک پیچیدگی ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر کو اتنی اذیت دینا بند کرو۔ میری موت میری بے گناہی ثابت کر سکتی ہے۔ برائے مہربانی بے گناہ ڈاکٹروں کو نقصان نہ پہنچائیں۔‘ 

یہ بھی پڑھیے

گائینی

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena/BBC

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ارچنا شرما نے اپنے خلاف قانونی کارروائی شروع ہونے پر خودکشی کر لی تھی

’سب سے خوبصورت چیز ڈاکٹر اور مریض کا باہمی اعتماد ہے‘

ان تمام چیلنجوں کے باوجود اس پیشے کے بارے میں سب سے اچھی چیز کیا ہے؟

اس پر ڈاکٹر ٹنڈن کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت ہی پاکیزہ رشتہ ہے۔ ایک خاتون مریضہ آپ کو اپنی ذاتی زندگی میں داخل ہونے دیتی ہے۔ جب وہ اندرونی چیک اپ کروانے کے لیے تیار ہوتی ہے تو وہ آپ پر اپنا اعتماد ظاہر کر رہی ہوتی ہے۔ یہ اعتماد ہے۔ اس پیشے کی سب سے خوبصورت چیز۔ لیکن یہ اعتماد برسوں کی محنت سے حاصل ہوتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’مرد گائناکولوجسٹ کو شاید اعتماد جیتنے کے لیے زیادہ صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب کوئی خاتون ڈلیوری کے بعد مجھ سے کہتی ہے کہ مجھے ٹانکے کا درد محسوس نہیں ہوتا تو یہ میرے لیے مسرت کا باعث ہوتا ہے۔ اگر میں لیپروسکوپی کے ذریعے سرجری کر سکوں تو یہ میری کامیابی ہے کیونکہ ان خواتین کا کہنا ہے کہ قدامت پسند سماجی عقائد کی وجہ سے پیٹ پر چیرا لگنے کی وجہ سے انھیں بعد میں شادی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ان باتوں کا خیال رکھ کر علاج کرنا اور ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے یہ ہمارا ایک چھوٹا سا ’تعاون‘ ہوتا ہے‘۔

فلمی گائناکولوجسٹ اور حقیقی زندگی کے گائناکولوجسٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پُنیت نے فلم دیکھے بغیر اپنا ذہن بنا لیا ہے۔ ان کے مطابق ’میں بالی ووڈ سے اس معاملے پر ایک معلوماتی فلم بنانے کی زیادہ توقع نہیں رکھتا۔ بالی ووڈ میں ایک بزنس ماڈل ہے جہاں ’سٹارڈم‘ چلتا ہے۔ ہمارے یہاں تحقیق نہیں ہے۔ اگر بالی ووڈ کو لگتا ہے کہ کوئی خاص پلاٹ فلم کو زیادہ کامیاب بنائے گا، تو یہ یہ بنائے گا، چاہے یہ صحیح عکاسی ہے یا نہیں، مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کتنی سائنس ہے۔‘

جبکہ ڈاکٹر ٹنڈن کا اس فلم کے بارے میں کہنا ہے کہ بطور مرد گائناکولوجسٹ وہ اس فلم سے تعلق ڈھونڈ سکیں گے اور اس فلم کے بہانے لوگوں میں مرد گائناکولوجسٹ اور خواتین کی صحت کے بارے میں بھی کچھ بیداری آئے گی۔

اس بحث سے ہٹ کر کہ فلم اچھی ہے یا بُری، ڈاکٹر پُنیت اس ایک بات پر زور دیتے ہیں کہ ’میں صرف یہ مانتا ہوں کہ جنسی مسائل، حمل سے متعلق مسائل، ماہواری کا تھم جانا، خواتین کی صحت سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہو سکتا ہے... کسی اچھے گائناکولوجسٹ کا انتخاب کریں۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔۔بچے کو دنیا میں لانا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اس ملک میں خواتین کی صحت ایک بڑا مسئلہ بننا چاہیے نہ کہ جنس۔‘

(ممبئی سے سپریا سوگلے نے اس رپورٹ میں تعاون کیا)