دو ماہ کی کشیدگی کے بعد وڈھ میں معمولاتِ زندگی بحال: ’لڑائی اتنی شدید تھی کہ ہمیں نقل مکانی کرنی پڑی‘

،تصویر کا ذریعہNaeem Baloch
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے شہر وڈھ سے تعلق رکھنے والے منیر احمد کی مہنگائی کے اس دور میں ماہانہ آمدنی صرف 15 ہزارروپے ہے تاہم اُن کے شہر میں حالات کی خرابی کے باعث جب کاروباری مراکز بند ہوئے تو دو ماہ تک وہ اس کم آمدنی سے بھی محروم رہے۔
اب دوماہ دس دن بعد وڈھ میں دوبارہ کاروباری مراکز کھل جانے کی وجہ سے وہ خوش ہیں کیونکہ اس سے انھیں پھر سے معمول کی آمدنی ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
کاروباری مراکز کھلنے پر محنت مزدوری کرنے والے افراد کی طرح وڈھ کے تاجروں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن اپنی حفاظت کے حوالے سے ان کی تشویش برقرار ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کے لیے مؤثر انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔
حالیہ عرصے میں بلوچستان کے ضلع خضدار کے شہر وڈھ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل اور میر شفیق الرحمان مینگل کے حامیوں کے درمیان مسلح جھڑپوں سے یہاں نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ 15 اگست کے بعد حالات اس قدر خراب ہوئے کہ لوگ شہر سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
ان جھڑپوں میں کم ازکم 10 افراد ہلاک اور 18 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں اغوا، قتل اور تاجروں کو بھتے کی ادائیگی کے لیے دھمکیوں سمیت جرائم کے بعض دیگر مبینہ واقعات رونما ہونے کے بعد وڈھ میں سردار اختر مینگل اور میر شفیق الرحمان مینگل کے حامی ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہو گئے تھے۔
سردار اختر مینگل اور ان کے حامی وڈھ میں اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری میر شفیق الرحمان مینگل پرعائد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہوئے کہ انھیں ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ دوسری جانب میر شفیق الرحمان مینگل سردار اختر مینگل اور ان کے خاندان کو موجودہ صورتحال کے لیے موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
حالات نے شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا

رواں سال کے آغاز میں دونوں گروپس کے درمیان کشیدگی ہوئی مگر بعدازاں علاقہ عمائدین کی گزارش پر وہ ’جنگ بندی‘ پر راضی ہوئی مگر یہ صورتحال تھوڑا عرصہ ہی برقرار رہی اور 15 اگست سے فریقین کے درمیان پھر سے شدید جھڑپوں کا آغازہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس صورتحال کے باعث وڈھ میں تمام کاروباری مراکز مکمل طورپر بند ہوئے جبکہ آبادی کی اکثریت نقل مکانی پرمجبور ہوئی۔
خضدارپولیس کے ایک سینیئراہلکار نے بتایا کہ جن دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ان میں سے تین افراد ایسے تھے جو کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پرسفر کے دوران فائرنگ کی زد میں آ گئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں ہلاکتیں زیادہ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ جن علاقوں میں مورچہ زن افراد ایک دوسرے کو نشانہ بناتے تھے وہاں سے لوگوں کی اکثریت نقل مکانی کر چکی تھی۔
تعلیمی ادارے بند رہے: ’دوماہ کے نقصان کا ازالہ کیسے ممکن ہو سکے گا‘
جھڑپوں کی وجہ سے وڈھ شہر میں تمام تعلیمی اداروں کے علاوہ زیادہ تر سرکاری دفاتر بھی بند رہے۔
وڈھ میں قائم لسبیلہ یونیورسٹی کے کیمپس میں بی ایس ایجوکیشن کے چھٹے سمیسٹر کے طالبعلم شاہجہاں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا کیمپس دو ماہ سے زائد عرصہ بند رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ وڈھ شہرمیں کالج اورسکول بھی بند رہے کیونکہ گولے گھروں پر بھی گر رہے تھے اس لیے ایسی صورتحال میں طلبا کے لیے تعلیم جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔
انھوں نے بتایا کہ جس علاقے میں ان کا گھر ہے وہ بھی فائرنگ اور گولہ باری کی زد میں رہا اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں 16 کے قریب گھر بڑے گولے لگنے کی وجہ سے متاثرہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث وڈھ شہر کے تمام طلبا کی تعلیم متاثر ہوئی اور’اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دو ماہ کے نقصان کا ازالہ کیسے ممکن ہو سکے گا۔‘
’غریب لوگ دعا ہی کر سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہMuneer Ahmed
وڈھ میں دو ماہ کے دوران زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے یا کم آمدنی والے افراد کی پریشانیاں سب سے زیادہ رہیں۔
کم آمدنی والوں میں منیراحمد بھی شامل ہیں۔ انھوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جب لڑائی شروع ہوئی تو انھوں نے ’بچوں کو کراچی بھجوا دیا اوراس مقصد کے لیےاپنی بکریوں اورکچھ اورچیزوں کو فروخت کر کے وہاں ایک گھر کرائے پر لے لیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آمدنی نہ ہونے کے باعث ایک ماہ کے بعد کراچی میں گھر کا کرایہ اور وہاں اخراجات کے لیے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بچوں کو واپس بلا کر خضدار شہر میں بھائی کے پاس بھیجنا پڑا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب اللہ کا شکر ہے کہ شہرکھل گیا ہے اور کاروبار بحال ہونے سے انھیں کم ازکم 15 ہزار روپے ملنا شروع ہو جائیں گے۔‘
منیراحمد نے کہا کہ ’ہم غریب لوگ دعا ہی کر سکتے ہیں کہ وڈھ میں دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جس سے غریب لوگوں کا روزگار بند ہو جائے۔‘
ہندو کمیونٹی کے تاجروں کا قتل
ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجرنے بتایا کہ حالات کی خرابی سے پہلے وڈھ میں وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب وہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھتہ نہ دینے پردوہندو تاجروں کو قتل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 15 اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ہندوکمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بعض خاندانوں کو نقل مکانی کرنی پڑی لیکن اب جھڑپیں بندہونے کے بعد وہ بھی واپس آ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وڈھ میں کاروبارکی بحالی پر خوش ہیں کیونکہ ہمارا معاش اسی کاروبار سے وابستہ ہے لیکن ہمیں تحفظ کا ایک ایسا میکینزم چاہیے جس میں پھر سے ہمیں بھتے کے لیے تنگ نہیں کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم سرکارسے تحفظ کے حوالے سے بہت زیادہ پُر امید نہیں کیونکہ ’جب ہماری برادری کے ایک تاجر کو بھتہ نہ ملنے پر قتل کیا گیا تو ہم نے تمام متعلقہ حکام سے ملاقات کی جنھوں نے تحفظ کی یقین دہانی کروائی لیکن اس کے بعد بھتے کے لیے دوسرے تاجرکو قتل کیا گیا۔‘
تاجروں کا حکومت کو غیرجانبدار رہنے کا مشورہ

،تصویر کا ذریعہZahoor Ahmed
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وڈھ میں کاروبارکرنے والے ظہوراحمد کو 15 اگست کے بعد اپنی دکان کو بند کر کے خاندان کے ہمراہ ڈھانیسرکے علاقے میں منتقل ہونا پڑا تھا۔
تاہم اب بازارکھلنے کے بعدنہ صرف وہ اپنے خاندان کے ہمراہ واپس آ گئے بلکہ دو ماہ سے زائد کی طویل بندش کے بعد 21 اکتوبر سے انھوں نے اپنی دکان کو دوبارہ کھول دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروبار بند ہونے سےان کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کشیدگی اور جھڑپوں کے باعث وڈھ میں 80 فیصد کاروبارتباہ ہو گیا تاہم اب دوبارہ بازاروں کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں جس کے باعث ہم توقع رکھتے ہیں کہ کاروبارپہلے کی طرح جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا بھتہ خوری اور اسے نہ دینے کی صورت میں حملوں اور ہراساں کرنے کی وجہ سے کرنا پڑا۔
ایک اورتاجر حمید اللہ مینگل نے بتایا کہ لڑائی بند ہونے کے بعد اللہ کا شکر ہے کہ بازارکھل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دوماہ کے دوران وڈھ میں لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ نہ صرف لوگوں کی بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنی پڑی بلکہ جو لوگ وڈھ شہرمیں رہ گئے تھے وہ ہر وقت خوف کے سائے میں رہتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں راشن کے لیے خضدار یا دراکھالہ جاتے تھے تو وہاں پر بھی ہماری گاڑیوں پر فائرنگ ہوتی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ غیر جاندار رہے اور وڈھ میں انصاف اور قانون کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کیا جائے تاکہ وڈھ میں امن قائم ہو جائے۔
وڈھ بازار پنچایت کے رکن مجیب مینگل نے فون پر بتایا کہ گذشتہ تین چار روز سے وڈھ میں دکانیں کھل گئی ہیں اورکاروبار کا سلسلہ جاری ہے۔
مجیب مینگل نے کہا کہ وڈھ شہرمیں اگرچہ کاروبار دو ماہ سے بند رہا لیکن ان کی پریشانیاں بہت پہلے سے تھِیں کیونکہ ان سے بھتے طلب کیے جاتے تھے جبکہ بازارمیں تاجروں کو مسلح افراد کی جانب سے نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے وڈھ شہرمیں کاروبارکرنے والوں کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تاہم وہ سرکارکی تحفظ کی فراہمی کی باتوں پربہت زیادہ یقین نہیں کر سکتے کیونکہ اگر سرکار اپنی ذمہ داری پوری کرتی تو شاید نوبت کاروبارکی مکمل بندش تک نہیں آتی۔

،تصویر کا ذریعہNaeem Baloch
جب وڈھ میں تاجروں کے تحفظات اور وہاں کی صورتحال کے حوالے سے بلوچستان کے نگراں وزیرداخلہ میرزبیراحمد جمالی سے رابطہ کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ وڈھ میں فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے جس کے بعد سے وہاں کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کی پہلے بھی حکومت سے بات ہوئی تھی اس لیے انھوں نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنی پریس کانفرنس کے بعد یہ کہا تھا کہ دونوں فریق 18 جون سے پہلے والی پوزیشنزپر جائیں۔
نگراں وزیرداخلہ نے کہا کہ فورسزدرمیان میں آئی ہیں جس کے بعد دونوں فریق پیچھے گئے ہیں جبکہ سنگوٹ سمیت جو بعض دیگرعلاقے ہیں وہاں بھی ہماری کوشش ہے کہ فورسز پوزیشن سنبھالیں۔
میر زبیرجمالی نے کہا کہ فورسز کی تعیناتی کے باعث آئندہ تین چاردنوں میں صورتحال مزید بہتری کی جانب جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت وڈھ کے حوالے سے غیرجانبدار ہے اوراگر فریقین اپنی پوزیشنز سے پھیچے نہیں جائیں گے تو پھر یقیناً قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔
























