آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سرفراز نواز کی نئی کتاب، عمران خان سے تعلق اور کرکٹ میں جوئے کی کہانی: ’دھمکیاں ملیں کہ قتل کر دیں گے‘
- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز کرکٹ میں مبینہ سٹے بازی اور فکسنگ کے واقعات پر ایک لمبے عرصے سے بات کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی نئی کتاب میں بہت سی ’اندر کی کہانیاں‘ موجود ہوں گی۔
سرفراز نواز کا شمار دنیا کے چند بہترین فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے اور انھیں ریورس سوئنگ کا مؤجد بھی کہا جاتا ہے۔
لندن میں صحت کی خرابی سے نبردآزما سابق فاسٹ بولر کی نئی کتاب کی رونمائی 25 ستمبر کو لارڈز میں ہوگی اور ان کا کہنا ہے کہ اپنی اس آپ بیتی میں انھوں نے ڈریسنگ روم کی سیاست اور میچ فکسنگ جیسے تنازعات کی تفصیلات شامل کی ہیں۔
کرکٹ میں بد عنوانی
لندن میں ایک انٹرویو کے دوران سرفراز نواز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ اپنی کتاب میں بیان کریں گے کہ کس طرح بعض کھلاڑی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے، کپتانوں کو ہٹانے کے لیے کوششیں ہوتی رہیں اور کس طرح وقت کے ساتھ جوئے کا عنصر پاکستانی کرکٹ میں داخل ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی کتاب میں جسٹس فقیر محمد یوسف کی سربراہی میں تیار ہونے والی رپورٹ، جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن، سابق کپتانوں کے خلاف سامنے آنے والے الزامات اور مختلف دیگر لوگوں کے بیانات کا بھی ذکر موجود ہے۔
سرفراز نواز، جو کئی دہائیوں سے کرکٹ میں بدعنوانی کے خلاف بولتے رہے ہیں، کا دعویٰ ہے کہ اسی وجہ سے انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
’مجھ سے تو سٹے باز ڈرتے رہے ہیں۔ مجھے تو دھمکیاں ملی ہیں کہ آپ اگر بکواس کریں گے تو آپ کو ہم قتل کر دیں گے۔‘
انھوں نے بتایا کہ سنہ 2010 اور 2017 میں انھوں نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر ایف آئی آرز درج کروائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے وزیراعظم، صدر، چیف جسٹس اور آرمی چیف کو بھی خطوط لکھے تاکہ کرکٹ میں مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
سابق فاسٹ بولر کا کہنا ہے کہ ماضی میں لندن میں قیام کے دوران ان کی دو مرتبہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے ملاقات ہوئی اور ان کی سلامتی کے حوالے سے خصوصی نگرانی بھی کی گئی۔
سرفراز نواز نے اپنے انٹرویو میں شارجہ میں مبینہ طور پر ہونے والی سٹے بازی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سنہ 2001 یا 2003 میں ایک انکوائری بھی کی تھی۔
یہ انکوائری سنہ 2001 میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کی تھی، جس کی قیادت سر پال کونڈن کر رہے تھے۔
’میری 100 صفحات کی کتاب ہے۔ اس میں سب واضح چیزیں ہیں کہ کیا ہوا، کیسے ہوا۔‘
انھوں نے آئی سی سی کی انکوائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بعد آپ دیکھیں جو نتیجہ آیا اس میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جوا شارجہ میں کھیلا جاتا رہا ہے اور پھر شارجہ پر پابندی لگ گئی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کرکٹ میں ہونے والی کرپشن کسی سے ’چھپی ہوئی بات نہیں‘ ہے اور اپنی بات کی وضاحت کے لیے انھوں نے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کا حوالہ دیا، جنھیں 2011 میں سپاٹ فکسنگ پر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
عمران خان سے دوستی
عمران خان نے سنہ 1971 میں پاکستان کے لیے اپنا پہلا میچ کھیلا تھا، تاہم پھر وہ برطانیہ میں اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گئے تھے۔
تاہم سرفراز نواز عمران خان کی واپسی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’1974 میں جب عمران خان بطور ٹاپ کلاس آلراؤنڈر کرکٹ میں واپس آئے تو سنہ 1984 تک میری اور ان کی جوڑی چلی ہے، جس نے پاکستان کی فاسٹ بولنگ کو بلندیوں پر پہنچایا۔‘
انھوں نے اس دور کے دیگر فاسٹ بولرز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت آصف مسعود، سلیم الطاف اور سکندر بخت بھی تھے، لیکن میں اور عمران سب سے زیادہ بولنگ کرتے تھے۔‘
’عمران خان بطور ایک ذہین کھلاڑی مجھ پر گراؤنڈ میں بہت بھروسہ کرتے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ عمران خان اور ان کی دوستی اتنی گہری تھی کہ دونوں کے درمیان ’سوئی برابر فاصلہ بھی نہیں تھا۔‘
کرکٹ کی دنیا میں آمد
سرفراز نواز نے پاکستان کے لیے 1969 سے 1984 تک 55 ٹیسٹ میچ کھیل کر 177 وکٹیں، جبکہ 45 ون ڈے میچوں میں 63 وکٹیں حاصل کیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچپن میں لاہور کے علاقے مزنگ میں اپنے دوستوں کے ساتھ گلیوں میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور بعد میں والد کے ساتھ کنسٹرکشن کے شعبے سے منسلک ہوگئے۔
تاہم سرفراز نواز کے مطابق سنہ 1965 میں انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران کنسٹرکشن کے فنڈز بند ہوگئے اور انھوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کر دی۔
وہ کہتے ہیں کہ انھیں لاہور کے گورنمنٹ کالج میں کرکٹ کی وجہ سے ہی داخلہ ملا تھا۔
’میں نے وہاں سے کرکٹ کھیلنی شروع کی اور اس کے بعد جو ہوا وہ قدرت کا کمال ہے۔‘
سیاست میں آمد
سرفراز نواز ماضی میں پاکستانی سیاست میں بھی متحرک ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ مختلف ادوار میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا حصہ رہ چکے ہیں۔
وہ اپنی سیاست میں آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنا آخری ٹیسٹ میں سنہ 1984 میں کھیلا، جس میں نہ صرف انھوں نے سات وکٹیں حاصل کیں بلکہ ایک اننگز میں 90 رنز بھی بنائے۔
’پھر میں نے لاہور کی پرانی انارکلی میں اعلان کیا کہ میں ریٹائر ہو رہا ہوں اور سیاست میں شمولیت اختیار کر رہا ہوں، اور میں لاہور سے الیکشن لڑوں گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے سیاست میں بھی اس لیے اس لیے حصہ لیا کیونکہ ’کرکٹ میں بہت ناانصافی ہوتی تھی۔‘
’میں نے سوچا کہ میں الیکشن جیت کر کرکٹ بورڈ میں کوئی اعلیٰ عہدہ لوں گا۔ لیکن میں بہت مایوس ہوا۔‘