’میری پانچ سال کی محنت چھین لی گئی‘: 13 لاکھ فالوورز والے فنانس انفلوئنسر نے خودکشی کیوں کی؟

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, سوشل افیئرز ایڈیٹر، انڈیا
    • مصنف, موہن
    • عہدہ, بی بی سی تمل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا میں 27 سالہ فنانس انفلوئنسر کی خودکشی کے بعد سائبر بُلیئنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ سرمایہ کاروں کو مالی مشورے دینے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے۔

انسٹاگرام پر انتہائی مقبول اکاؤنٹ ’فنانس ود ہریش‘ چلانے والے وی ہریش منگل کی صبح جنوبی انڈین ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئی کے قریب واقع اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔

ان کی خودکشی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب چند ہفتے قبل ہی شکایات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث میٹا نے ان کا اکاؤنٹ معطل کر دیا تھا۔

پولیس کے پاس درج کروائی گئی شکایت میں ہریش کے والد جے ونایاگم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے نے جیسن سیموئل نامی یوٹیوبر اور ٹیکنالوجی پر مرکوز وینچر سٹوڈیو زیموریا کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے آن لائن ہراسانی کے باعث اپنی جان لی ہے۔

پولیس نے جمعرات کے روز جیسن سیموئل کو اس شبہے میں گرفتار کر لیا کہ انھوں نے ’ہریش سے رقم وصول کرنے کی کوشش کی‘ اور ’ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز ویڈیوز شائع کیں۔‘

بی بی سی تمل نے جیسن سیموئل سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں موصول ہوا۔ تاہم اس سے قبل انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

اس مقدمے نے انڈیا میں مالیاتی مواد تیار کرنے والے سوشل میڈیا کریئیٹرز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو نمایاں کیا ہے، جہاں لاکھوں نئے سرمایہ کار سرمایہ کاری اور مالیاتی منڈیوں سے متعلق رہنمائی کے لیے تیزی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں۔

اکاؤنٹ کی معطلی

ہریش نے تقریباً پانچ سال قبل فنانس اور سرمایہ کاری سے متعلق ویڈیوز بنانا شروع کیں اور رفتہ رفتہ سوشل میڈیا پر ایک بڑی تعداد میں مداح اور فالوورز حاصل کر لیے۔

گذشتہ برسوں کے دوران انہوں نے 1,500 سے زیادہ ویڈیوز شائع کیں اور انسٹاگرام پر ان کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہو گئے۔ وہ خود کو ’ملینیئرز‘ اور ’زیادہ مالدار افراد‘ کے مالیاتی مشیر کے طور پر متعارف کرواتے تھے۔

وہ اکثر شیئر بازار کے اتار چڑھاؤ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تبدیلیوں پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز کو زیادہ ڈرامائی بنانے کے لیے موسیقی، فلمی کلپس اور عالمی سیاسی رہنماؤں کی تصاویر کا استعمال کرتے تھے۔

مالیاتی معاملات کو آسان زبان میں بیان کرنے والی ان ویڈیوز نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، خصوصاً ایسے وقت میں جب انڈیا میں انفرادی سرمایہ کاروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی اور 2020 کی کووِڈ-19 وبا کے بعد اس رجحان میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ملک کے سب سے بڑے سٹاک ایکسچینج نیشنل اسٹاک ایکسچینج نے رواں سال کے اوائل میں بتایا تھا کہ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نئے سرمایہ کاروں کی تعداد 13 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2019 میں یہ تعداد تین کروڑ سے بھی کم تھی۔

لیکن ستمبر میں میٹا نے ہریش کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا کیونکہ اسے ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ ہریش سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے، حالانکہ قانون کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق مشورہ دینے یا صارفین کے پورٹ فولیوز کا انتظام سنبھالنے کے لیے رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔

بعد ازاں ان کا ایک متبادل اکاؤنٹ، جس نے مختصر عرصے میں 60 ہزار سے زیادہ فالوورز حاصل کر لیے تھے، سوشل میڈیا صارفین اور دیگر افراد کی شکایات کے بعد بند کر دیا گیا۔

اگرچہ انسٹاگرام پر اب بھی ان کے نام سے چند دیگر اکاؤنٹس موجود ہیں، تاہم ان کے فالوورز کی تعداد بہت کم ہے اور یہ واضح نہیں کہ انھیں کون چلا رہا ہے۔

انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق ہریش کے دوستوں اور اہلِ خانہ کا کہنا ہے اپنی موت سے قبل ریکارڈ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں ہریش نے نے کہا تھا کہ ان کی ’پانچ سال کی محنت چھین لی گئی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی اس ویڈیو میں ہریش کو پہلے تمل زبان میں بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ انگریزی میں اپنے والدین، بہن، دوستوں اور فالوورز سے یہ کہتے ہیں: ’آئی ایم ویری سوری۔‘

پولیس کے پاس درج شکایت

پولیس کا کہنا ہے کہ ہریش کے والد جے ونایاگم نے اپنے بیٹے کی خودکشی کا ذمہ دار ’سائبر ہراسانی، سوشل میڈیا پر ہتک آمیز پوسٹس اور ان کے چینلز کی بار بار بندش ‘ کو ٹھہرایا ہے اور چنئی کے قریب کاناتھور پولیس سٹیشن میں درج شکایت میں جیسن سیموئل کو نامزد کیا ہے۔

جیسن سیموئل نے 18 اکتوبر کو اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شائع کی تھی، جس میں انھوں نے ہریش کی پیشہ ورانہ اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا یا ایسوسی ایشن آف میوچل فنڈز اِن انڈیا کی رجسٹریشن موجود نہیں تھی۔ اس ویڈیو میں انھوں نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ شکایات موصول ہونے کے بعد ہریش کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا۔

ونایاگم کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے بعد آن لائن ہراسانی میں شدید اضافہ ہوا اور اسی دباؤ نے ان کے بیٹے کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا۔

ان کی شکایت میں کہا گیا ہے: ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور جیسن سیموئل اور ان کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، جنھوں نے سوشل میڈیا پر ہتک آمیز مواد پھیلایا اور سائبر ہراسانی کے ذریعے ذہنی اذیت پہنچائی۔‘

پولیس کے بیان کے مطابق ونایاگم کی شکایت ’خودکشی پر اکسانے‘ کے الزام کے تحت درج کی گئی اور ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ جیسن سیموئل کا ’اس معاملے میں کردار‘ تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جیسن سیموئل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور عدالتی تحویل میں بھیج دیا جائے گا۔‘

جیسن سیموئل نے اپنی اس ویڈیو کا دفاع کیا ہے، جس میں انھوں نے ہریش کے پاس مطلوبہ پیشہ ورانہ اسناد نہ ہونے کی نشاندہی کی تھی اور کہا کہ تھا وہ صارفین کے مفاد میں یہ معاملہ اٹھا رہے تھے۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں سیموئل نے کہا ’جو کچھ ہوا اس پر مجھے گہرا صدمہ، شدید رنج اور دکھ ہے اور میں اس انسانی جان کے ضیاع پر سوگوار ہوں۔‘

تاہم انھوں نے اپنے خلاف ’سائبر بُلیئنگ‘ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

انھوں نے لکھا ’میں نے ان کو سائبر بُلیئنگ کا نشانہ نہیں بنایا۔ میں نے صرف ان کے پاس لائسنس اور قانونی اختیار نہ ہونے، لائسنس کی غلط نمائندگی اور دھوکہ دہی۔۔ یعنی ان کی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی کی تھی۔‘

سیموئل نے مزید کہا ’میں نے تو ویڈیو میں واضح طور پر ان سے کہا تھا کہ وہ مناسب لائسنس حاصل کر کے واپس آئیں اور یہ کام کریں۔ میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی میں نے توقع کی تھی کہ صورتحال اس حد تک پہنچ جائے گی۔ اس نقصان پر مجھے گہرا افسوس ہے۔‘