لیڈی سوزن کے ’نسل پرستانہ سوال‘ اور برطانوی شاہی محل میں ہونے والی تکرار پر بحث

وقت اشاعت

یہ معاملہ شروع تو ایک عجیب سی نجی گفتگو سے ہوا، لیکن بہت جلد ہی یہ برطانوی شاہی خاندان کے لیے عوامی سطح پر بہت زیادہ سبکی کا باعث بن گیا۔

اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاہی محل نے اسے کتنا سنگین معاملہ سمجھا اور فوراً اس کا جواب دیا۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جس میں ایک برطانوی خیراتی تنظیم کی سیاہ فام خاتون سربراہ سے پوچھا جا رہا تھا کہ آیا ان کا تعلق ’واقعی‘ برطانیہ سے ہے، اس کے چند ہی گھنٹے بعد ایک خاتون کی طرف سے نہ صرف معافی مانگی گئی بلکہ انھیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ گیا۔

 ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شاہ چارلس کی اہلیہ اور کوین کنسورٹ، کمیلا نے گھریلو تشدد کے خلاف اپنی مہم کے حوالے سے تقریباً تین سو مہمانوں کو بکنگھم پیلس میں جس تقریب میں بلایا تھا، وہ ایک یادگار تقریب ثابت ہوتی، لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

شاہی خاندان کی ایک اہم رکن، لیڈی سوزن ہسی اور مہمان خاتون، نگوزی فلانی  کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کے حوالےسے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ اس کا آغاز تو ’ہلکی پھلکی‘ گفتگو سے ہوا لیکن یہ جلد ہی تلخ ہو گئی۔

لیڈی سوزن بظاہر یہ تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں تھیں کہ سیاہ فام مہمان خاتون کا تعلق واقعی برطانیہ سے ہے۔ ان کے سوالوں سے لگتا تھا کہ انھوں نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا تھا کہ سیاہ فام مہمان برطانوی نہیں ہیں بلکہ کسی دوسرے ملک سے آئی ہیں۔

جس چیز نے سارے ماحول کو اتنا زہر آلود کر دیا وہ یہ ہے کہ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر کچھ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آیا شاہی خاندان کے افراد میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ ایک متنوع اور جدید برطانیہ کی تصویر پیش کر سکیں۔

لگتا ہے اس واقعے نے برطانیہ میں دیگر نسلوں کی شناخت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالوں اور زخموں کو تازہ کر دیا ہے اور شاید بکنگھم پیلس ابھی تک دیگر نسلوں کے افراد کو خوش دلی سے قبول نہیں کر پا رہا ہے۔

برطانوی شاہی خاندان کے لیے نسل، نسل پرستی، معاشرے میں تمام نسلوں کی شمولیت اور تنوع جیسے مسائل بہت مشکل ہو چکے  ہیں، خاص طور پر اس وقت سے جب شہزادہ ہیری کی اہلیہ، میگھن نے اشارتاً یہ کہا تھا کہ شاہی خاندان اور رائل ہاؤس ہولڈ  کے افراد ان مسائل کے حوالے سےمتعصب ہیں۔

بکنگھم پیلس میں ہونے والی تکرار میں شامل لیڈی سوزن ہسی دراصل پرنس ولیم کی نینی ہیں جو ان دنوں امریکہ گئے ہوئے ہیں جہاں وہ خود کو بین الاقوامی سطح پر ایک ایسے جدید اور ہمدرد شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے ماحولیات جیسے مسائل کا بھی پورا ادراک ہے۔

دوسری جانب گذشتہ کچھ عرصے سے شاہی خاندان عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ برطانیہ میں  نسلی تنوع اور ہم آہنگی کا حامی ہے۔

یاد رہے کہ ہیری اور میگھن نے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جو اگلے ہفتے سے نیٹفلکس پر دکھائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس فلم پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے  کیونکہ خدشہ ہے کہ اس سے شاہی خاندان کے افراد میں مبینہ نسل پرستی کے دعوؤں پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔

میگھن نے جب مشہور امریکی ٹی وی اینکر، اوپرا وِنفری کو انٹریو دیا تھا اور انھوں نے جو سوال اٹھایا تھا ابھی تک اس کا جواب نہیں آیا ہے۔ میگھن نے کہا تھا کہ جب وہ حاملہ تھیں تو شاہی خاندان کے ایک فرد نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ آنے والے بچے کی رنگت کیا ہو گی۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ شاید آنے والے دنوں میں اس کام کے بارے میں بھی بات کریں جو انھوں نے شاہی خاندان کے فرد ہونے کی حیثیت میں کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں معاف کر دینا ایک اہم چیز ہے کیونکہ (کسی کو) معاف نہ کرنے میں کہیں زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔‘

’دی کٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ڈچز آف سسیکس کا مزید کہنا تھا کہ ’معاف کرنے میں بھی بہت کوشش صرف ہوتی ہے۔ میں نے بڑی مستعدی سے یہ کوشش کی ہے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں (اس وقت) کچھ بھی کہہ سکتی ہوں۔

اس تناظر میں بکنگھم پیلس میں پیش آنے والے واقعے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور شاہ چارلس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں تیز تر کر دیں جس کی سربراہی انھوں نے حال ہی میں سنبھالی ہے۔