امریکہ کے وسط مُدّتی انتخابات: ایوان بالا میں ڈیموکریٹس کی کامیابی اہم کیوں ہے

امریکہ وسط مدتی انتخابات

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, انتھونی زرکر
    • عہدہ, بی بی سی، شمالی امریکہ
  • وقت اشاعت

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلِکن پارٹی کی کامیابی کے چراغ گُل ہونے کی بات اب سرکاری نتائج کے ذریعے ثابت ہوچکی ہے۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ یہاں ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سینیٹ میں برتری کی کیا اہمیت ہے۔

کروڑوں امریکیوں کے انتخابات میں ووٹنگ کے چار دن بعد، ہفتہ کو رات گئے ریاست نواڈا میں کیتھرین کورٹیز مستو کی تھوڑے سے ووٹوں سے کامیابی نے بالآخر قومی سیاسی جنگ میں فیصلہ کن نتیجہ پیش کردیا۔

امریکی کانگریس کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ریببلکن پارٹی کی 49 نشستوں کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کو 50 نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ اور اگر ریپبلکن جارجیا میں سینیٹ کی نشست جیت جاتی ہے تو اس صورت میں بھی دونوں پارٹیوں کی برابر کی تعداد یعنی پچاس پچاس نشستیں ہو جائیں گی، اس صورت میں نائب صدر کاملا ہیرِس بلحاظِ عہدہ، ٹائی بریکنگ ووٹ ڈال سکیں گی جو موجودہ حالات میں سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری کی اہم ضمانت ہے۔

یقیناً یہی صورت حال پچھلے دو برسوں سے چلی آرہی تھی اور اس سے صدر جو بائیڈن کے لیے مزید دو سال وفاقی عدالتوں میں اپنی پسند کے ججوں کو نامزد کرنے اور اپنی انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر جس طرح سے وہ مناسب سمجھتے ہیں چلانے کی راہ برقرار رہے گی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی کوئی نشست غیر متوقع طور پر کسی جج کی ریٹائرمنٹ یا موت کی وجہ سے خالی ہو جاتی ہے تو ریپبلکن پارٹی مسٹر بائیڈن کی پسند کو روکنے کے قابل نہیں ہوگی۔ ڈیموکریٹس کو یاد ہے کہ کس طرح 2016 میں اس وقت کے سینیٹ کی اکثریت کے ری پبلکن رہنما مچ میک کونل نے براک اوباما کے نامزد امیدوار جج کے معاملے کی سینیٹ میں سماعت کو روکے رکھا تھا۔

ریاست نواڈا میں ڈیمٹوکریٹس کی کامیابی کا مطلب ہے کہ 6 دسمبر کو جارجیا سینیٹ کا رن آف چیمبر کے کنٹرول کا تعین کرنے کے لیے اب کوئی اہم مقابلہ نہیں رہا۔ تاہم مسٹر بائیڈن نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کے لیے 51 سیٹیں حاصل کرنا ’بہتر ہے‘۔ ایک نشست سے قطعی اکثریت یعنی 51 ارکان کے ذریعے، یقینی طور پر اکثریت کو سنبھالنا آسان ہوجاتا ہے اور اس سے 2024 میں بھی مدد ملے گی جب پارٹی کو زیادہ خطرے والی نشستوں پر انتخابات لڑنا ہوں گے۔

اس بات کا اب بھی امکان ہے، اگرچہ یقین نہیں ہے، کہ ریپبلکن ایوان نمائندگان میں ایک بہت ہی چھوٹی سی اکثریت حاصل کرلے گی، جس سے صدر کے لیے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوں گے اور وہ انھیں تنگ کرتی رہے گی۔  

جو بائیڈن کا قانون سازی کا ایجنڈا ختم ہو چکا ہے، اور زیادہ انھیں زیادہ جارحانہ ریپبلکن نگرانی کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے امید کی ایک کرن موجود ہے۔ بشرطیکہ وہ اندرونی اختلافات کے باوجود مؤثر طریقے سے حکومت کرنے اور اپنے سیاسی امور چلانے سے قاصر نہیں ہوجاتے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاریخی نظائر کے برخلاف امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔

جو بائیڈن کی ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر اپنی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ ان کے مشیر اب صدر کے طور پر دوسری مدت کے لیے ان کے ارادے کے بارے میں زیادہ اعتماد سے بات کر رہے ہیں۔ میساچوسٹس کی سینیٹر الزبتھ وارن کی طرح ان کی پارٹی کے لبرل ارکان جو ان کے مخالف رہے ہیں، اب ان کی کامیابی کے گیت گا رہے ہیں، ان کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

سینیٹر الزبتھ وارن نے اتوار کو کہا کہ ’یہ جیت جو بائیڈن کی ہے۔ صدر کی قیادت نے ہمیں ایک یکساں موقف پر قائم رکھا، ہر امیدوار کے پاس یہ کہنے کے لیے اب کافی کچھ مواد ہے کہ ڈیموکریٹس کس کے لئے لڑتے ہیں اور ہم عوام کو کیا فراہم کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب ان انتخابی نتائج سے ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کو نقصان پہنچا ہے، اگرچہ یہ بات ابھی حتمی نہں ہے۔

امریکی سینیٹ جیتنے کے اگلے دن سے ہی ایوانِ نمائندگان میں ووٹوں کی گنتی کے جو نتائج آرہے ہیں ان میں روزانہ ری پبلکن پارٹی کوئی نہ کوئی ایک آدھ نشست کھو رہی ہے جس سے ڈیموکریٹس کی نشستوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نتائج کی ان تبدیلیوں کی وجہ سے اب کچھ مخصوص ریپبلکنز اس ناکامی کی ذمہ داری کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ ہر عائد کر رہے ہیں۔

تاہم یہ وہ ناقدین ہیں جو ماضی میں بھی اپنے سابق صدر پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

امریکہ وسط مدتی انتخابات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سینیٹر بل کیسیڈی، جنہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے وسط مدت میں ’بری کارکردگی‘ کا مظاہرہ کیا، اُنھوں نے سابق صدر کو ان کے مواخذے کے دوسرے مقدمے میں مجرم قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ میری لینڈ کے گورنر لیری ہوگن جنہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات سابق صدر کی وجہ سے ری پبلِکنز کو بہت مہنگے پڑے ہیں، نے 2020 میں ’رونالڈ ریگن‘ کے لیے صدارتی ووٹ دیا تھا، نہ کہ مسٹر ٹرمپ کے لیے (یعنی ٹرمپ کو پسند نہ کیے جانے کے باوجود پارٹی کے اتحاد کے لیے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا)۔

اصل امتحان یہ ہوگا کہ ٹرمپ کے طویل عرصے کے اتحادی، یعنی جنوبی کیرولائنا کے سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے لوگ، ’آرک کنزرویٹو ہاؤس فریڈم کاکس‘ کے ممبران یا ممتاز ریپبلکن گورنرز ان کی حمایت کریں۔

جب مسٹر ٹرمپ اپنی ریاست میں ریلی نکالیں گے تو کیا پارٹی کے دیگر ارکان اپنی مصروفیات سے وقت نکال پائیں گے؟ کیا وہ اچانک صدر ٹرمپ پر تنقید کریں گے جب وہ اگلا صدارتی انتخاب لڑیں گے؟ اگر ناقدین ان کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتے ہیں تو کیا وہ مسٹر ٹرمپ کی ناراضی کا خطرہ مول لیں گے ؟ کم از کم فی الحال ایسی کسی بات کا کوئی اشارہ نظر نہیں آرہا ہے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق سابق صدر کے اتحادی کانگریس میں قیادت کے عہدوں میں دلچسپی رکھنے والے ریپبلکنز پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مسٹر ٹرمپ کی صدارتی امنگوں کی حمایت کریں۔

نیویارک کی کانگریس وومن ایلیس اسٹیفنک پہلے ہی ان کی حمایت کا اعلان کرچکی ہیں۔ اگر مزید ارکان ان کی پیروی کرتے ہوئے ٹرپ کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ، حالیہ واقعات کے باوجود، انتخابی کامیابی حاصل کرنے کے خواہش مند ریپبلکن سیاست دان اب بھی اپنی کامیابی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کے لیے راضی ہیں۔

امریکہ کا سیاسی منظرنامہ ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں خاصا مختلف نظر آتا ہے۔

ڈیموکریٹس اس بارے میں زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں، جبکہ ریپبلکن کو ایک جھٹکا لگا ہے اور وہ اپنا توازن بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن ان دنوں امریکی سیاست کی غیر یقینی نوعیت کے پیش نظر، اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ہر حرکت اپنے معمول کے محور کے مطابق چلتی رہے گی۔