خطروں کے کھلاڑی: ہنزہ کے وہ نوجوان جو جان بوجھ کر ’مشکل‘ کو چنتے ہیں

    • مصنف, موسیٰ یاوری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • وقت اشاعت

دریا کے تیز بہاؤ کے اندر ڈوبتے ہوئے جب صنیف نے ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کی تو ان کی ہمت جواب دے چکی تھی۔

وہ بار بار کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح لہروں کے ساتھ تیرنا شروع کر دیں کہ کم از کم پانی کے اندر جس طرح ان کا جسم گھوم رہا تھا، اس میں کمی آئے لیکن اسی کوشش میں پانی ان کے منہ میں چلا گیا اور ان کی حالت اور خراب ہو گئی۔

یہ واقعہ رونما ہونے سے دس منٹ پہلے صنیف جمال اور ان کے باقی چار دوست ہنسی مذاق کرتے ہوئے رِیور رافٹنگ (ایک ایسا کھیل یا تفریح جس میں ربڑ سے بنی کشتی میں دریا کے تیز بہاؤکے ساتھ ساتھ کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے سفر کرنا) کی غرض سے احمد آباد، ہنزہ سے دریا کے اندر اترے تھے۔

صنیف اور ان کے دوستوں کو اس کھیل سے متعلق خطرات سے آگاہی بھی ہے اور یہ بات بھی نہیں تھی کہ وہ پہلی بار یہ کام کر رہے تھے۔

اس سے پہلے بھی انھوں نے ایک اور گروپ کے ساتھ کھرمنگ سکردو سے تربیلا ڈیم، خیبر پختونخوا تک اس طرح کا سفر کیا ہوا ہے جو کامیاب رہا تھا مگر اس بار دریا کا بہاؤ تیز تھا تو ان کی ربڑ کی کشتی الٹ گئی۔

ان کی ٹیم تو پہلے پانچ منٹ تک اس ربڑ کی کشتی کے ساتھ ہی جڑی رہی اور ان کی مسلسل کوشش تھی کہ وہ کسی طرح کشتی کو سیدھا کر کے واپس اس میں بیٹھ جائیں لیکن وہ بار بار ناکام ہو رہے تھے۔

پانی کے ایک اور خطرناک ریلے کے ساتھ ہی صنیف اور ان کے باقی ساتھی دریا کے رحم و کرم کی نظر ہو گئے۔ اس جستجو کے دوران صنیف کو اپنی موت صاف نظر آ رہی تھی اور ان کے ذہن میں اس دوران زندگی کے مختلف لمحات اور واقعات آنے لگے۔

اس پانچ منٹ کی کشمکش کے دوران صنیف کو زندگی کے کئی گزرے لمحات یاد آئے، اپنے نا پورے ہوئے سپنے اور مستقبل کے اور ایڈوینچرز کی پلاننگ بھی، جو اب تک پوری نہیں ہوئی تھی۔

ان کو پچھلی رات کا چلایا ہوا گانا بھی یاد آیا۔۔۔

اے چاند یہاں نہ نکلا کر بے نام سے سپنے دیکھا کر

پانی کے اندرہاتھ پیر مارتے ہوئے انھوں نے آٓس پاس دیکھنے کی کوشش کی تو انھیں اپنے دوستوں کا خیال آیا کہ اس وقت وہ کہاں ہوں گے اور زندہ بھی ہوں گے یا نہیں۔

پھر ایک دم سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے نہ جانے ان میں کہاں سے ہمت آئی اور انھوں اپنی پوری قوت لگا کر تیراکی شروع کی۔

صنیف پر شاید قدرت مہربان ہو گئی اور وہ معجزاتی طور پر دریا کے کنارے پہنچ گئے اور گرتے پڑتے دریا کے کنارے لیٹ گئے۔

یہ کہانی مجھے صنیف نے ہنزہ میں ایک انٹرویو کے دوران بتائی۔

اس واقعے کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ البتہ صنیف نے یہ واقعات بتاتے ہوئے یہ بات بھی بتائی کہ انھیں ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا پورا جسم، خاص طور پر ان کا سر، سردی کی وجہ سے جم گیا تھا اور انھیں نارمل ہونے میں کافی وقت لگا۔

صنیف اور ان کے دوستوں کے پاس بتانے کے لیے اس طرح کی کئی کہانیاں ہیں اور یہ واقعات ان کی زندگی کا ایک ایسا حصہ ہیں جس کو انھوں نے خود اپنی مرضی سے چُنا ہے۔

صنیف اور ان کے باقی ساتھی جن کا تعلق کریم آباد ہنزہ سے ہے، ایڈوینچر سپورٹس کے شوقین ہیں اور رِیور رافٹنگ اس شوق کا صرف ایک پہلو ہے۔

پہاڑوں سے عشق اور کوہ پیمائی کا جنون رکھنے والے صنیف جمال، عاطف امین اور آصف نور ایسے دوست ہیں جن کا وقت شہر میں کم اور ایڈوینچر کرتے ہوئے پہاڑوں میں زیادہ گزرتا ہے۔

یہ تینوں دوست ’الپائن سٹائل‘ کوہ پیمائی کے دلدادہ ہیں۔ الپائن سٹائل ایسے طرز کی کوہ پیمائی ہے، جس میں کوہ پیما بہت ہی محدود وسائل کے ساتھ اپنا سامان خود لے کر بغیر کسی مدد کے پہاڑ کی چوٹی سر کرتا ہے لیکن یہ تینوں دوست ابھی اس سفر میں کافی پیچھے ہیں کیونکہ اس طرح کی کوہ پیمائی کے لیے مخصوص قسم کا سامان درکار ہوتا ہے۔

وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ کئی بار بہت سارے پہاڑوں کی چوٹیوں سے واپس بھی آئے ہیں کیونکہ اکثر یہ ہوتا رہا ہے کہ اگر پانچ لوگ گئے ہوتے ہیں تو ان کے پاس صرف ایک یا دو بندوں کا سامان ہوتا ہے۔

عاطف امین جو اسی گروپ کا حصہ ہیں ایک ایسے ہی موقع پر اس لیے اپنا سفر جاری نہیں رکھ پائے تھے کیونکہ انھوں نے اپنے کسی دوست سے جوتے ادھار لیے تھے اور وہ جوتا ایک نمبر چھوٹا تھا، جس کی وجہ سے پہاڑ چڑھنا تو دور بندہ عام طور پر چل بھی نہیں سکتا مگر وہ ایک خاص حد تک اپنا سفر بر قرار رکھ سکے تھے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح باہر ملک سے آنے والے کوہ پیما سے کم نہیں کیونکہ اکثر اس طرح کے مہم جوؤں کے ساتھ وہ بھی مختلف علاقوں میں پورٹر کے طور پر گئے ہیں اور ان کو راستہ بھی بتا رہے ہوتے ہیں۔

عاطف اس طرح کے گروپس کے ساتھ جا کر اپنے لیے پیسے بچاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کوہ پیمائی کے لیے اپنا ذاتی سامان خرید سکیں۔

وہ کہتے ہیں کہ عام طور پر باہر سے آئے ہوئے کوہ پیما تو صرف چند مہینوں کے لیے آتے ہیں اور کوہ پیمائی کر کے چلے جاتے ہیں لیکن ہم لوگ تو پورا سال پاکستان کی مختلف چوٹیوں کو سر کر سکتے ہیں۔

عاطف، صنیف اور آصف اب تک اپنے گروپ کے ساتھ ہنزہ کی کئی ایسی چوٹیاں بھی سر کر چکے ہیں جہاں آج تک کوئی نہیں گیا۔

وہ ہمیشہ الپائن سٹائل میں ہی کوہ پیمائی کرتے ہیں۔

عاطف نے مسکرا کر مجھے بتایا کہ یہی ایک کام ہے جسے ’میں مخلصانہ طور پر کرتا ہوں اس لیے اس طرح کی تکالیف کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔‘

حال ہی میں انھوں نے ہنزہ کے پاس ہی ایک ایسی چوٹی جہاں آج تک کوئی نہیں گیا اور جس کی اونچائی 6100 میٹر ہے، سر کی۔ اس کا نام انھوں نے ’خِمور‘ رکھا جس کے معنی ہیں ’خواہش‘۔

نوجوانوں پر مشتمل اس گروپ میں سے کچھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کوشش کرتے ہیں کہ کوہ پیمائی سے متعلق ضروری ساز و سامان سے اپنے آپ کو لیس کرتے رہیں اور جن جن علاقوں کو انھوں نے سر کرنے کا خواب اب تک دل میں رکھا ہے، مستقبل قریب میں ان کی تکمیل کر سکیں۔

آصف نور جو اسی گروپ کا حصہ ہیں، نے بڑے پر جوش انداز میں بتایا کہ وہ لوگ صرف کوہ پیمائی کے شوقین ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں جا کر اکثر پہاڑوں کا کچرا بھی صاف کرتے ہیں۔

وہ اور ان کا گروپ کوشش کرتے ہیں کہ آس پاس اگر کوئی گاؤں ہو تو وہاں کے مقامی افراد کو اس بارے میں آگاہی بھی دے سکیں تاکہ وہ بھی اپنے علاقے کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

آصف نے اس ساری گفتگو کے دوران پر جوش انداز میں کہا کہ ان کا ایک مقصد یہ ہے کہ وہ کے ٹو کے اطراف میں پھیلے ہوئے کچرے کی صفائی بھی کریں اور اسی طرح جتنی بھی سیاحتی چوٹیاں ہیں، وہاں بھی لوگوں میں یہ آگاہی پھیلا سکیں تاکہ علاقے کی خوبصورتی بر قرار رہ سکیں۔