راجکوٹ گیمنگ زون میں آتشزدگی سے بچوں سمیت 27 افراد ہلاک: ’تیز ہوا اور ٹائروں کی موجودگی کے باعث آگ بے قابو ہوئی‘

fire

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے شہر راجکوٹ کے ایک گیمنگ زون میں آتشزدگی کے واقعے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سنیچر کے روز راجکوٹ کے ماورا روڈ پر واقع ٹی آر پی گیمنگ زون میں آگ لگنے کے باعث ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس کمشنر نے اب تک 27 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ریاست گجرات کے صوبائی وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ آتشزدگی کے اس واقعے میں اب تک ایک شخص لاپتہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’انھیں تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘

بی بی سی گجراتی سروس کے نامہ نگار بپن ٹانکاریا کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ’لاشیوں کو راجکوٹ سول ہسپتال کے پوسٹ مارٹم روم میں لایاجا رہا ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جا رہے ہیں۔‘

اگرچہ جائے وقوعہ پر آگ پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ابھی بھی کولنگ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ مقامی افراد کی جانب سے اس واقعے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

بی بی سی گجراتی کے نامہ نگار ٹانکاریہ کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ دھواں پانچ کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق بہت سے افراد کی ہلاکت اس لیے ہوئی کیونکہ آتشزدگی کے بعد انھیں ٹی آر پی گیمنگ زون سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔

راجکوٹ میں آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہBBC / BIPIN TANKARIA

،تصویر کا کیپشنگیم زون میں آتشزدگی کے سبب دو درجن سے زائد افراد ہلاک

آگ کیسے لگی؟

راجکوٹ کے ڈسٹرکٹ کلیکٹر پربھاؤ جوشی نے آگ لگنے کے واقعے کے بارے میں بتایا کہ گیمنگ زون میں ویلڈنگ کا کام جاری تھا اور آگ لگنے کی وجہ ’شارٹ سرکٹ ہو سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شام ساڑھے چار بجے کنٹرول روم میں ایک کال موصول ہوئی کہ ٹی آر پی گیمنگ زون میں آگ لگ گئی ہے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور آگ پر قابو پا لیا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس سے قبل راجکوٹ کے پولیس کمشنر راجو بھارگو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اب تک 24 لاشیں سول ہسپتال لائی جا چکی ہیں، اور چند لاشیوں کا کام اب بھی جاری ہے۔‘'

انھوں نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’یوراج سنگھ سولنکی اس گیمنگ زون کے مالک ہیں۔ ہم اس معاملے میں ان کے خلاف اموات اور لاپرواہی کا مقدمہ درج کریں گے۔ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہم مزید تحقیقات کریں گے۔‘

پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ’ہم اندر جا کر پوری جگہ کا معائنہ کریں گے، ہم نے ایف ایس ایل ٹیم کو بھی بلایا ہے۔ ایف ایس ایل کی ٹیم آکر معائنہ کرے گی اور آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے بھی بات کی ہے۔ وہاں بھی ٹیمیں تیار رکھی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں فی الحال علاج، ڈی این اے ٹیسٹ سے لاشوں کی شناخت اور لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر رہی ہیں۔‘

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق فائر آفیسر آئی وی کھیر نے کہا کہ ’آتشزدگی کی وجہ کی جانچ کی جائے گی۔‘ آگ بڑھکنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک عارضی ڈھانچہ تھا جو آگ سے گر گیا اور ہوا بھی تیز چل رہی تھی، اس لیے آگ بے قابو ہوئی۔‘

rajkot

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل

ریاست گجرات کی صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے حصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پانچ رکنی ایس آئی ٹی کے چیئرمین ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، سی آئی ڈی کرائم سبھاش ترویدی کو سونپی گئی ہے۔

یہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم اگلے 72 گھنٹوں کے اندر اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کو سونپے گی۔ ایس آئی ٹی 10 دنوں کے اندر حکومت کو تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرے گی۔

یہ تحقیقاتی ٹیم مندرجہ ذیل معاملات کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنے رپورٹ مرتب کرے گے۔

  • آگ کن حالات میں لگی؟
  • گیمنگ زون کی اجازت ہے یا نہیں؟
  • گیمنگ زونز کی منظوری دیتے وقت کن عوامل پر غور کیا گیا؟
  • گیمنگ زون کی تعمیر قواعد کے مطابق ہوئی ہے یا نہیں؟
  • گیمنگ زون میں فائر ڈیپارٹمنٹ کا این او سی ہے یا نہیں؟
  • گیمنگ زون میں ہنگامی طور پر باہر نکلنے کا کیا انتظام تھا؟
  • اس معاملے میں کیا بلدیاتی نظام یا گیمنگ زون کا ایڈمنسٹریٹر غافل تھا؟
  • مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں؟

اس ایس آئی ٹی کے سربراہ سبھاش ترویدی نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اس کی تحقیقات کے لیے یہ ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ہم اس معاملے میں تمام متعلقہ محکموں اور لوگوں کے قصورواروں کی جانچ کریں گے۔ ایسا دوبارہ نہیں ہو اس لیے ہم اس کی جڑ تک پہنچیں گے۔‘

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

بی بی سی کے نمائدے وہاں پر موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نمائدے نے مقامی لوگوں سے بات کی

بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے جائے حادثہ پر موجود کشیپ بھٹ نے بتایا کہ ’جب ہم یہاں پہنچے تو آس پاس کی سوسائٹی کے لوگ امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ گیمنگ زون میں ٹائروں کا جال بنایا گیا تھا جس کی وجہ سے آگ مزید پھیل گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گیمنگ زون کی اوپری منزل پر بولنگ ایریا میں جانے اور نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا۔ ہو سکتا ہے کہ بھگدڑ اور بھیڑ کی وجہ سے راستہ بلاک ہو گیا ہو جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہوئیں۔‘

ایک شخص جو شام پانچ بج کر 45 منٹ سے جائے وقوعہ پر موجود تھا نے کہا دعویٰ کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ معاملے کی فوری تحقیقات کی جائے اور ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔‘

دلیپ سنگھ واگھیلا جو حادثے کے وقت نانا ماوا روڈ سے گزر رہے تھے آگ لگتے ہی وہاں پہنچ گئے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اس سڑک سے گزر رہا تھا جب میں نے دھوئیں کے بادل دیکھے تو میں اس گلی میں آیا تاکہ یہ دیکھوں کہ آگ کہاں لگی ہے؟ جب میں یہاں پہنچا تو میں نے شعلوں کو دیکھا اور محسوس کیا کہ یہ بہت بھیانک آگ ہے۔ تو میں اس وقت سے یہاں رکا ہوا ہوں۔ دو ایمبولینسیں کھڑی تھیں لیکن اس وقت تک فائر بریگیڈ کی گاڑی نہیں پہنچی تھی اسے یہاں پہنچنے میں تقریباً 45 منٹ لگے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے آگ لگنے کے مناظر اپنے موبائل میں ریکارڈ کیے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے یہ ریکارڈنگ تقریباً پانچ بج کر 50 منٹ پر کی، اس وقت تک فائر بریگیڈ کی گاڑی یہاں نہیں پہنچی۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ یہاں جمع تھے کہ وہاں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ آگ تیزی سے پھیل گئی کیونکہ وہاں ہوا چل رہی تھی اور یہاں پر بہت سارے ٹائر تھے۔ اوپر کی چھت میں تھرموکول کی چادریں بھی لگائی گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے آگ نے بھیانک شکل اختیار کر لی۔‘

انھوں نے اس واقعہ کا موازنہ موربی سسپنشن پل سانحہ اور سورت میں تحکشیلا کمپلیکس آتشزدگی کے سانحے میں ہلاکتوں سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس جگہ پر فائر سیفٹی کے آلات کی فٹنگ کا کام ابھی جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا اس نظام کی عادت بن چکی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو یہ نظام محض دکھ کا اظہار کرتا ہے اور گجرات کے اندر انسانی جان کی قیمت صرف چار لاکھ روپے ہے۔ جب بھی وزیر اعلیٰ یا حکومتی ادارہ چار لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کرتا ہے تو وہ یہ اعلان اپنی روح کی تسکین کے لیے کرتا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر غم و غصہ

سوشل میڈیا پر لوگ جہاں اس واقعے پر دکھ کا اظہار کر رہے ہیں وہیں انھیں اس قسم کی لاپرواہی پر غصہ بھی ہے۔

بہت سے لوگ اس سے قبل گجرات میں ہی موربی پل گرنے کے واقعے کو بھی یاد کر رہے ہیں جس میں درجنوں ہلاکتیں ہوئی تھیں اور مہلوکین میں بچوں کی بڑی تعداد تھی۔

سیاسی تجزیہ نگار سواتی تیواری نے لکھا کہ ’مرنے والوں میں زیادہ بچے شامل ہیں۔ یہاں رینوویشن کا کام چل رہا تھا اس لیے زیادہ تر لڑکیاں تھیں۔ آگ لمحوں میں پھیل گئی۔ مالک گرفتار ہو چکا ہے، مگر ایسے حادثوں پر ایسا لگتا ہے کہ پیسے کے سامنے زندگی کا کوئی مول نہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

سوشل ایکٹوسٹ شِو راج یادو نامی صارف نے لکھا کہ اس سے قبل موربی پل حادثہ ہوا تھا جس میں 55 بچوں سمیت 141 کی موت ہو گئی تھی۔ اسی طرح ہرنی جھیل حادثہ ہوا جس میں 13 بچوں سمیت 15 کی موت ہوئی۔ راجکوٹ گیمنگ زون، کئی بچوں سمیت 25 کی موت۔ یہ بہت افسوس ناک ہے کہ آج کے حادثے کے علاوہ تمام پچھلے حادثوں کے ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔‘