سابق انڈین کرکٹر سہواگ کی پاکستانی ٹیم سے متعلق ٹویٹ پر ٹرولنگ اور ’سپورٹس مین سپرٹ‘ کی نصیحتیں

وقت اشاعت

انڈیا میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ اپنے آخری مراحل میں داخل ہونے کو ہے۔ تین ٹیمیں انڈیا، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں جبکہ چوتھی ٹیم بھی تقریباً طے ہے۔

پاکستان کی ٹیم کے متعلق نوشتہ دیوار پڑھنے والے بہت پہلے اسی روز یہ بات جان چکے جس دن وہ ایک کانٹے کے مقابلے میں جنوبی افریقہ سے شکست کھا گئی تھی۔

وقت کے ساتھ اس کے کوالیفائی کرنے کے آثار معدوم ہوتے چلے گئے اور سری لنکا کی نیوزی لینڈ کے خلاف شکست نے تو رہی سہی امید پر بھی پانی پھیر دیا اور یوں بہت سارے سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ انڈیا کے سابق اوپنر وریندر سہواگ نے بھی پاکستان کو ’بائی بائی‘ کہہ دیا۔

لیکن وریندر سہواگ کے ’بائی بائی پاکستان‘ کے بینر کی وجہ سے وہ خود سوشل میڈیا پر ٹریند کرنے لگے اور انھیں ’سپورٹس مین سپرٹ‘ کی نصیحتیں کی جانے لگیں۔

ویسے وریندر سہواگ پاکستان کے متعلق اپنے متنازع بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی صارف یا سابق کرکٹروں سے دو دو ہاتھ کرتے نظر آتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے امکانات بالکل معدوم ہیں تاہم وہ ٹیکنیکلی ابھی باہر نہیں ہوا ہے اور کرشموں پر یقین رکھنے والے اس بار کرشمے کی نہیں بلکہ معجزے کی امید کر رہے ہیں۔

بہر حال وریندر سہواگ نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں ’بائی بائی پاکستان‘ کے بینر کے ساتھ ’پاکستان زندہ بھاگ! گھر کے لیے آپ کی پرواز محفوظ ہو۔‘ لکھا۔

انھوں نے اس کے بعد اسی سے ملحق ایک دوسرے ٹویٹ میں لکھا کہ ’پاکستان کی خاص بات یہ ہے کہ جس ٹیم کو پاکستان سپورٹ کرتی ہے وہ ٹیم پاکستان کی طرح کھیلنے لگتی ہے۔ سوری سری لنکا۔‘

ایس منوج پربھاکر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ویرو، ایک سپورٹس مین کی طرح رہیں۔ آپ کوئی ٹرول نہیں ہیں۔ شاید کہ آپ ٹورنامنٹ میں ہارنے کی تکلیف جانتے ہوں۔ ہمارے پاکستان کے ساتھ مسائل ہو سکتے ہیں لیکن ان کے ساتھ مناسب انداز سے ٹپروپل چینل سے نمٹا جائے گا۔ ہار یا جیت کھیل کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ آپ سپورٹس مین ہیں۔‘

محفوظ گھر واپسی کی بات پر پاکستان کے ایک صحافی وجاہت کاظمی نے لکھا کہ ’آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے لاحق خطرات کی وجہ سے پاکستان کو انڈیا سے سلامت نکلنے کی ضرورت ہے۔‘

سمت سوربھ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’میرے خیال سے کرکٹروں کو ٹرول نہیں کرنا چاہیے۔ ٹرولنگ کا کام ہم لوگوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ لیکن آپ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ آپ ایک گٹکھا (پان مصالحہ) کمپنی کے سفیر ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ارشد نامی صارف نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کی ہے جس میں ایک خاتون پاکستانی ٹیم کی تعریف کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ ’ویرو، آپ ٹیم کی عزت کرنا کب سیکھیں گے۔ کیا آپ میں کوئی شرم باقی نہیں رہی؟ اس طرح کے بیان آپ کو تکلیف میں ڈال دیں گے۔

بنگلور کی ہوٹل سٹاف کی بات سنیں جنھوں نے پاکستان ٹیم کے ساتھ اپنے تجربات کو بیان کیا ہے۔ اگر آپ تعریف نہیں کر سکتے تو کسی کی بے عزتی بھی تو نہ کریں۔ ان سے سیکھیں کہ کیسے دوسروں کا احترام کیا جاتا ہے۔‘

ونے کمار دوکانیا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ایک سابق کرکٹر کی جانب سے اس قسم کی بے تکی باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ویسے بھی انڈیا میں مہمان دیوتا ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ اگر سہواگ کے سوشل میڈیا منیجر نے ان کی عزت مٹی میں ملانے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے تو کوئي کیا کر سکتا ہے۔

فرید خان نامی صارف نے لکھا کہ انھوں نے سہواگ کو فالو کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ’وہ جتنے بڑے بلے باز تھے اتنے ہی چھوٹے انسان ہیں۔ اب وہ صرف سوشل میڈیا ٹرول رہ گئے ہیں۔ شعیب اختر نے ان کے لیے سہی کہا تھا کہ وہ توجہ کے طالب ہیں۔‘

بہر حال جب نیوزی لینڈ کے خلاف فخر زمان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا تو وریندر سہواگ نے ان کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا کہ انھیں بینچ پر بٹھائے جانے کا جواز سمجھ سے باہر ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے حامیوں کے درمیان کرکٹ کے تعلق سے چشمک کافی پرانی ہے لیکن دونوں ہمسایہ ممالک کے کرکٹروں کے درمیان رشتے کافی دوستانہ اور گرمجوشی سے بھرپور رہے ہیں لیکن حال میں بعض کرکٹرز میں میدان کے باہر بھی مقابلہ نظر آیا ہے۔

انڈیا کی جانب سے سہواگ اورعرفان پٹھان فی الحال سرفہرست نظر آتے ہیں جبکہ اس سے قبل گوتم گمبھیر بھی پیش پیش تھے جن کی شاہد آفریدی سے نوک جھونک میڈیا کی زینت بنی ہے۔