’کچھ لوگوں نے واقعے کا ذمہ دار مجھے ہی ٹھہرایا‘: ممبئی میں لائیو سٹریمر کو ہراساں کرنے پر دو افراد گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے شہر ممبئی میں پولیس نے دو افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ جنوبی کوریا کی ایک خاتون کو اس وقت ہراساں کر رہے تھے جب وہ ایک ویڈیو لائیو سٹریم کر رہی تھیں۔
یہ واقعہ منگل کی رات ممبئی میں اُس وقت پیش آیا تھا جب ہیوجیونگ پارک، جو سوشل میڈیا پر میوچی کے نام سے مشہور ہیں، شہر میں گھوم رہی تھیں۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک 24 سالہ شخص ہیوجیونگ پارک کے گرد اپنا بازو رکھتے ہوئے ان کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد پر چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
لائیو سٹریمنگ سروس ’ٹوِئچ‘ پر ہیوجیونگ کے 12,000 سے زیادہ فالوورز ہیں، عام طور پر وہ خود ویڈیو گیمز کھیلنے اور مختلف طرح کے کھانے چکھنے کی ویڈیوز پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔
آج کل وہ کچھ ہفتوں سے انڈیا میں ہیں اور لائیو وی لاگز کے ذریعے اپنے تجربات دستاویز کر رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
منگل کے روز، وہ ممبئی کے کھار علاقے سے گزر رہی تھی اور سڑک کنارے سے اپنے فالوورز اور لوگوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کر رہی تھیں جب ایک شخص ان کے نزدیک آیا۔
ٹوئچ پر ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ شحص ان کا بازو پکڑ کر انھیں اپنی موٹر سائیکل کی جانب کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کے گال کو چومنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
اس حرکت پر پارک، بظاہر حیران اور پریشان نظر آئیں۔ انھوں نے اس شخص سے دور ہٹتے اور ویڈیو کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ ’اب گھر جانے کا وقت ہے۔‘ لیکن وہ شخص اور اس کا ایک دوست پھر موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کرتے ہیں اور ان سے ان کا فون نمبر مانگتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آخر میں، ایک اور آدمی اُن کی مدد کے لیے سڑک پار کرتا ہے اور انھیں رکنے کو کہتا ہے۔ آخر کار ایک اور شحص سڑک پار کر کے خاتون کی مدد کے لیے آتا ہے اور دونوں لڑکوں کو ایسا نہ کرنے کو کہتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پارک ایک ہوٹل کی جانب بھاگتی ہیں، جہاں وہ یہ کہہ کر ویڈیو ختم کرتی ہیں کہ اب وہ محفوظ ہیں۔
بعد میں انھوں نے ایک انسٹاگرام سٹوری کے طور پر اس واقعے کا ایک کلپ شیئر کیا اور کیپشن میں لکھا کہ ’انھوں نے پوری کوشش کی کہ حالات خراب نہ ہوں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹوئچ پر ’کچھ لوگوں نے اس واقعہ کا ذمہ دار مجھے ہی ٹھہرایا‘ اور کہا کہ وہ کچھ زیادہ ہی دوستانہ رویے کا مظاہرہ کر رہی تھیں اور جب وہ شحص ان کے نزدیک آیا تو اس سے باتیں کرنے لگیں۔
لیکن دیگر صارفین نے ان کا دفاع کیا اور ان سے کہا کہ وہ اس واقعے کی رپورٹ پولیس میں کروائیں۔
بدھ کو ایک ٹوئٹر صارف نے اس کلپ شیئر کرتے ہوئے مردوں کے رویے کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔ صارف نے ممبئی پولیس کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے لوگوں کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔‘
اس کے بعد پولیس متاثرہ خاتون تک پہنچی اور واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کیں۔ بعد میں، پولیس نے ٹوئٹ کیا کہ اس واقعے میں ملوث لڑکوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
























