آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلال یاسین پر لاہور میں حملہ: مسلم لیگ ن کے صوبائی رکن اسمبلی نامعلوم افراد کی فائرنگ میں زخمی
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور صوبائی رکن اسمبلی بلال یاسین لاہور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق انہیں پیٹ اور ٹانگ پر گولیاں لگی ہیں۔ بلال یاسین کو میو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے ک بلال یاسین پر نقاب پوش افراد نے حملہ کیا۔
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حملے کے بعد کہا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے ممبر پنجاب اسمبلی اور نواز شریف کے باوفا ساتھی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ۔ پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگیں لیکن اللہ نے بچا لیا۔‘
مسلم لیگ کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے ٹوئٹر پر لکھا ’میں میو ہسپتال میں موجود ہوں، بلال یاسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کو دو گولیاں لگی ہیں تیسری کا شبہ ہے۔ حملہ آوروں نے برسٹ مارا جو چل نہیں سکا اور صرف چند گولیاں نکلیں۔ ایک گولی پیٹ میں لگی اور دوسری ٹانگ کے اوپر والے حصے میں لگی۔وہ ہوش میں ہیں مگر شدید درد میں ہیں۔ آپریشن جاری ہے۔‘
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بلال یاسین پر فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلی نے فائرنگ کرنے والے ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر مزید کارروائی کی جائے۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ بلال یاسین کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔
پارٹی رہنما پر حملے کے بعد مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ٹوئٹر پر ردعمل میں کہا کہ ’مسلم لیگ ن کے ممبر پنجاب اسمبلی اور نواز شریف کے باوفا ساتھی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ۔ پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگیں لیکن اللہ نے بچا لیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود حالت خطرہ سے باہر ہے۔ اللہ انھیں جلد اور مکمل شفا عطا فرمائے۔ سب سے دعا کی درخواست ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بلال یاسین سے فون پر رابطہ کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔
ان کا بلال یاسین سے کہنا تھا ’ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی محفوظ رہی۔‘
بلال یاسین 2008 کے انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جس کے بعد یہ دو بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ مسلم لیگ ن کے دور میں صوبائی وزیر خوراک رہ چکے ہیں۔