گیمبیا میں کھانسی کے شربت کا سکینڈل: پولیس نے بچوں کی اموات اور اس کے انڈیا میں بنائی گئی ادویات سے تعلق پر تحقیقات شروع کر دیں

    • مصنف, عمر ولی
    • عہدہ, بنجول، گیمبیا
  • وقت اشاعت

گیمبیا میں پولیس 66 بچوں کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے، جنھیں انڈیا سے درآمد شدہ چار برانڈز کے کھانسی کے شربت سے جوڑا جا رہا ہے۔

گیمبیا کے صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کہ میڈیسن کنٹرول ایجنسی کے سینیئر حکام اور درآمد کنندگان کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہے۔

صدر اداما بیرو نے کہا کہ حکام تحقیقات میں ’کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔‘

بچوں کی اموات کی وجہ سے شدید غم و غصے میں مبتلا گیمبیا کے باشندوں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کس کو قصوروار ٹھہرائیں۔

بدھ کو، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کھانسی کے چار شربتوں کے بارے میں ایک عالمی الرٹ جاری کیا تھا، جس میں انتباہ کیا گیا تھا کہ ان کا تعلق جولائی، اگست اور ستمبر میں گردوں کی شدید خرابی اور بچوں کی اموات سے ہو سکتا ہے۔

سوگوار والدین نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسے شربت پینے کے بعد ان کے بچوں کا پیشاب بند ہو گیا تھا۔ جیسے جیسے ان کی حالت خراب ہوتی گئی، ان کی جان بچانے کی کوششیں بھی بے سود ہوتی گئیں۔

یہ بھی پڑھیئے

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پرومیتھازین اورل سلوشن، کوفیکسمیلن بے بی کف سیرپ، میک آف بے بی کف سیرپ اور میگرپ این کولڈ سیرپ ایک انڈین کمپنی میڈن فارمیسیوٹیکلز نے بنائے تھے، جو ان کی حفاظت کی ضمانت فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

انڈیا کی حکومت بھی صورتحال کے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم کسی بھی کمپنی نے تبصرہ کے لیے بی بی سی کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری طرف اے این آئی نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں میڈن نے کہا کہ وہ اس واقعے پر حیران اور رنجیدہ ہے۔ کمپنی نے کہا کہ اس نے انڈیا کی صحت کی پروٹوکولز کی پیروی کی ہے اور تحقیقات میں تعاون کر رہی ہے۔

گیمبیا کے صحت کے اہلکار اور ریڈ کراس کے کارکن اب گھروں، فارمیسیوں اور بازاروں میں جا کر شربتوں کے ساتھ ساتھ دیگر ادویات بھی تلاش کر رہے ہیں۔

ریڈ کراس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک سولہ ہزار سے زائد ادویات کو تلاش کیا جا چکا ہے اور انھیں تباہ کرنے کے لیے لے جایا گیا ہے۔

جمعہ کو صدر بیرو نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’آلودہ ادویات کے ماخذ‘ کی تحقیقات کی جائیں گی۔

انھوں نے ایک لیبارٹری کھولنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا جو یہ ٹیسٹ کیا کرے گی کہ آیا ادویات محفوظ بھی ہیں۔ انھوں نے درآمد شدہ ادویات کے متعلقہ قوانین اور رہنما اصولوں کا از سرِنو جائزہ لینے کی بھی بات کی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’چھیاسٹھ بچوں کی اموات کا اعداد و شمار ماضی میں اسی طرح کے ادوار کے ریکارڈ شدہ اعداد و شمار سے زیادہ مختلف نہیں ہے‘، جس سے کچھ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا حکام کے خیال میں یہ اموات غیر معمولی تھیں۔

صدر نے ہفتے کی شام ایک اور سخت بیان دیا اور اس کے ساتھ ہی مشتبہ درآمد کنندہ کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا اور پولیس کی تفتیش کا اعلان کیا۔

ہلاک ہونے والے بچوں میں سے کچھ کے والدین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حکام کے خلاف خود قانونی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔