آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹائیفون ننماڈول: غیر معمولی سمندری بگولہ جاپان سے ٹکرا گیا، 40 لاکھ افراد کو نقل مکانی کی ہدایت
جاپان کی تاریخ کے سب سے بڑے سمندری بگولوں میں سے ایک کیوشو نامی جنوبی جزیرے سے ٹکرا گیا ہے۔
اس بگولے کی وجہ سے یہاں کم از کم 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں آج دن اور رات میں 500 ملی میٹر (20 انچ) تک بارش متوقع ہے۔
حکام نے کم از کم 40 لاکھ افراد سے اپنے گھر خالی کر دینے کے لیے کہا ہے۔
اس دوران زبردست سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کی توقع ہے جبکہ بلٹ ٹرینیں، فیری سروس اور سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ننماڈول نامی یہ ٹائیفون کیوشو کے جنوب میں واقع شہر کاگوشیما سے آج صبح ٹکرایا ہے۔
کیوشو جاپان کا مرکزی حصہ تشکیل دینے والے چار جزیروں میں سے سب سے جنوب میں واقع ہے اور یہاں کی آبادی ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔
حکام نے اس جزیرے کے لیے 'خصوصی الرٹ' جاری کر دیا ہے جو جاپان ٹائمز کے مطابق بحیرہ مشرقی چین میں موجود دور دراز جاپانی جزیروں پر مشتمل علاقے اوکیناوا پرفیکچر سے باہر پہلی مرتبہ جاری کیا گیا ہے۔
جاپان کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ننماڈول کے باعث طوفانی برساتیں ہوں گی، ساحلوں کے ساتھ تیز لہریں اٹھیں گی جبکہ اتنی تیز ہوائیں چلیں گی کہ گھر گرنے کا خدشہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ٹائیفون اب کیوشو کو پار کرتے ہوئے شمال کی جانب بڑھ رہا ہے اور جزیرے کے پہاڑوں پر مشتمل مرکزی حصے پر زبردست بارشیں برسا رہا ہے۔
توقع ہے کہ یہ مرکزی جاپان سے گزرتے ہوئے آنے والے چند دنوں میں ٹوکیو پر سے گزرے گا اور اپنی شدت اور قوت بھی برقرار رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیے
انسانی جانوں اور املاک کو سب سے زیادہ خطرہ برسات سے ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی دریاؤں میں طغیانی ہے اور اس کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ ہے۔
حکام نے کیوشو کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ شیلٹرز میں پناہ حاصل کریں۔
ننماڈول بحرالکاہل سے اٹھنے والا رواں برس کا 14واں ٹائیفون ہے جو جاپان سے ٹکرانے والا اب تک کا سب سے بڑا سمندری بگولہ ہے۔
سنیچر کو جاپانی محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ یہ سنہ 2018 میں 14 لوگوں کی جانیں لینے والے ٹائیفون جیبی اور سنہ 2019 میں بڑے پیمانے پر بجلی کی فراہمی متاثر کرنے والے ٹائیفون ہیگیبس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
جاپان اس طرح کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے بہترین تیاری رکھتا ہے مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ زیادہ بڑے اور خطرناک ہوتے جاتے ہیں۔