برطانیہ میں بجلی کے بلوں میں اضافے کے سبب شراب خانے بند ہونے کا خطرہ

وقت اشاعت

شراب بنانے والی کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافے کی وجہ سے پورے برطانیہ میں لوگ شراب خانے بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ملک میں شراب تیار کرنے والی چھ بڑی کمپنیوں کے مالکان نے موسم سرما میں بجلی اور گیس کے بڑے بڑے بلوں کے پیشِ نظر حکومت سے ‘فوری مداخلت` کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی علاقے ایسیکس میں ایک پب (شراب خانے) کے مالک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے توانائی کے سالانہ اخراجات تقریباً 13,000 پاؤنڈ سے بڑھ کر 35,000 پاؤنڈ ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کی مدد یا تعاون نہ کیا گیا تو توانائی کے اس بحران اور بجلی اور گیس کی آسمان کو چھونے والی قیمتوں سے اس صنعت کو ‘حقیقی معنوں میں سنگین اور ناقابِل تلافی' نقصان ہوگا۔

پب اور شراب کشید کرنے والے اور پبوں کے مالکان کے چھ گروپوں نے حکومت کو ایک کھلے خط میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ایک سپورٹ پیکج اور کاروبار کے لیے توانائی کی قیمتوں کو ایک سطح سے اوپر نہ جانے دینے کی تجویز بھی دی ہے۔

توانائی کی آسمان کو چھوتی قیمتیں ایسے وقت میں آئی ہیں جب انگلینڈ اور ویلز میں پبوں کی تعداد پہلے ہی کم ہو رہی ہے۔

سائمن کلیری، جو گریٹ چیسٹر فورڈ، ایسیکس میں پب چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کے گیس اور بجلی کے بل تقریباً تین گنا بڑھ کر تیرہ ہزار پاؤنڈ سے 35,000 پاؤنڈ سالانہ ہو گئے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ اب پب کو اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید 1800 پاؤنڈ فی ہفتہ آمدنی پیدا کرنی ہوگی۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا 'میرے خیال میں جب تک حکومت کی طرف سے مدد نہیں ملتی یہ واقعی مشکل ہو گا۔'

کلیری نے کہا کہ ان کا گیس کا زیادہ خرچ سردیوں میں پب کو گرم کرنے میں آتا ہے، جبکہ صرف 20 فیصد کھانا پکانے میں استعمال ہوتا ہے۔

اپنے بجلی کے بل کو کم کرنے کی کوشش میں، مالکان نے ایل ای ڈی بلب لگائے ہیں۔ تاہم، وہ صرف اتنی ہی توانائی بچا سکتا ہے کیونکہ فریج، فریزر اور سیلر کولنگ سسٹم کو ہر وقت آن رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا 'زیادہ تر پبوں کی عمارتیں بہت پرانی ہیں، چند پبوں میں دیواروں میں انسولیشن بھی نہیں ہے۔ یہ پب 1780 میں بنایا گیا تھا۔ ان دنوں کوئی بھی توانائی کو بچانے کے بارے میں نہیں سوچتا تھا۔'

کرس جوسی پبوں کی ایک چین ایڈمِرل کے مالک ہیں اور ان کے 1600 پب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پب کے کرایہ دار اب کرائے سے زیادہ توانائی کے بل ادا کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک کرایہ دار نے انہیں بتایا کہ وہ 20 سال کاروبار کرنے کے بعد اب پب چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے گیس اور بجلی کے بلوں میں 450 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اتنا بڑا اضافہ ہے کہ وہ اس کا بوجھ پب کے گاہکوں پر نہیں ڈال سکتے۔

کرس جوسی نے کہا کہ ایڈمرل پب سیلرز کے لیے توانائی بچانے والے آلات میں سرمایہ کاری کر رہی ہے اور فریج یا توانائی کے استعمال کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنی 'بڑی مقدار میں توانائی خریدنے کی سکیم پر غور کر رہی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ‘حالیہ مہینوں میں جب ہم انرجی مارکیٹ میں گئے تھے، تو کوئی بھی ابتدائی طور پر ہمیں تو کیا انفرادی لائسنس یافتہ کو بھی توانائی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘

کرس جوسی نے کہا کہ 'لہٰذا ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمیں سرکاری مدد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اصل میں مارکیٹ ٹوٹ چکی ہے۔'

محکمہ برائے کاروبار، توانائی اور صنعت نے کہا کہ 'کوئی بھی حکومت توانائی کی قیمت میں اضافے اور دیگر کاروباری لاگت کو بڑھانے والے عالمی عوامل کو کنٹرول نہیں کر سکے گی۔'

ایک ترجمان نے مزید کہا کہ 'لیکن ہم آنے والے مہینوں میں مہمان نوازی کے شعبے کی مدد جاری رکھیں گے'۔

حکومت نے کہا کہ وہ 'پورے برطانیہ میں کاروباروں کے لیے توانائی کی شرحوں میں 50 فیصد ریلیف فراہم کر رہی ہے، بیئر، سائڈر، وائن اور اسپرٹ پر الکوحل ڈیوٹی کی شرح کو منجمد کر رہی ہے اور مالکان کی نیشنل انشورنس ( جو کہ ایک طرح کا ٹیکش' ہے) کو کم کر رہی ہے۔‘

برٹش بیئر اینڈ پب ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو ایما میک کلارکن نے خبردار کیا کہ اگر اگلے چند ہفتوں میں مدد نہ ملی تو توانائی کے بلوں میں اضافے سے صنعت کو کووڈ سے کہیں زیادہ نقصان پہنچے گا۔

وزیراعظم کا انتظار

حکومت نے پہلے کہا ہے کہ 5 ستمبر کو نئے وزیر اعظم کا اعلان ہونے تک کسی نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔

لیکن مسٹر جوزی نے کہا 'مجھے یہ ناقابل یقین لگتا ہے کہ ہمیں حقیقت میں کچھ فیصلے اور کچھ پالیسی پر عمل کرنے سے پہلے ایک شخص کے منتخب ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا جو نہ صرف ملازمتوں، لوگوں کی روزی روٹی، بلکہ ان کے گھروں کو بھی تحفظ فراہم کریگی۔ کیونکہ جو لوگ اس ملک میں پب چلاتے ہیں وہ دراصل پب کے اوپری حصے میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔‘

لیبر کے شیڈو بزنس سکریٹری جوناتھن رینالڈز نے کہا کہ یہ کاروبار ‘اِس زومبی حکومت کو ایک اور دن برداشت نہیں کر سکتا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کاروباری نرخوں میں کمی کر کے چھوٹی فرموں کے اخراجات کم کرے گی۔

برطانیہ کے سب سے بڑے پب گروپس میں سے ایک گرین کنگ کے مالک نک میکنزی نے کہا کہ ممکن ہے کہ زیادہ تر پب بلوں کی ادائیگی نہ کر سکیں ،لوگوں کی ملازمتیں ختم ہونگی اور لوگ اپنے پبوں کے دروازے بند کرنے پر مجبور ہونگے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کووڈ کے دوران کاروبار میں رہنے کے لیے پبوں کو دی جانے والی تمام مدد ضائع ہوسکتی ہے۔‘

دریں اثنا ولیم لیز جونز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے توانائی پر کیپ کو کاروبار کے ساتھ ساتھ گھروں تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقررہ قیمتوں کے معاہدوں کی تجدید کا وقت نزدیک ہے اس لیے اب عمل کرنے کا وقت آگیا ہے۔

جمعہ کو، انرجی ریگولیٹر آفگیم، جو گھریلو بلوں پر قیمت کی حد مقرر کرتا ہے اسے نے کہا کہ اکتوبر میں اس میں 80 فیصد اضافہ ہوگا۔