آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عراق کے شعلہ بیان شیعہ رہنما مقتدہ الصدر نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
عراق کی بااثر ترین شخصیات میں سے ایک اور شعلہ بیان شیعہ رہنما مقتدہ الصدر نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ عراق میں حکومت کے قیام سے متعلق کئی مہینوں سے جاری سیاسی بحران کے دوران مقتدہ الصدر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
مقتدہ الصدر نے، جن کے لاکھوں پیروکار ہیں، اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان ٹوئٹر پر کیا۔
ان کے سینکڑوں کارکن کئی ہفتوں سے پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر جمع ہیں اور سیاسی تعطل پر احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ پر دو مرتبہ دھاوا بول چکے ہیں۔
سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد مقتدہ الصدر کی جنگجو امریکی فوج سے لڑنے میں پیش پیش رہے۔ انھوں نے دو روز قبل ایسی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے سیاست چھوڑنے کی اپیل کی تھی جو عراق پر امریکی حملے کے بعد سیاسی میدان میں سرگرم رہے۔ اپنی اس اپیل کے دو روز بعد انھوں نے خود سیاست سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا ہے۔
مقتدہ الصدر اور ان کے سیاسی اتحاد نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں سیٹوں کی اکثریت حاصل کی تھی لیکن نئے وزیراعظم کی تقرری پر مخالف شیعہ بلاک کے ساتھ پیدا ہونے والے تعطل کے بعد ان کے اراکینِ پارلیمان مستعفی ہو گئے تھے۔
مقتدہ الصدر نے اپنے بیان میں کہا 'میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کروں گا لیکن اب میں اپنی مکمل ریٹائرمنٹ اور تمام الصدر اداروں کو بند کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔' تاہم ان کی تحریک سے وابستہ کچھ ویب سائٹس کھلی رہیں گی۔
گزشتہ دو دہائیوں سے وہ سیاسی اور عوامی طور پر عراق میں ایک اہم شخصیت رہے ہیں۔ عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جارحیت اور اس کے نتیجے میں صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مقتدہ الصدر کی مہدی آرمی ایک طاقت ور ملیشیا کے طور پر ابھری۔ اس ملیشیا نے امریکہ اور اس کی اتحادی عراقی حکومت کی فورسز کا مقابلہ کیا۔
تاہم بعد میں انھوں نے اپنی ملیشیا کے بارے میں تاثر تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس کو امن کی بریگیڈ کہا۔ اس وقت یہ عراق کی بڑی ملیشیاوں میں سے ایک ہے اور عراقی کی مسلح افواج کا حصہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالانکہ مہدی آرمی کے ایران کے ساتھ روابط رہے ہیں لیکن مقتدہ الصدر نے بعد میں اپنے آپ کو عراق کے شیعہ پڑوسی ایران سے دور کیا۔ انھوں نے ایک ایسے قوم پرست رہنما کے طور پر سامنے آنے کی کوشش کی جو عراق کے اندرونی معاملات سے امریکی اور ایرانی اثر و رسوخ ختم کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:
ان کے مخالف سیاسی اتحاد میں زیادہ تر وہ جماعتیں شامل ہیں جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔
سیاہ عمامے، گہری آنکھوں اور بھاری ڈیل ڈول والے مقتدہ الصدر عراق کی ایک با اثر شخصیت ہیں جنھوں نے عام لوگوں کے حقوق پر بات کی جنھیں بے روزگاری، بجلی کی عدم دستیابی اور کرپشن جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
وہ ان چند رہنماوں میں شامل ہیں جو بہت تیزی سے لاکھوں افراد کو متحرک کر کے سڑکوں پر لے آنے اور منتشر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت بھی ان کے سینکڑوں کارکن پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور جولائی اور اگست میں دو مرتبہ پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس چکے ہیں۔