جسم کے بارے میں تاثر قائم کرنے میں آپ کی فیملی کا کیا کردار ہے؟

    • مصنف, میلیسا ہوجنبوم
    • عہدہ, بی بی سی رِیل
  • وقت اشاعت

ذرا تصور کیجیے: چمکیلا لباس پہنے ایک چھوٹی سی لڑکی آپ کے سامنے گھوم کر بڑے اطمینان کے ساتھ اپنے کپڑوں کی سلوٹیں نکالنے لگتی ہے۔ ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی پیاری لگ رہی ہے۔

بعد میں وہ اپنی پسندیدہ کتابوں پر نظر ڈالتی ہے جس میں نازک اور دبلے پتلے لوگ اور جانور دکھائے گیے ہیں جو مختلف دلچسپ کاموں میں مصروف ہیں جبکہ ان کے موٹے تازے ساتھیوں کو سست اور بے ڈھنگا دکھایا گیا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنے والدین کو اپنے وزن اور شکل و صورت کے بارے میں پریشان ہوتے دیکھتی ہے۔

جب وہ ٹین ایج یعنی کم سنی کو پہنچتی ہے تو اس کے والدین پریشان ہو جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا انفلواینسر اس کے باڈی امیج (جسمانی خد و خال یا بناوٹ کے بارے میں تصور) پر کس طرح اثر انداز ہوں گے۔ مگر تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ جسم کے بارے میں اُس کی سوچ اور سماج میں قبولیت اِس عمر سے بہت پہلے، بالکل ابتدائی برسوں میں، طے پائی ہو گی۔

جب ہم اپنے جسم کے بارے میں سوچتے ہیں تو انداز کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ہمارا اطمینان اور عدم اطمینان کہاں سے آ رہا ہے۔ لیکن اگر ہم ماضی کی طرف نگاہ دوڑائیں تو شاید ہمیں کچھ لوگوں کے برجستہ فقرے یاد آ جائیں گے۔ بظاہر وہ زیادہ مؤثر نہیں لگیں گے۔ مگر ان کا مجموعی اثر حیرت انگیز طور پر طاقتور ہوتا ہے۔

مصنفہ گلینن ڈؤل اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے اپنے ارد گرد موجود بڑوں کی تعریف کے بارے میں بتاتی ہیں، 'مجھے ان کے چہروں پر نظر آ جاتا تھا۔۔۔وہ دمک اٹھتے تھے، اس طرح مجھے سبق حاصل ہوا کہ یہ اچھی چیز ہے۔' مگر جب وہ بڑی ہوئیں اور ان کی خوبصورتی کم ہو گئی تو انھیں لگا جیسے دنیا نے ان سے منھ موڑ لیا ہے۔

چاہے یہ تعریف سے پیدا ہو یا تنقید سے، جسم کی بناوٹ کے بارے میں پیدا ہونے والے خیالات اور عدم تحفظ کے احساس کو جھٹکنا مشکل ہوتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اس کے نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ گھروالوں کا رویہ اور وزن کے بارے میں حقارت آمیز فقرے نفسیات کو متاثر کرتے ہیں اور کھانے پینے میں بے احتیاطی کا سبب بنتے ہیں۔ بچوں میں یہ شرمندگی کا احساس پیدا کر دیتے ہیں جس سے ان کی خود اعتمادی اور خود داری متاثر ہوتی ہے۔

منفی فقروں کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے والدین کیا کر سکتے ہیں؟

باڈی شیم یا جسمانی خد و خال کے بارے میں شرمندگی کا احساس پیدائشی نہیں

خوبصورت جسم کا تصور وقت اور معاشرے پر منحصر ہوتا ہے۔ مختلف ادوار اور علاقوں میں بنائی گئی پینٹنگز سے اندازہ ہوتا ہے کہ جسم کے سڈول پن کا معیار کس طرح سے بدلتا رہا ہے۔ مگر اس دور میں جبکہ باقاعدہ ایک تحریک چل رہی ہے کہ ہر طرح کے خد و خال اور قد و قامت اپنے آپ میں خوبصورت ہیں، پھر بھی سوشل میڈیا، روایتی میڈیا، ٹیلی ویژن، سنیما اور اشتہاروں میں نرم و نارک نقوش اور پتلے جسم کو مثالی تصور کیا جاتا ہے۔

مثالی جسم کا تصور ابتدائی عمر ہی میں پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک تجربے کے دوران 3 سے 5 برس کے بچوں کو مختلف جسامت کی شبہیں دکھائی گئیں اور ان سے پوچھا گیا کہ ان میں سے انھیں کون پسند اور نا پسند ہے، تو بچوں نے بڑی جسامت والی تصویروں کو نا پسند کیا۔

بچوں میں جسم کی بناوٹ کے بارے میں اس تصور پر کی وجہ بیرونی اثرات ہیں، مثلاً اس بارے میں ماں کا رویہ۔ جسم کے بارے میں یہ تعصب چھوٹوں کے مقابلے میں بڑے بچوں میں زیادہ پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فطری یا پیدائشی نہیں بلکہ انسان اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔ محققین کا کہنا کہ 'نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسامت کے بارے میں مثبت اور منفی رویہ سماجی ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔'

بظاہر بے ضرر چھیڑ چھاڑ خطرناک ہے

جسم اور کھانے پینے کی بے قاعدگیوں کے بارے میں گھروالوں کی چھیڑ چھاڑ سے متعلق ایک تحقیق کے دوران 23 فیصد شرکا نے بتایا کہ ان کے والدین انھیں چھیڑتے تھے، اور 12 فیصد کا کہنا تھا کہ والدین میں ایک ان کے موٹاپے پر انھیں چھیڑتا تھا۔ دوسرے شرکا کا کہنا تھا کہ والدہ کے مقابلے میں والد زیادہ چھیڑتے تھے۔ والدین کی چھیڑ چھاڑ کا بڑی عمر میں نتیجہ اپنے جسم سے نا خوشی اور افسردگی (ڈپریشن) کی صورت میں نکلتا ہے، اور والدین کو دیکھ کر بہن بھائی بھی شہہ پا کر چھیڑنے لگتے ہیں۔ اس طرح گھر میں جسم کی بناوٹ یا وزن کی وجہ سے طنز کا نشانہ بننے والوں میں آگے جا کر نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے، اپنی نظر میں گِر جاتے ہیں اور کھانے پینے کی بے قاعدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کے علاج میں ان کی فیملی ہسٹری، یعنی بچپن میں انھیں والدین اور بہن بھائیوں کی طرف سے کس طرح کے رویے کا سامنا رہا ہے، مدد مل سکتی ہے۔

ایک اور تحقیق جو 7 اور 8 برس کے بچوں پر کی گئی بتاتی ہے کہ وزن اور جسامت کے بارے میں ماؤں کی باتیں بچوں میں کھانے پینے کی بے قاعدگی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح جن لڑکیوں کو ان کے گھروالوں نے وزن کم کرنے کی ترغیب دی ان کے اندر موٹاپے کے بارے منفی تصورات گھر کر گئے تھے۔

حتٰی کہ بڑی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی بعض خواتین اس تکلیف کو نہیں بھول پاتیں جو زیادہ وزن پر طنز کی وجہ سے بچپن میں انھوں نے محسوس کی تھی، اور اکثر کا کہنا تھا کہ یہ شرمندگی انھیں اپنی ماؤں کے ہاتھوں اٹھانا پڑا تھی۔ شرکا میں 40، 50 اور 60 برس کی خواتین کو یاد تھا کہ ان وزن کے بارے میں ان کے گھر والے انھیں کس طرح شرمندہ کرتے تھے اور وہ کس طرح سے اداس ہو جاتی تھیں۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ نے 10 سال کی عمر ہی میں ان کے کھانے پینے پر پابندیاں لگا دی تھیں: 'اپنے غیر پرکشش ہونے کے بارے میں میرا احساس کبھی بھی ختم نہیں ہو گا، اور یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا ہے، حتٰی کہ اس وقت بھی جب میں دبلی پتلی تھی۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے۔'

البتہ کئی شرکا کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ان کی ماؤں نے اپنے احساس عدم تحفظ سے مجبور ہو کر اپنے بچوں کو خبردار کرنے اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے ایسا رویہ اختیار کیا ہو۔

خاندان سے باہر

ماہر نفسیات ریچل روجر کا کہنا ہے کہ والدین کے گہرے اثر کی ایک وجہ ہے۔ جب والدین کو اپنے باڈی امیج کی فکر ہو تو وہ بچوں کو بھی ایسا تاثر دیتے کہ 'یہ بہت اہم ہے۔'

'اگر وہ بچے کے جسم کے بارے میں براہ راست بات نہ بھی کر رہے ہوں، وہ بچے کو یہ تاثر دیتے کہ 'یہ بات اہم اور اس بارے میں وہ فکر مند ہیں،' اور یوں بچے بھی وہی چیز سیکھ لیتے ہیں۔'

مگر جسمانی شرمندگی کا یہ ہی ایک سبب نہیں ہے، خاص طور سے بڑھتی عمر کے ساتھ۔ بچے کے دوست اور میڈیا بھی اس وقت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حتٰی کہ گڑیا جیسا کھلونا بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے دوران 5 سے 9 برس کی لڑکیوں کو گڑیاں دی گئیں، اور جن لڑکیوں کو دبلی پتلی اور نازک گڑیاں ملیں ان میں مثالی جسم کا تصور بدل گیا اور وہ پتلی جسامت کو پسند کرنے لگیں۔

اگر ان تاثرات کو بدلنے کی کوشش نہ کی جائے تو وہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ کئی تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ میڈیا بھی مثالی جسم کے تصور کو فروغ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جن نوجوان لڑکیوں نے میوزک ویڈیوز دیکھیں وہ ظاہری روپ کے بارے میں زیادہ فکر مند تھیں۔ اور اگر اس کے بعد دوست بھی وزن اور ظاہری شکل و صورت کے بارے میں بات کریں تو پھر ان باتوں کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

پھر سوشل پلیٹ فارم اور سرگرمی بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ سنہ 2022 کے ایک جائزے سے پتا چلتا ہے کہ باڈی امیج کے بارے میں انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ کا تاثر فیس بک کے مقابلے میں زیادہ منفی ہے۔

سنہ 2019 کی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ ورزش کے بارے میں وڈیوز کا مقصد خواتین میں ورزش کا شوق پیدا کرنا ہے، مگر اس سے بھی مثالی جسم کے پتلا ہونے کے تاثر کو تقویت ملتی ہے۔ مگر یہ شوق دیرپا نہیں ہوتا اور جب خوراک اور وزش کا ظاہری اثر سامنے نہیں آتا تو وہ افسردہ اور اپنے جسم کے بارے میں غیر مطمئن ہو جاتی ہیں۔

جسم کے بارے میں بچپن میں قائم ہونے والا منفی تاثر لڑکپن میں بھی قائم رہتا ہے۔ ایک تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 93 فیصد افراد میں اپنے جسم کے بارے میں عدم اطمینان مزید بڑھ ہوگیا۔

کیا لڑکیوں کو زیادہ خطرہ ہے؟

اگرچہ لڑکیاں اکثر جسمانی شبیہہ کے خدشات سے زیادہ متاثر ہوتی نظر آتی ہیں، لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لڑکیوں پر مبنی مزید ایسی تحقیق موجود ہے، جن میں ان کی خصوصیات درج کی گئی ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے جسم کو کتنی مستقل مزاجی کے ساتھ قابل اعتراض اور جنسی اعتبار سے دیکھا جاتا تھا۔

لڑکوں پر کی جانی والی تحقیق اسی طرح کے عدم اطمینان کو ظاہر کرتی ہے، حالانکہ ان کے جسم کے آئیڈیل کچھ مختلف ہوتے ہیں، مثلاً جیسے ان کی تن سازی کی خواہش پر زیادہ توجہ مرکوز رہتی ہے۔

'بٹر فلائی' نامی ادارے میں کام کرنے والی سٹیفنی ڈیمیانو کہتی ہیں کہ 'واقعی جسم میں ہر کوئی جسمانی عدم اطمینان کا تجربہ کر سکتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ باہر سے کیسے نظر آتے ہیں، بلکہ یہ کہ آپ اندر سے کیسا سوچ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں۔

ٹریکلز نے اسی طرح کے رجحانات کو نوٹ کیا ہے 'عام طور پر، ہم لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کے لیے زیادہ اثرات دیکھتے ہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لڑکے ان اثرات سے مبرا ہیں۔

لڑکیوں کے لیے اس کا اثر زیادہ مضبوط ہونے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی لڑکیاں اور لڑکے سماجی طور مختلف انداز سے دیکھا جاتا ہے۔

راجرز کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو اکثر بتایا جاتا ہے کہ ان کی سماجی قدر اس بات پر ہے کہ وہ کتنی پُرکشش ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ 'ان کے جسموں کو دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، وہ اس پر قائم رہیں، شائستہ ہوں اور زیادہ حقوق کی طبلگار نہ بنیں'۔

سماجی طور پر لڑکوں کو یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ ہو جسمانی طور پر بہت صحت مند اور مضبوط ہیں، جو کہ ایک بہت مختلف پیغام ہے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ پیغامات کتنے وسیع ہیں، والدین ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں اور اس کے بجائے ایک زیادہ فراخ، مثبت اور بااختیار جسمانی شبیہ کو کیسے پروان چڑھا سکتے ہیں؟

سب سے پہلے، جیسا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے، بالغ افراد کا جسم کے خدوخال سے متعلق بات کرنے کا طریقہ بچوں کے لیے اہم ہے۔

میک لین کا کہنا ہے کہ 'ہم والدین یا اساتذہ کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ جسمانی شبیہہ کے بارے میں تبصرے نہ کریں، چاہے وہ مثبت ہی کیوں نہ ہوں'۔

ڈیمیانو کہتے ہیں کہ اس کے بجائے، والدین کو اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ بچے کیا کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور وہ کس چیز میں دلچسپی رکھتے ہیں، 'وہ کون ہیں اور ان کی خصوصی مہارتوں اور صلاحیتوں پر زیادہ اہمیت رکھتے ہیں بجائے اس بات کو اہمیت دینے کے کہ وہ کیسے دکھائی دیتے ہیں'۔

اس سے بچوں کو اطمینان اور خود اعتمادی کا احساس حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے جو ان کی ظاہری شکل سے منسلک نہیں ہے۔

اس طریقے سے ہم اپنے متعلق اپنی رائے اور خود اعتمادی کو بہتر کر سکتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ عدم تحفظ کے احساس کو اگلی نسل تک منتقل کرنا بہت آسان کام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فیملی سپورٹ کا فائدہ ہوتا ہے

ڈیمیانو والدین کو یہ بھی مشورہ دیتی ہیں کہ وہ وزن کے بارے میں بات کرنے یا بچوں کو صحت مند غذا کھانے کے لیے مسلسل بتانے سے گریز کریں۔

ان کے مطابق 'ہم جتنا زیادہ وزن کو ایک مسئلہ ہونے کے طور پر، یا کچھ کھانے کی چیزوں کو 'خراب' سمجھ کر توجہ مرکوز کرتے ہیں، بچوں میں اتنا ہی زیادہ جرم، شرم اور جسمانی عدم اطمینان محسوس ہونے کا امکان ہوتا ہے'۔

اس کے بجائے والدین وزن کم کرنے کے طریقے کے بجائے ورزش کو عمومی صحت اور تندرستی کے لیے اہم قرار دے سکتے ہیں۔ خاندان صحت مند کھانا کھانے کو بھی معمول بنا سکتے ہیں۔

بجائے اس کے کہ مخصوص کھانوں کے آپ کے لیے بُرا ہونے کے بارے میں کُھل کر بات کریں۔ ہم سب کھانے پر مدعو کیے جانے کو پسند کرتے ہیں، اس لیے بچوں میں اس متعلق احساس جرم پیدا کرنا فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتا ہے۔درحقیقت، دعوتوں سے لطف اندوز ہونا وزن کے حوالے سے صحت مند رویے کی کلید کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ٹی وی پر کھانا پکانے کے پروگراموں کو دیکھنا، جس میں صحت مند کھانے کی خاصیت ہوتی ہے، بچوں کو صحت بخش غذا کھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔

اس حوالے سے خاندانی تعلقات ایک اہم مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں: ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ماؤں اور ان کے نوعمر بچوں کے درمیان اچھے تعلقات سے جسمانی عدم اطمینان پر سوشل میڈیا کے استعمال کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بچوں کے وقت کو محدود کرنے سے 'ظاہری موازنہ' کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

روجرز کا کہنا ہے کہ جس طرح سے والدین اس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے، یہ بھی واقعی اہم ہے، کیونکہ اس سے بچے کو اس حقیقت تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے، جو یہ تصاویر واقعی میں دکھاتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ پورا سوشل میڈیا ہی خراب نہیں ہے۔ یہ حوصلہ افزائی اور سماجی بہتری کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔

والدین کو سکولوں کے ساتھ مل کر کام کرنا مفید معلوم ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا میں بٹر فلائی باڈی برائٹ پروگرام پرائمری سکول کے بچوں کو ایک مثبت جسمانی تصویر اور طرز زندگی کے انتخاب میں مدد کرتا ہے۔ ایک پائلٹ پروگرام میں بچوں کی جسمانی شبہیہ سے متعلق رائے ایک سبق کے بعد بہتر ہوتی پائی گئی۔

اس متلعق آگاہی پیدا کرنے والے پروگرام جو خود اعتمادی کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرتے ہیں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ان پروگراموں اور ان کے پیغامات پر غور کرنے سے والدین کو وزن اور جسم کے بارے میں اپنے خیالات کا جائزہ لینے اور طویل عرصے سے رکھے گئے نقصان دہ عقائد کو ختم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

جہاں تک ہم گھر میں کیا کر سکتے ہیں، ایک آسان تبدیلی یہ ہو سکتی ہے کہ جب بھی ہم کسی بچے کی ظاہری شکل کی تعریف کرنے والے ہوں تو رک جائیں، اور ان کے بارے میں ہمیں جو کچھ اور پسند ہے جو ہم انھیں بتانا چاہتے ہیں پر سوچنا چاہیے۔

'مجھے آپ کا لباس پسند ہے' ہم صرف مسکرا کر انھیں بتا سکتے ہیں کہ انھیں دیکھ کر کتنا اچھا لگتا ہے، اور ان کی موجودگی کتنا لطف کا باعث ہے۔