برطانیہ: مجرموں اور امیگریشن کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانیوں کو واپس بھیجنے کے معاہدے پر دستخط

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

برطانیہ نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اُن پاکستانی باشندوں کو ملک سے واپس بھیجا جائے گا جن کے پاس برطانیہ میں رہنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ ان میں سزا یافتہ مجرم، وہ افراد جن کی پناہ کی درخواست رد ہو چکی ہو اور جنھوں نے امیگریشن کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہو، شامل ہیں۔

وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ کے مطابق ’وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو برطانیہ سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا۔‘

یہ ’برطانوی عوام کے لیے امیگریشن کے نئے منصوبے‘ کے تحت 15 ماہ میں مجرموں کی واپسی کا پانچواں معاہدہ ہے جس پر برطانوی وزیرِ داخلہ نے دستخط کیے ہیں۔

17 اگست کو پریتی پٹیل نے پاکستان کے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اور برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان سے ملاقات کی اور ایک تقریب کے دوران معاہدے پر دستخط کیے۔

وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے کہا: ’مجھے خطرناک غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن کے مجرموں کو واپس بھیجنے پر کوئی افسوس نہیں ہے، ایسے افراد جن کے پاس برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ برطانوی عوام کافی دیکھ چکی ہے کہ لوگ ہمارے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں اور سسٹم کو گیم (استعمال) کر رہے ہیں تاکہ ہم انھیں ہٹا نہ سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ، جس پر مجھے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ دستخط کرنے پر فخر ہے، ظاہر کرتا ہے کہ امیگریشن کے نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا نیا بارڈرز ایکٹ مزید آگے بڑھے گا اور آخری لمحات کے دعوؤں اور اپیلوں کے چکر کو ختم کرنے میں مدد دے گا، جو (انھیں) ہٹانے میں تاخیر کر سکتے ہیں۔‘

انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں غیر ملکی مجرموں کی ساتویں بڑی تعداد پاکستانی شہریوں کی ہے جو کہ غیر ملکی قومی مجرموں کی کل آبادی کا تقریباً تین فیصد ہیں۔

وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ معاہدہ غیر قانونی نقل مکانی کے مسئلے اور اس سے دونوں ممالک کو لاحق اہم خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے جاری عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

جنوری 2019 سے دسمبر 2021 تک برطانیہ نے عالمی سطح پر 10,741 غیر ملکی مجرموں کو اپنے وطن سے واپس بھیجا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ میں معاہدہ: کن مجرمان کو واپس لایا جا سکتا ہے؟

وزارت داخلہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ایسے مجرمان کو پاکستان واپس لایا جا سکے گا جو پاکستانی شہریت رکھتے ہوں اور ان کو برطانیہ میں کسی عدالت سے سزا ہو چکی ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ بھی اس وقت ممکن ہو گا جب برطانیہ ایسے مجرم کو پاکستان کے حوالے کرنے کی خواہش کا اظہار کرے۔

انھوں نے بتایا کہ اس معاہدے پر 2009 میں بات چیت شروع ہوئی تھی، مگر یہ اب طے پایا ہے۔

کیا نواز شریف کو اس معاہدے کے تحت واپس لایا جا سکتا ہے؟

وزارت داخلہ کے اہلکار نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایسے کیسز کے بارے میں نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان کی عدالت نے سزا سنائی تھی جس کے بعد ان کو عدالت نے ہی برطانیہ سے علاج کروانے کی مشروط اجازت دی تھی۔

وزارت داخلہ کے اہلکار سے جب سوال کیا گیا کہ آیا ایسے کیسز جن میں پاکستان کی کوئی عدالت کسی کو اشتہاری قرار دے چکی ہو لیکن وہ برطانیہ فرار ہو جائے تو کیا اس معاہدے کا اطلاق ایسے کیسز پر ہو گا تو انھوں نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز کے لیے ’ایکسٹراڈیشن معاہدہ‘ ضروری ہے جس پر گذشتہ حکومت کے دوران بات چیت ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف حکومت میں وفاقی کابینہ کی ایک کمیٹی، جس میں وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر احتساب ڈاکٹر شہزاد اکبر اور شیریں مزاری شامل تھیں، نے برطانیہ سے ایکسٹراڈیشن معاہدے کے حوالے سے کام کیا تھا لیکن اس پر موجودہ دور حکومت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔