جان بولٹن: امریکی سابق مشیر کو قتل کرنے کی سازش کے الزام پر ایرانی شہری پر فرد جرم عائد

وقت اشاعت

امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ایک ایرانی شہری پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شہرام پورصافی نامی شخص ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسداران انقلاب کا رکن تھے اور اس مبینہ قتل کی سازش میں مطلوب تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پورصافی ممکنہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کا بدلے لینا چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ دو برس قبل جنوری 2020 کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے 62 سالہ سربراہ جنرل قاسم سلیمانی عراق کے بغداد ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کا حکم امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا۔

انھیں ایران کا سب سے طاقتور اور بااثر فوجی کمانڈر قرار دیا جاتا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی مشرق وسطیٰ میں ایران کی عسکری سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف نے ایرانی شخص پورصافی پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ 45 سالہ ایرانی شہری پورصافی عرف مہدی رضائی نے 'امریکہ میں چند افراد کو جان بولٹن کے قتل کو واشنگٹن ڈی سی یا میری لینڈ میں انجام دینے کے لیے تین لاکھ ڈالرز ادا کرنے کی کوشش کی تھی۔'

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے الزامات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایرانی شخص نے آن لائن ملنے والے ایک امریکی شہری سے کہا تھا کہ وہ جان بولٹن کی تصاویر اتارے مبینہ طور پر اس کتاب کے لیے جو وہ لکھ رہے تھے۔

اس کے بعد نامعلوم شہری نے پورصافی کا تعارف ایک اور شخص سے کروایا تھا جسے بعد میں سابق صدر ٹرمپ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کو قتل کرنے اور قتل کے ویڈیو ثبوت فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔

اپنے ایک بیان میں جان بولٹن نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کا اس بارے میں کام کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل میتھیؤ جی اولسن کا کہنا تھا کہ 'امریکی محکمہ انصاف کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کی ایسے دشمن ممالک سے حفاظت کرنا ہے جو انھیں نقصان یا مارنے کی کوشش کرے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب ہم نے امریکی سرزمین پر کسی ایسے ایرانی منصوبے کو بے نقاب کیا ہو اور ہم ایسے ہر کوشش کو ناکام بنانے اور بے نقاب کرنے کے لے لیے انتھک محنت کرتے رہے گے۔'

یاد رہے کہ ایرانی فوج کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے وقت انھیں ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

قدس فورس، ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک ایلیٹ یونٹ ہے جو براہ راست رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو رپورٹ کرتی ہے جبکہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایک بہادر قومی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔

مگر امریکہ قدس فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے اور اسے سینکڑوں امریکی اہلکاروں کی موت کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔