آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عرب شہریوں کے نزدیک جمہوری نظام میں معیشت کمزور کیوں ہے؟
- مصنف, جیسی ولیمز، سارہ ہیبرشان اور بیکی ڈیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز عریبک اینڈ ڈیٹا جرنلزم
- وقت اشاعت
ایک اہم سروے کے مطابق مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں بسنے والے عرب شہریوں کا اپنے ملکوں میں معاشی استحکام کے لیے جمہوری نظامِ حکومت سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔
عرب بیرومیٹر نیٹ ورک کی طرف سے بی بی سی نیوز عربی کے لیے نو ممالک اور فلسطینی علاقوں میں تقریباً 23,000 لوگوں سے انٹرویو کیے گئے ہیں۔ ان افراد میں سے بیشتر نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جمہوری نظام حکومت میں ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے۔
یہ نتائج عرب ممالک میں نام نہاد ’عرب سپرنگ‘ کے نام سے شروع ہونے والے مظاہروں کے صرف ایک دہائی کے بعد سامنے آئے ہیں جب وہاں جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مظاہروں کے دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد، ان ممالک میں سے صرف ایک ملک تیونس میں جمہوری نظام قائم رہا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے آئین کا مسودہ منظور ہونے کی صورت میں ملک میں واپس آمریت آ سکتی ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی میں قائم ایک تحقیقی نیٹ ورک عرب بیرومیٹر کے ڈائریکٹر مائیکل رابنز جنھوں نے 2021 کے آخر سے 2022 کے موسم بہار کے درمیان یہ سروے کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی یونیورسٹیوں اور پولنگ اداروں کے ساتھ کام کیا، کہتے ہیں کہ سنہ 2018 -19 میں کیے جانے والے سروے کے بعد سے علاقائی سطح پر جمہوریت سے متعلق نظریات میں تبدیلی آئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ جمہوری نظام حکومت اچھا طرز حکومت نہیں ہے اور یہ سب کچھ ٹھیک نہیں کر سکتا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'ہم اس خطے میں جو ایک چیز دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بھوکے ہیں، ان کے پاس خوراک نہیں ہے، انھیں روٹی چاہیے اور وہ اپنے اپنے ممالک میں حکومتی نظام سے پریشان ہیں۔‘
اس سروے میں شامل بیشتر ممالک میں، اوسطاً نصف سے زیادہ جواب دہندگان اس بیان سے متفق ہیں کہ جمہوری نظام میں معیشت کمزور ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سروے کیے گئے ہر ملک میں، آدھے سے زیادہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے متفق یا شدید متفق ہیں کہ انھیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ نظام حکومت کیا ہے مگر انھیں حکومتی پالیسیوں کی افادیت پر زیادہ فکرمند ہیں۔
ای آئی یو ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ انڈیکس میں شامل تمام خطوں میں سب سے نچلے درجے پر ہیں۔ اسرائیل کو 'خامیوں سے بھرپور جمہوریت'، تیونس اور مراکش کو 'ہائبرڈ حکومتوں' کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے، جبکہ باقی کے خطے کو 'آمرانہ نظام حکومت' قرار دیا جاتا ہے۔
سات ممالک اور فلسطینی ریاستوں میں عرب بیرو میٹر کے سروے میں آدھے سے زیادہ جواب دہندگان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 'ان کے ملک کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو کام کرنے کے لیے 'قوانین میں تبدیلی' کر سکے۔'
صرف مراکش وہ واحد ملک تھا جہاں آدھےسے کچھ کم افراد نے اس بات سے اتفاق کیا۔
تاہم فلسطینی ریاستوں، اردن اور سوڈان میں ایسے افراد کی قابل ذکر تعداد تھی جنھوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔
تیونس میں کیے گئے سروے میں دس میں سے آٹھ افراد نے اس سوال سے اتفاق کیا، جبکہ دس میں سے نو افراد نے صدر سعید کی جانب سے جولائی 2021 میں حکومت ختم کرنے اور پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کی۔
اگرچہ صدر سعید کے اس فیصلے کو ان کے مخالفین نے حکومتی تختہ الٹنا قرار دیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کرپٹ سیاسی نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے یہ ضروری تھا۔
تیونس وہ وہاں ملک ہے جو ’عرب سپرنگ‘ کے مظاہروں کے بعد سے جمہوری نظام حکومت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ وہ صدر سعید کی قیادت میں دوبارہ آمرانہ نظام حکومت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ای آئی یو ڈیموکریسی انڈیکس 2021 کی درجہ بندی میں وہ 21 پوائنٹ نیچے چلا گیا تھا اور اسے 'خامیوں سے بھرپور جمہوریت' کی بجائے 'ہائبرڈ حکومت' کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔
تیونس میں یہ سروے اکتوبر اور نومبر 2021 کے درمیان کیا گیا تھا۔ تب سے ملک میں صدر کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، کیونکہ انھوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے، انتخابی کمیشن کا کنٹرول سنبھال کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، اور ایک نئے آئین کے تحت ریفرنڈم کے انعقاد پر زور دیا ہے۔ جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔
جبکہ اس دوران ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔
پرنسٹن سکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے ڈین اور عرب بیرومیٹر کے شریک بانی امانے جمال کہتے ہیں کہ 'بدقسمتی سے اب تیونس آمرانہ نظام حکومت کی جانب واپس جا رہا ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری پسپائی کا شکار ہے، یہ آج پوری دنیا میں ایک رحجان ہے۔'
ان کا مزید کہنا ہے کہ 'میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ آمریت یا آمرانہ سیاسی ثقافت سے وابستگی نہیں ہے، اب وہاں واقعی یہ سمجھا جاتا ہےکہ تیونس میں جمہوریت معاشی طور پر ناکام ہو چکی ہے۔‘
ان سات ممالک اور فلسطینی ریاستوں میں کووڈ کی وبا، کرپشن اور عدم استحکام سے قبل ملکی معاشی صورتحال کو سب سے اہم چیلنج کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ان ممالک میں سے صرف دو ممالک میں معاشی صورتحال کو سب سے اہم نہیں سمجھا جاتا، ان میں سے ایک عراق ہے جہاں لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ بڑا مسئلہ کرپشن ہے جبکہ دوسرا ملک جنگ زدہ لبیا ہے جہاں لوگوں کے نزدیگ سب سے بڑا مسئلہ عدم استحکام ہے۔
جن بھی ممالک میں سروے کیا گیا وہاں کم از کم تین میں سے ایک شخص نے اس بات سے اتفاق کیا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران، ان کے پاس خوراک ختم ہونے سے پہلے ہی مزید خریدنے کے لیے کافی رقم موجود تھی۔
دو وقت کی خوراک کا انتظام کرنے کی مشکل کو سب سے زیادہ مصر اور موریطانیہ کے شہریوں نے محسوس کیا۔ جہاں تین میں سے دو افراد نے کہا کہ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔
اس سروے کا زیادہ تر حصہ فروری میں روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کیا گیا تھا، جبکہ اس حملے کے بعد سے پورے خطے میں خوراک سے متعلق عدم تحفظ مزید بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر مصر، لیبیا اور تیونس میں جن کا زیادہ تر انحصار روسی اور یوکرین کی برآمد کردہ گندم پر ہے۔
اس سروے کے جواب دہندگان جنھوں نے یہ کہا کہ خوراک ختم ہو جانے کے بعد وہ مزید خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں جمہورت کے کم حامی تھے۔ ان میں سے زیادہ تر سوڈان، مریطانیہ اور مراکش کے شہری تھے۔
اس پورے خطے میں معاشی صورتحال تاریک اور سنگین ہے، تمام جواب دہندگان میں سے آدھے سے بھی کم اپنے ملک کی معاشی صورتحال کو اچھا بتانے کے لیے تیار ہیں۔
اس سروے میں لبنان کی درجہ بندی سب سے کم ہے۔ لبنانی شہریوں میں ایک فیصد سے بھی کم نے کہا کہ ان کے ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال اچھی ہے۔ عالمی بینک نے لبنان کے معاشی بحران کو 19سویں صدی کے وسط کے بعد سے دنیا کا سب سے شدید معاشی بحران قرار دیا ہے۔
مجموعی طور پر زیادہ تر لوگوں کو یہ امید نہیں ہے کہ اگلے چند برسوں میں ان کے ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہو گی۔ تاہم کچھ امید ہے۔ چھ ممالک میں، سروے کیے گئے ایک تہائی سے زیادہ شہریوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دو سے تین برسوں میں صورت حال بہتر یا کسی حد تک بہتر ہو جائے گی۔
تیونس کے حالیہ معاشی بحران کے باوجود یہاں کے جواب دہندگان اپنے مستقبل کے بارے میں سب سے زیادہ پر امید ہیں۔ ان میں سے 61 فیصد کا کہنا تھا کہ چند برسوں میں چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی یا کچھ حد تک بہتر ہوئی ہے۔
عرب بیرومیٹر کے ڈاکٹر رابنز کہتے ہیں کہ مستقبل 'غیر یقینی ہے۔' ان ممالک کے شہری کسی متبادل سیاسی نظام کا انتخاب کر سکتے ہیں جیسا کہ چین کا ماڈل۔ ایک آمرانہ، ایک سیاسی جماعت کا نظام۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اس نظام نے گذشتہ 40 برسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکالا ہے۔'
وہ مزید کہتے ہیں کہ 'لوگ اس طرح کی فوری اور تیز معاشی ترقی چاہتے ہیں۔'