آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افریقی سرزمین پر یورپی شہر سوتا اور ملیلہ سپین کے پاس کیوں ہیں؟
- مصنف, ہوزے کارلوس سیتہ
- عہدہ, بی بی سی منڈو
- وقت اشاعت
سوتا اور ملیلہ براعظم افریقہ میں یورپی یونین کے واحد علاقے ہیں اور ان کی سرحدیں نقل مکانی کے بحرانوں اور سفارتی تنازعات کا مرکز رہی ہیں۔
سوتا اور ملیلہ 500 سال سے زیادہ عرصے سے سپین کے پاس ہیں لیکن مراکش سنہ 1956 میں اپنی آزادی کے بعد سے ان پر اپنا دعوی کر رہا ہے۔
بین الاقوامی قانون انہیں کالونیاں تسلیم نہیں کرتا اور اقوام متحدہ اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ یہ ہسپانوی صوبے ہیں۔
مراکش نے رواں برس 17 مئی کو، کورونا کی وبا کی وجہ سے دو سال بعد سوتا اور ملیلہ کے لیے اپنی زمینی گزرگاہیں دوبارہ کھول دیں۔ یہ مراکش اور سپین کے مابین بہتر تعلقات کے نئے دور کی ایک نشانی ہے۔
دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری پیڈرو سانچیز کی سوشلسٹ حکومت کے اس فیصلے کے بعد آئی جس میں انھوں نے مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کے دعوے کو تسلیم کیا۔ مغربی صحارا کا تنازع ایک عرصے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنا ہوا تھا۔
اگرچہ بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرم جوشی سوتا اور ملیلہ پر مراکش کے دعوؤں کو ختم یا کم از کم نرم کر دے گی۔
البتہ جن ماہرین سے بی بی سی منڈو نے بات کی ہے، انھیں یقین نہیں ہے کہ افریقی ملک ان تاریخی دعوؤں کو مکمل طور پر ترک کر دے گا۔
لیکن شمالی افریقہ کے یہ شہر سپین کے کیسے بن گئے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوتا اور ملیلہ ہسپانوی کیسے بن گئے؟
ملیلہ کا تعلق پندرہویں صدی سے سپین سے ہے جبکہ سوتا سترویں صدی سے سپین کا حصہ بن چکا ہے۔
سنہ 1415 میں سوتا اسلامی دنیا کی اہم اقتصادی اور تزویراتی بندرگاہوں میں سے ایک تھی اور صدیوں تک اس پر مختلف بربر اور عرب خاندانوں کا کنٹرول رہا۔
لیکن جب سپین پر سات صدیوں پر محیط مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہو رہا تھا اور عیسائی حکمران جزیرہ نما آئبیریا پر دوبارہ قبضہ کر رہے تھے، پرتگال نے سوتا پر قبضہ جما لیا۔
ایک صدی بعد سنہ 1580 میں پرتگال اور سپن کے شاہی خاندانوں میں الحاق ہو گیا جسے آئبیرین یونین کہا جاتا ہے، اس طرح سوتا بھی ہسپانوی حکمرانی کا حصہ بن گیا۔ پرتگال اور سپین کی یونین کے تحلیل ہونے کے بعد سپین نے سوتا کو اپنے پاس رکھا.
ملیلہ کو سنہ 1497 میں کاسٹیلین بادشاہت نے فتح کیا تھا۔ غرناطہ میں آخری مسلمان حکمران کو شکست دینے اور سپین میں مسلمانوں کی حکمرانی کے مکمل خاتمے کے بعد اراگون فرڈینینڈ II اور ازابیلا اول کے حکم سے ایک بحری بیڑا ساحلی شہر ملیلہ بھیجا گیا۔
سوتا اور ملیلہ کا مسلمانوں سے چھن جانا بہت سے مسلمانوں کے لیے شکست اور ذلت کی دردناک یادیں ہیں۔
سپین کے سوتا اور ملیلہ کی اہمیت کیا ہے؟
سپین کے توسیع پسندانہ عزائم کے لیے شمالی افریقہ کے ان علاقوں میں موجودگی ضروری تھی۔ سپین کے لیے آبنائے جبرالٹر کے ذریعے بحیرہ روم کے داخلی راستے کو کنٹرول کرنا ایک دفاعی ترجیح تھی۔
سیویا کی پابلو ڈی اولاویڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے مورخ مینوئل ٹوریز سوریانو نے بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے کہا ’جزیرہ نما سے قربت اور آبنائے جبرالٹر سے گزرنے والے راستے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے سپین کے لیے سوتا اور ملیلہ کی کافی اہمیت تھی۔‘
مینوئل ٹوریز کا مزید کہنا تھا کہ سوتا آبنائے جبرالٹر کے بالکل دوسری طرف اور سپین کے ساحل سے صرف 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ ملیلہ بحری قزاقی کے خطرے سے نمٹے کے لیے بہت اہم ہے۔ بحری قزاقی سپین کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔
سپین کی سوتا اور ملیلہ میں پانچ صدیوں سے لگا تار موجودگی کی وجہ سے سپین ان دونوں شہروں کو اپنے اٹوٹ حصے تصور کرتا ہے۔
مینوئل ٹوریز کہتے ہیں ’اب ایک مستحکم آبادی کے ساتھ، سوتا اور ملیلہ سپین کے کسی بھی دوسرے علاقے کی طرح ہسپانوی ہیں۔‘
فوجی تعلق
20ویں صدی کے پہلے نصف میں سوتا اور ملیلہ کا تزویراتی جغرافیہ ایک بار پھر سپین کے عسکری مقاصد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
1912 اور 1956 کے درمیان، سپین اور فرانس شمالی افریقہ کے ایک حصے کے انچارج تھے جس میں موجودہ مراکش کے بڑے علاقے شامل تھے۔
تاریخ دان مینوئل ٹوریز بتاتے ہیں: ’دونوں شہر موجودہ مراکش میں سپین کی نوآبادیاتی انتظامیہ کا مرکز تھے۔ وہ اس علاقے کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اور فوجی اڈے تھے۔‘
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ سنہ 1936 میں سپین میں خانہ جنگی کا آغاز ملیلہ میں فوجی بغاوت کے بعد ہوا تھا۔
سوتا اور ملیلہ میں سپین کے بہترین فوجی تعینات کیے جاتے تھے جس نے گیریژنوں کو متاثر کیا۔ سپین کی سول وار کا اختتام سنہ 1939 میں ریپبلکن پارٹی پر فرانکو کے دستوں کی فتح کے ساتھ ہوا۔
شمالی افریقہ میں ہسپانوی محافظ ریاست سنہ 1956 تک قائم رہی جب مراکش نے اپنی آزادی حاصل کی اور ایک ایسی ریاست ابھری جسے آج ہم مراکش کے نام سے جانتے ہیں۔ سپین نے ایک علاقہ مراکش کو دیا لیکن سوتا اور ملیلہ سپین کے پاس ہی رہے۔ ۔
مراکش سوتا اور ملیلہ پر دعویٰ کیوں کرتا ہے؟
آزادی کے حصول کے بعد سے، مراکش نے اکثر سوتا اور ملیلہ میں ہسپانوی قبضے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مراکش کا دعوی عظیم مراکش کے خیال پر مبنی ہے جس میں شمالی افریقہ کے دیگر علاقوں جن میں مغربی صحارا بھی شامل ہیں جن وہ اپنی حاکمیت کا دعوی کرتا ہے۔ لیکن جب مراکش نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا تو اقوام متحدہ نے مراکش کے دعوے کو رد کر دیا۔
مراکش کے ایک سیاسی تجزیہ کار سمیر بینیس بتاتے ہیں کہ، سپین اور فرانس سے آزادی کے بعد، مراکش سمجھتا تھا کہ سوتا اور ملیلہ کے مستقبل کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔
اب سپین ان دو شہروں پر کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکاری ہے۔ سپین کا اصرار ہے کہ دونوں شہر پانچ صدیوں سے زیادہ عرصے سے ہسپانوی ہیں اور یہ ہسپانوی ریاست کا لازمی حصہ ہیں۔.
تاہم، بینس تاریخی نقطہ نظر سے ہسپانوی پوزیشن پر سوال اٹھاتے ہیں۔
بینس نے بی بی سی منڈو کو بتایا:’’زیادہ تر تاریخ کے دوران، ان دو شہروں کو کبھی بھی مکمل طور پر ہسپانوی شہر نہیں سمجھا گیا۔ ان کی حیثیت فوجی قلعوں اور کھلی جیلوں کی تھی جہاں لوگوں کو سزا سنا کر بھیج دیا جاتا تھا۔
بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟
ماہرین نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ سوتا اور ملیلہ پر مراکش کے دعوؤں کے گرد بہت سی سیاست چل رہی ہے اور یہ صرف قانونی مسئلہ نہیں ہے۔
درحقیقت، یہ دو شہر ہی نہیں ہیں جن پر مراکش اور سپین کا جھگڑا ہے۔
سپین مراکش کے ساحل کے قریب، ویلز ڈی لا گومیرا چٹان، الہوسیمس چٹان، چفاریناس جزائر اور پیریجیل کے جزیرے کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
سوتا اور ملیلہ کے برعکس، ان علاقوں میں کوئی آبادی نہیں ہے۔ ویلز ڈی لا گومیرا میں ایک فوجی اڈہ ہے، لیکن کوئی شہری آبادی نہیں ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے بین الاقوامی قانون کے ماہر جیمی ٹرینیڈاڈ نے بی بی سی منڈو کو بتایا"یہ بہت اہم ہے۔ مراکش کے لیے سوتا اور ملیلہ کی نسبت آبادی کے بغیر علاقوں کا دعوی کرنا ہمیشہ آسان ہوگا،"
بین الاقوامی قانون کے ماہر جیمی ٹرینیڈاڈ کہتے ہیں: ’’سپین کا قانونی موقف یہ ہے کہ مراکش کے ایک ریاست بننے سے بہت پہلے یہ شہر ہسپانوی بن گئے تھے۔ اور، قانون کے تحت، ان علاقوں کو کالونیاں تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ہسپانوی آئین کے اندر وہ سپین کے اندر مکمل طور ضم ہو چکے ہیں۔
جیمی ٹرینیڈاڈ کہتے ہیں"قانونی لحاظ سےیہ علاقے ہسپانوی ہیں ۔ مراکش کے لیے اس حیثیت کو تبدیل کرانا بہت مشکل ہو گا، حالانکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملی کے طور پر اپنے دعوؤں کو زندہ رکھے گا۔"
ماہر تعلیم کا خیال ہے کہ مراکش کے لیے مغربی صحارا سوتا اور ملیلہ پر دعوؤں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اگرچہ مراکش کو افریقی یونین جیسی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے، لیکن وہ ایک جذباتی مسئلے کی وجہ سے ہیں کیونکہ سوتا اور ملیہ افریقی سرزمین پر آخری یورپی شہری ہیں۔
سوتا اور ملیلہ میں کیسے رہنا ہے؟
سوتا اور ملیلہ کے پاس سپن کے خطے کاتالونیا، باسکی، اندلس کی طرح خود مختاری بھی ہے لیکن ان کی حکومت ایک مقامی کونسل اور ایک خود مختار کمیونٹی کے درمیان کی ایک ملی جلی چیز ہے۔
تاریخ دان مینوئل ٹوریز کہتے ہیں: "ان دونوں شہروں کی ایک مخصوص حیثیت ہے جس کا کسی دوسرے علاقے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے پاس سٹی کونسل سے زیادہ اختیارات ہیں لیکن یہ خود مختاری اُس سطح تک نہیں پہنچ سکتی جو ایک خود مختار کمیونٹی کے پاس ہو سکتی ہے۔ "
ہسپانوی ریاست ان دو شہروں کے منفرد کردار کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں مونسپلٹی سے کہیں زیادہ سیاسی وزن دیتی ہے۔
ٹوریز بتاتے ہیں کہ سوتا اور ملیلہ کے بہت سے شہریوں کا مراکشی نژاد ہونا اور اسلام کے پھیلاؤ کے باوجود اب تک وہاں قومی شناخت کا کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا ہے۔
"درحقیقت سوتا اور ملیلہ کے مراکشی نژاد شہری اپنی ہسپانوی شناخت اور اپنے حقوق اور آزادیوں کے حوالے سے خود کو بہتر محسوس کرتےہیں۔
"ان شہروں کی اکثریت مراکش کے دعوؤں کو ایک خطرے کے طور پر محسوس کرتی ہے نہ کہ ایسی چیز کے طور پر جس پر بحث کی جا سکے۔"
تاہم، بعض اوقات ہسپانوی ریاست نے ان دونوں شہروں کو نظر انداز کیا ہے۔ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، دونوں شہروں میں فی کس آمدن سپین کے باقی شہروں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔
ان کی مخصوص حیثیت انہیں مراکش میں ہونے والے واقعات سے متاثر کرتی ہے۔ اس کے باشندوں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زیر زمین تجارت اور ممنوعہ اشیا پر ہے جو کئی دہائیوں سے سرحد کے دونوں جانب چل رہی ہے۔
مزید برآں یہ افریقہ سے یورپی یونین میں داخل ہونے کا واحد زمینی راستہ ہیں، اسی وجہ ہر سال ہزاروں تارکین وطن وہاں پہنچتے ہیں۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مراکش نے سوتا اور ملیلہ کی مخصوص صورتحال کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔.
2021 کے موسم بہار میں، تقریباً 8,000 تارکین وطن نے ایک ہی دن میں سرحد عبور کی۔ اس واقعے نے سپین اور مراکش کے درمیان ایک سنگین سفارتی بحران کو جنم دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی حکومت کو اپنی سرحدوں پر اضافی کمک بھیجنا پڑی۔.
رواں برس مارچ میں سپین اور مراکش کے تعلقات بحال ہونےکے بعد 24 جون ایک بار پھر تارکین وطن نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی جس میں کم از کم 23 تارکین وطن ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کوشش میں مرنے والوں کی 37 بتائی ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مراکشی فورسز نے تارکین وطن کی بڑی تعداد کو لاٹھیوں، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے روکنے کی کوشش کی۔
حالیہ برسوں میں، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں، سوتا اور ملیلہ سپین کے استحکام کے لیے ایک خطرہ بن گئےہیں۔
مراکش نے مارچ 2020 میں کورونا کی وبا کی وجہ سے ان دونوں شہروں کے اپنی سرحدوں کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور پھر انھیں دو سال بعد، 17 مئی کو دوبارہ کھولا ہے۔ پابندیوں کے دوران ان دونوں شہروں کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا اور ان کا مراکش پر اور زیادہ انحصار ہو گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوتا اور ملیلہ آبزرویٹری نے سپین کی حکومت سے ان شہروں کے معاشی ماڈل کو تبدیل کرنے اور مستقبل میں بحرانوں سے بچنے کے لیے ان کا مراکش پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایک نیا مرحلہ؟
سپین کی طرف سے مغربی صحارا کے حوالے سے مراکش کی خود مختاری کے منصوبے کو تسلیم کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔
مغربی صحارا کا علاقہ 1975 تک سپین کی کالونی تھا۔ اس علاقے کی حیثیت کا تنازعہ موجود ہے۔ مراکش کا دعوی ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے جبکہ صحاراوی عوام ایک آزاد ملک کا مطالبہ کرتے ہیں۔
1991 میں، اقوام متحدہ نے وہاں لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک خصوصی مشن تشکیل دیا جس کا مقصد ایک ریفرنڈم کا انعقاد کرنا تھا جس میں صحاراوی عوام آزادی یا مراکش سے الحاق کے درمیان انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم آج تک ریفرنڈم کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
سپین نے کئی دہائیوں کے بعد مغربی صحارا کے بارے میں اپنی غیر جانبداری کی پالیسی کو ترک کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر ملک کے اندر تنقید ہوئی ہے۔ سپین کی مغربی صحارا کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے الجزائر کے ساتھ ایک سفارتی الجھاؤ پیدا ہو گیا ہے ۔ الجزائر مراکش کا ایک تاریخی حریف ہے جو تنازعہ کے صحاراوی عوام کی حمایت کرتا ہے۔
مغربی صحارا کے حوالے سے سپین کی پوزیشن میں تبدیلی سے تعلقات میں آنے والی بہتری کا مطلب ہے کہ سوتا اور ملیلہ پر مراکش کے دعوے نرم پڑ سکتے ہیں ۔
سوتا اور ملیلہ کی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر اور نیشنل یونیورسٹی آف ڈسٹنس ایجوکیشن میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر کارلوس ایچیوریریا کے خیال میں صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی ہے۔
پروفیسر کارلوس ایچیوریریا کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں ملک کے تعلقات میں بہتری سے امن کا ایک دور شروع ہو گا لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امن کے دور کا استحکام یقینی ہے۔ اس کی تصدیق چاہیے ہو گی۔"